عقیل یوسفزئی
پاکستان کی حکومت سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے کاری میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر سے پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور یہ کہ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں مگر دوسروں کو بھی آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے ۔
دوسری جانب اگر ایک جانب بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ دنوں مختلف لیڈروں سے ملاقاتیں کیں تو پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے بھی مذاکرات کیے اور مولانا فضل الرحمان نے متحدہ اپوزیشن کے قیام کی نوید سنائی حالانکہ اگر ایک طرف ماضی میں مولانا بانی پی ٹی آئی کو یہودی ایجنٹ کہتے رہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے بانی اور لیڈر مولانا کو نامناسب الفاظ سے مخاطب کرتے رہے ۔ تاہم سیاست میں یہ سب کچھ نیا نہیں ہے اور نہ صرف یہ کہ سب قائدین اور اسٹیک ہولڈرز کو ملک اور عوام کی خاطر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔
گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی ، متعدد وفاقی سیکرٹریوں اور پولیس سربراہان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر خصوصی مشاورت کی گئی ۔
گزشتہ رات خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت پی ٹی آئی کے بانی کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جس سے یقینی طور پر سیاسی درجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور گورننس پر بھی توجہ مرکوز کرے کیونکہ صوبے کو بہت سے چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے ۔


