Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, August 28, 2026

صحت پر سیاست

وصال محمدخان
گزشتہ کچھ عرصے سے پی ٹی آئی کی سیاست بانی کی صحت کے گردگھوم رہی ہے۔ہردوسرا راہنماصبح اٹھکرنہارمنہ یہ بیان جاری کرناضروری سمجھتاہے کہ بانی کوجیل میں سہولیات دستیاب نہیں،انکی صحت دن بدن گرتی چلی جارہی ہے،ان سے فیملی کی ملاقاتیں بندکردی گئی ہیں اور بانی اب اس دنیامیں نہیں رہے۔اسی بیانئے کی بنیادپر پوری سیاست کی عمارت کھڑی کی گئی ہے کوئی سیاسی اجتماع ہو،اسمبلی کافلورہو،پریس کانفرنس ہویاٹی وی ٹاک شوہوہرجگہ یہی بیانات دوہرائے جاتے ہیں اوراسی پربحث کاسلسلہ شروع ہوکرختم ہوتاہے کہ حکومت نے بانی کو قیدتنہائی میں رکھاہواہے،انہیں کتابیں نہیں دی جارہیں اورانکوصحت کے سنجیدہ مسائل کاسامناہے مگرانہیں ہسپتال منتقل نہیں کیاجارہا اور علا ج کی سہولیات میسرنہیں۔گزشتہ دسمبرمیں بانی کی ہمشیرہ ڈاکٹرعظمیٰ خان نے انہی معاملات کولیکرسپریم کورٹ سے رجوع کیا۔جہاں سے تین رکنی بنچ نے 18اگست کوحکم جاری کیاکہ بانی کوشفاہسپتال منتقل کیاجائے،ان سے فیملی کی ملاقات کروائی جائے اورانکی صحت کے حوالے سے عدالت کورپورٹ پیش کی جائے۔جن معاملات کیلئے عدالت عظمیٰ نے حکم جاری کیاان پرپہلے سے عملدرآمدہورہاہے۔گزشتہ تین سالو ں میں 30باران کاطبی معائنہ ہوچکاہے،انکی اپنی بیگم بشریٰ بی بی سے 84 ملاقا تیں کروائی جاچکی ہیں، ہمشیراؤں،وکلااورسیاسی راہنماؤں کی ملاقاتوں کاحساب کیاجائے توگزشتہ تین برسوں میں اتنی ملاقاتیں ہوچکی ہیں کہ یہ اوسطاًہرروزتین ملاقاتیں بنتی ہیں۔جہاں تک قید تنہائی میں رکھنے کامعاملہ ہے تواتنی ملاقاتوں کے باوجوداگراس پرتعیش قیدکوقیدتنہائی کہاجارہاہے تویہ نہ صرف زیادتی بلکہ حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔انہیں بی کلاس کا جو بارک دیاگیاہے اس میں 35افرادکی گنجائش موجودہے۔ملک بھرکے جیلوں اورقیدیوں کی کثیرتعداد کاذکرہو تو اس وقت ملکی جیلوں میں 65 ہزارافرادرکھنے کی گنجائش موجودہے مگر1لاکھ 2ہزار سے زائدقیدی ٹھونس دئے گئے ہیں۔جس ملک میں 100 قیدیوں کی جگہ 155قیدی رکھے جاتے ہوں اسی ملک میں ایک سابق وزیراعظم کواکیلے ہی 35افرادکی گنجائش والی جگہ الاٹ کی گئی ہے جس میں ائیرکولر،ورزش کا سامان،من پسندکھانے اورمشقتتیوں کی سہولت بھی میسرہے۔اسکے باوجودسہولیات نہ ہونے کا رولا ڈالکرکبھی ہائیکورٹ اورکبھی سپریم کورٹ سے رجوع کیاجاتاہے توکبھی میڈیاپرظلم وجبرکی فرضی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ایک جانب ڈٹ کرکھڑاہے کے نعرے لگائے جاتے ہیں تودوسری جانب تیزابیت، ٹینشن،پریشانی اورذہنی تناؤکولاعلاج بیماریاں قراردیکرنجی ہسپتال منتقلی کیلئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیاجاتاہے اگرکوئی فردجیل میں ذہنی تناؤکاشکارہے تواس کاواضح مطلب یہی ہے کہ وہ مزیدقید بردا شت کرنے کے قابل نہیں نوازشریف کی مثال دی جاتی ہے مگرانہیں توشوگر،گردوں کے امراض اوردل کے کئی والوبندہونے جیسی سنجیدہ بیماریاں لاحق تھیں اوپرسے سرکاری ہسپتال کی رپورٹ میں پلیٹ لٹس مسلسل گرنے کی تصدیق بھی ہوگئی جس سے واضح تھاکہ انکی زندگی کو خطرہ ہے مگر بانی پی ٹی آئی کوایساکوئی جان لیوامرض لاحق نہیں یہ ٹینشن،انزائٹی،بلڈپریشرلواورہائی ہونااورتیزابیت جیسے امراض تو80فیصد پاکستانیو ں کولاحق ہیں ان معمولی امراض کیلئے سپریم کورٹ کاوقت ضائع کیاجاتاہے اورانہیں بڑھاچڑھاکرجان کوخطرہ بناکرپیش کیاجارہا ہے۔یعنی خودہی سوشل میڈیاپر لا علاج بیماریوں کاڈھنڈوراپیٹاجاتاہے، انکے موت کی خبرسامنے لائی جاتی ہے اوراسی لغوپروپیگنڈے کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ سے رجوع کیاجاتاہے اورجب عدالتی حکم پرطبی معائنہ ہوتاہے تودرخواست گزارخودہی انہیں مکمل اورسپرفٹ قرار دے دیتاہے۔پی ٹی آئی نے بانی کو شفاہسپتال منتقل نہ کرنے پر سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکی ہے حالانکہ سپریم کورٹ کو انہیں توہین عدالت کانوٹس دینا چاہئے کہ انہوں نے سوشل میڈیاپروپیگنڈے کوعدالت کیسامنے حقیقت بناکرپیش کیامگرطبی معائنے میں ایسا کوئی مرض سامنے نہیں آیاجس کیلئے کسی قیدی کوہسپتال منتقل یاداخل کیاجائے اورہسپتال بھی سرکاری نہیں بلکہ نجی ہو۔یہاں یہ امربھی باعث حیرت ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کی جودرخواست دائرکی گئی ہے اس میں وزیراعظم،وزیراطلاعات اوروزیرقانون کو فریق بنایاگیا ہے حالانکہ ہسپتال منتقلی ان افرادکی ذمہ داری ہی نہیں تھی نہ ہی انہوں نے منتقل کیا،نہ ہی روکا،نہ ہی ریکارڈ پرانکی جانب سے ایسے احکامات موجودہیں اورنہ ہی عدالت نے ان تینوں میں سے کسی کوحکم دیاکہ وہ بانی کوہسپتال میں داخل کروائیں۔ پی ٹی آئی راہنما جو اٹھتے بیٹھتے یہ بیانات جاری کرتے رہتے ہیں کہ صحت پرسیاست نہیں ہوگی،صحت پرسیاست نہیں ہونی چاہئے مگردھڑلے سے اسی صحت پر سیاست کی جاتی ہے اورجو بیماری موجودہی نہیں اس پربیانات جاری ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس پارٹی کے پاس عوام کودکھانے کیلئے کوئی کارنامہ نہیں،گڈ گورننس کی کوئی مثال موجودنہیں،اسلئے سیاست بازی کیلئے یہی حربہ ہاتھ لگا ہے کہ بانی کی صحت خراب ہے،انہیں سہولیات دستیاب نہیں اور انہیں ذہنی تناؤکاسامناہے۔درحقیقت پی ٹی آئی کی سیاست میں خدمت نام کی کوئی چیز موجود نہیں اسلئے بانی کی صحت پرسیاست کی جارہی ہے اوراب عدالت عظمیٰ کوبھی سیاسی اکھاڑابنانے کی کوشش ہورہی ہے۔عدالت کوان حالات کاادراک کرتے ہوئے نہ صرف توہین عدالت کی درخواست مسترد کردینی چاہئے بلکہ درخواستگزاروں کوصحت کے حوالے سے جھو ٹ بولنے پرجرمانہ عائدکرناچاہئے۔ایک صحتمند آدمی کوشدیدبیمارظاہرکرکے عدالت کودھوکہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔عدالت کوسیاسی اکھاڑے میں تبدیل کرنیکی غلط روایت کاخاتمہ ہونا چاہئے۔صحت پرسیا ست کرنیوالوں کاراستہ روکنے اور عدالت عظمیٰ کوسیاسی اکھاڑہ بنانے کی نارواروش کاخاتمہ اوران روئیوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

صحت پر سیاست

Shopping Basket