FC Forte Shabqadar

ایف سی قلعہ شبقدر میں تاریخی ایونٹ

ایف سی قلعہ شبقدر میں تاریخی ایونٹ
عقیل یوسفزئی
فرنٹیئر کانسٹیبلری ایک طویل تاریخی پس منظر رکھنے والا قابل تعریف ادارہ رہا ہے اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز میں اس ادارے کو کئی حوالوں سے ایک منفرد مقام حاصل ہے ۔ گزشتہ روز ایف سی قلعہ شبقدر میں ایک تاریخی شہداء پریڈ اور تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ متعدد اہم شخصیات کے علاوہ فرنٹیئر کور کے سربراہ میجر جنرل نور ولی خان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ کمانڈنگ فرنٹیئر کانسٹیبلری معظم جاہ انصاری نے اپنی متحرک ٹیم کے ہمراہ اس ایونٹ کو یادگار بنانے کے لیے روایتی انداز میں زبردست انتظامات کیے ہوئے تھے تاہم سب سے اچھی بات یہ تھی کہ پشاور کے سینئر صحافیوں کی بڑی تعداد کو پہلی بار اس بہانے 1837 کو قائم کئے گئے اس تاریخی قلعہ کو دیکھنے کا موقع ملا ۔ معظم جاہ انصاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایف سی کی تاریخ، کردار، اہمیت اور قربانیوں کو بہت جامع انداز میں پیش کیا جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس اہم ادارے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بعض دیگر اقدامات اور اعلانات کے علاوہ شہداء پیکج 30 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کرنے کا اعلان کیا جس کی تمام شرکاء نے خیر مقدم کیا کیونکہ ایف سی سمیت خیبرپختونخوا میں فرائض سرانجام دینے والے تمام اداروں نے امن کے قیام کے لیے بے مثال کردار ادا کرتے ہوئے بہت قربانیاں دی ہیں اور شہداء پیکج میں اضافے کے اقدام سے ان اداروں کی قربانیوں کا عملی اعتراف ہوگا۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ فرنٹیئر کانسٹبلری کی قیادت معظم جاہ انصاری جیسے اس متحرک آفیسر کے ہاتھوں میں ہے جن کو بہت کھٹن حالات میں نہ صرف یہ کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی پولیس فورسز کی قیادت کا اعزاز حاصل رہا ہے بلکہ وہ ان دو حساس صوبوں کی سیکورٹی نزاکتوں اور چیلنجز کے علاوہ یہاں کی رسم ورواج اور ثقافت سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں ۔ شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ گزشتہ روز کے ایونٹ کے دوران ہر قدم پر ایف سی کا ثقافتی رنگ پورے اہتمام کے ساتھ نظر آیا اور شرکاء نے اس تاریخی ایونٹ سے بہت لطف اٹھایا۔

CM KP ali amin gandapur and governor faisal kareem kundi

گورنر خیبرپختونخوا کا سخت جواب

گورنر خیبرپختونخوا کا سخت جواب
عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایف ایم سنو پختونخوا کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور وزارت اعلیٰ اور جیل میں قید اپنے لیڈر کے مختلف نوعیت کے معاملات میں پھنس کر ڈپریشن کا شکار ہوگئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ گورنر راج سمیت دیگر اقدامات کے ذریعے ان کو اور ان کی پارٹی کو سیاسی شہید بنایا جائے تاہم ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی تاہم اگر کسی نے بھی کسی احتجاج کی آڑ میں 9 مئی جیسے واقعات کا راستہ ہموار کرنے کی مہم جوئی کی تو انہیں پوری ریاستی طاقت کے ذریعے کچلا جائے گا کیونکہ صوبے کے وزیر اعلیٰ نہ صرف یہ کہ 9 مئی کے حملوں کے منصوبہ سازوں میں شامل ہیں اور وہ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں بلکہ ان پر اپنے ایک ممبر صوبائی اسمبلی سمیت بعض دیگر کو قتل کرانے کے الزامات بھی ہیں۔ گورنر نے مذکورہ انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ وہ صوبے کے حقوق کی حصول، امن کے قیام اور بعض اہم پراجیکٹس کے لیے تمام سیاسی قوتوں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کی پلاننگ کررہے ہیں اور صوبے کو ایک ڈپریشن زدہ وزیر اعلیٰ کی رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز ان کے ساتھ صوبے کے مسائل حل کرنے میں بھرپور تعاون کررہے ہیں اور متعدد اہم فیصلے اور پیکجز پایپ لاین میں ہیں جن میں بجلی ، پانی کے بقایاجات اور قبائلی اضلاع کی تعمیر نو اور انتظامی ضروریات کی فراہمی بھی شامل ہیں ۔ گورنر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فورسز کے جو جوان اور آفیسرز عوام اور ملک کے امن کے لیے جانیں دے رہے ہیں صوبائی حکمران ان کی قربانیوں سے لاتعلق ہیں اور ان کا تمام فوکس اس بات پر ہے کہ دھمکیاں دیکر اپنی نااہلی اور ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹادی جائے۔
گورنر کا یہ انٹرویو اسی دن سامنے آیا جب وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اس سے چند گھنٹے قبل پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے بارے میں انتہائی سخت اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کیے تھے اور ان کا لب و لہجہ کسی بھی طور صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کے شایانِ شان نہیں تھا ۔ گورنر اور دیگر اہم حکومتی شخصیات کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے جو الفاظ استعمال کیے گورنر نے انتہائی تحمل کے ساتھ ان کے نہ صرف جوابات دیے بلکہ ان پر دو تین ایسے سنگین الزامات بھی لگائے جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور شاید یہی وجہ ہے کہ مین سٹریم میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا کے سنجیدہ حلقوں نے بھی گورنر کے الزامات کو درست مگر تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس بات کا نوٹس لینے کی ضرورت پر زور دیا کہ طالبان کو بھتہ دینے جیسے سنگین نوعیت کے الزام پر اس لیے خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی کہ صوبے کو ایک فیصلہ کن جنگ کا سامنا ہے اور ایسے میں اس صوبے کے وزیر اعلیٰ کے بارے میں اس قسم کا دعویٰ کرنا انسداد دہشتگری کی تمام کارروائیوں پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ گورنر کے انٹرویو کے اگلے روز سے این پی کے صوبائی صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین نے بھی اسی نوعیت کے ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کی نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردیاں ہیں اور عمران خان کی حکومت میں ہزاروں دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لایا گیا بلکہ ان کے بقول 2013 کے بعد ہر انتخابی مہمات میں ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی کے حق میں باقاعدہ مہم چلاتے ہوئے دہشت گردی کی مخالفت کرنے والوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی۔
میاں افتخار اور گورنر کے ان مشترکہ نکات، دلائل اور خدشات کو زمینی حقائق اور جاری چیلنجز کے تناظر میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر بے چینی بڑھتی جارہی ہے تاہم سب سے افسوسناک بات وزیر اعلیٰ کا وہ لہجہ اور رویہ ہے جو کہ انہوں نے اختیار کر رکھا ہے کیونکہ ان کے جارحانہ انداز تخاطب کا کسی بھی طور دفاع نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لیے ان سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ غیر ضروری تصادم اور کشیدگی سے گریز کرتے ہوئے صوبے کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کریں اور چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

9 may dg ispr press conference

فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں اہم فیصلے

جمعرات کے روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں فارمیشن کمانڈرز کی اہم کانفرنس آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات ، درپیش چیلنجز ، سکیورٹی صورتحال اور بعض واقعات سمیت بہت سے دیگر ایشوز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم معاملات پر اس اعلیٰ ترین عسکری فورم پر مشاورت اور تجاویز کا تبادلہ کیا گیا ۔ آئی ایس پی آر کی جاری کردہ تفصیلات سے جو خلاصہ نکالا جاسکتا ہے اس کے مطابق 9 مئی کو کی جانیوالی شرپسندی میں ملوث ملزمان اور ان کے منصوبہ سازوں کو قانون کے تحت سخت سزائیں دینے کو ناگزیر قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا جاسکتا ۔ یہ موقف نہ صرف بالکل دوٹوک ہے بلکہ اس سے یہ بات پھر سے واضح ہوگئی ہے کہ عسکری قیادت 9 مئی کے واقعات کو نہیں بھولی ہے اور جو پارٹی ان حملوں میں ملوث ہے اس کے ساتھ بعض عدالتی رعایتوں کے باوجود کسی قسم کے کمپرومائز کو تیار نظر نہیں آرہی ۔ یہ اس لیے بھی لازمی ہے کہ اگر ان افسوس ناک واقعات میں ملوث ملزمان اور منصوبہ سازوں کو سزائیں نہیں ملیں تو آئندہ کے لیے دوسرے بھی ریاست پر دبائو ڈالنے کے لیے یہی حربے استعمال کرنے لگ جائیں گے اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی ریاست یا اس کی افواج اس قسم کے رویوں کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوسکتیں ۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ جس روز کور کمانڈر کانفرنس میں اس ایشو پر سخت اور واضح موقف آیا اسی دن پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کو 9 مئی ہی کے 2 کیسز میں بری کردیا گیا ۔ کانفرنس میں انسداد دہشتگری کی جاری کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے جاری سلسلے پر بھی نہ صرف بحث کی گئی بلکہ اس پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ۔ قبائلی علاقوں کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران جس پیمانے پر متاثر ہوئے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے جذبوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کی گئی اور فورسز کے شہدا کی قربانیوں کا بھی اعتراف کرتے ہوئے جاری کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے مسائل کے حل پر بھی بحث کی گئی اور اس عزم کا کھل کر اظہار کیا گیا کہ ان علاقوں کی تعمیر وترقی اور امن کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور ان اقدامات کو یقینی بنانے میں پاکستان کی افواج بھرپور حصہ لیں گی ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ اعلیٰ عسکری قیادت کو قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے معاملات اور مسائل کا ادراک ہے اور پرعزم ہے کہ ان علاقوں کی تعمیر وترقی پر توجہ دی جائے گی ۔ ملک کی معیشت کی بحالی اور اقتصادی چیلنجز پر بھی فورم میں تبادلہ خیال کیا گیا اور سول حکومتوں کو افواج پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دھانی کرائی گئی ۔

سیاسی اور انتظامی کشیدگی میں اضافہ

سیاسی اور انتظامی کشیدگی میں اضافہ
عقیل یوسفزئی
یہ بات قابل تشویش ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ملک میں جاری کشیدگی ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی اس پر ستم یہ کہ اظہار رائے سے متعلق بعض امور اور اقدامات کو ایک بار پھر زیر بحث لاکر تنقید کا نشانہ تو بنایا جارہا ہے تاہم کوئی بھی فریق اس بات پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ پاکستان میں اظہار رائے کے نام پر بعض حلقوں کی جانب سے جو انتشار گردی جاری ہے اس نے پاکستان کی سیاست اور معاشرت دونوں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اعلیٰ عدلیہ کو پھر سے شدید نوعیت کی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور لگ یہ رہا ہے جیسے ایگزیکٹیو اور جوڈیشری ایک دوسرے کی مدقابل آکر ایک دوسرے کو نیچے دکھانے کی کوشش میں ہیں ۔ بعض جج صاحبان نے اپنی ریمارکس میں غیر ضروری طور پر بعض ایسے کلمات ادا کیے جس کے نتیجے میں حکومت کو بھی کھل کر سامنے آنا پڑا اور میڈیا نے بھی اس تلخی کو مزید بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اداروں کے درمیان تصادم کو جان بوجھ کر بڑھانے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے تاہم اس بات کا بہت کم لوگوں کو احساس ہے کہ اس تمام کشیدہ صورتحال کے نتیجے میں پورے سسٹم کو لپیٹا جاسکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری کشیدگی بڑھانے والے فریقین پر ہی عائد ہوگی۔
تشدد ، پروپیگنڈے اور غیر ضروری بیانات، الزامات نے پورے معاشرے کو زنگ آلود کرکے رکھ دیا ہے اور تشویش اس بات کی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے علاوہ اہم ریاستی اداروں کی باہمی کشمکش نے پرتشدد واقعات میں اضافے کا راستہ ہموار کردیا ہے اور کسی کے ساتھ کسی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ اس ضمن میں گزشتہ شام پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان رؤف حسن کے ساتھ پیش آنے والا وہ افسوسناک واقعہ ہے جس کے دوران ایک مخصوص ” گروپ” نے ان پر حملہ کرتے ہوئے زخمی کیا اور اس پارٹی کے بانی سمیت اکثریت نے حقائق جانے اور تفتیش کرنے سے قبل منٹوں کے اندر حسب معمول بعض اہم اداروں پر اس حملے کی ذمہ داری ڈال کر مخالفانہ مہم شروع کردی۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بعض وہ حلقے بھی میدان میں کود پڑے جو کہ مذکورہ پارٹی کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ اسی دوران ہتک عزت بل کی منظوری سے ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا تو اسی روز ایک سینیٹر نے ایوان میں اعلیٰ عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے بعض الزامات کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ عدلیہ کے کردار کو کھلے عام چیلنج بھی کردیا۔ سنجیدہ حلقوں نے بھی عدالتی ایکٹیوازم پر اظہار تشویش کرتے ہوئے بہت سخت نوعیت کے سوالات اٹھائے اور اس بات پر کھل کر تنقید کی گئی کہ عدلیہ نہ صرف ایک مخصوص پارٹی کے ساتھ رعایت برتنے کی پالیسی پر گامزن ہے بلکہ بعض حساس قسم کے معاملات کو بھی چیلنجز اور نتائج کا ادراک کیے بغیر ڈیل کرنے کی کوشش میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کی روش پر چل رہی ہے۔ اسباب و عوامل جو بھی ہو افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم پروپیگنڈا کے ایک بدترین دور سے گزر رہے ہیں اور ہر کسی کو اپنی آنا اور ضد کی پڑی ہوئی ہے۔ اگر اس روش کو ترک کرکے مثبت راستہ اختیار نہیں کیا گیا تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں جو انارکی پھیلے گی اس سے کوئی ادارہ، شخص یا طبقہ محفوظ نہیں رہے گا اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ انا پرستی اور پرانا حساب چکانے کی بجائے نتائج کا ادراک کرتے ہوئے ادارہ جاتی ایکٹیوازم کا راستہ ترک کرکے کشیدگی کم کرنے پر توجہ دی جائے۔

Serious Pakistanis looking for the truth

سنجیدہ پاکستانیوں کو سچ کی تلاش

عقیل یوسفزئی

یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ پاکستان کے سنجیدہ لوگ گزشتہ چند برسوں سے نہ صرف یہ کہ ذہنی تشدد اور ڈپریشن سے دوچار ہیں بلکہ ان کو بعض واقعات ، اقدامات اور معاملات سے متعلق درست معلومات  اور متوازن تجزیوں کی عدم دستیابی کا بھی سامنا ہے ۔ فیک یا جھوٹی خبروں اور معلومات کے ” فیشن” نے اب ایک مہارت اور باقاعدہ ڈیجیٹل بزنس کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستانی معاشرہ جھوٹی خبروں کی دنیا میں رہنے کا عادی ہوگیا ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔

افسوس بلکہ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہر طرف جھوٹ بکتا بھی ہے اور لاکھوں لوگ اس کاروبار سے اپنے بچوں کا پیٹ بھی پال رہے ہیں ۔ اس کاروبار کو مہارت سمجھ کر اس پر فخر بھی کیا جاتا ہے اور جھوٹ کو سچ منوانے کی کوشش میں دوسروں کی کردار کشی سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ۔ بہت سے لوگ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے شوق دیوانگی میں بعض ان ایشوز سے متعلق بھی درست معلومات اور تفصیلات کے بغیر یہ کاروبار چلانے سے گریز نہیں کرتے جس سے بعض لوگوں کی زندگی وابستہ ہوتی ہے یا داؤ پر لگ سکتی ہے ۔بعض دیگر مثالوں کے علاوہ جب گزشتہ دنوں کرغستان میں ایک واقعے کے بعد مقامی شدت پسند اسٹوڈنٹس نے دوسرے ممالک سے حصول تعلیم کے لیے آنیوالے سٹوڈنٹس پر تشدد کا شرمناک آغاز کیا تو پاکستان کے اندر ہزاروں لوگوں نے درست معلومات اور درکار تفصیلات جانے بغیر نہ صرف ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے درجنوں پاکستانی اسٹوڈنٹس کی ہلاکتوں کی اطلاعات فراہم کیں بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ متعدد پاکستانی طالبات کی آبرو ریزی ( خدا نخواستہ ) بھی کی گئی ہے ۔ اس قسم کی اطلاعات سے ان سینکڑوں خاندانوں پر کیا گزرتی ہوگی جن کی بچیاں وہاں مشکل میں تھیں اور والدین کے ساتھ ان کا رابطہ نہیں ہوپارہا تھا ۔ اس متوقع اذیت ناک صورتحال کا شاید ہی کسی نے احساس کیا ہو ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانیوں سمیت دنیا کے تقریباً 36 ممالک کے اسٹوڈنٹس وہاں اس پرتشدد صورتحال سے دوچار تھے اور ان کی تکلیف کا فوری نوٹس لینا میڈیا اور حکومت کا فرض تھا تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کا ردعمل دوسرے ممالک کے ہاں کیوں دیکھنے کو نہیں ملی اور عالمی میڈیا نے ان واقعات کو ہائی لائٹ کیوں نہیں کیا حالانکہ جس طالبہ کے ساتھ جھگڑے کے معاملے پر یہ سلسلہ شروع ہوا تھا وہ مصر سے تعلق رکھتی ہیں اور مصر نے بھی وہ ردعمل نہیں دکھایا جو ہمارے ہاں دیکھنے کو ملتا رہا ۔ ایک قابل اعتماد میڈیا رپورٹ کے مطابق جو غیر ملکی اسٹوڈنٹس اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان میں بھارتی طلباء سب سے زیادہ ہے مگر وہاں بھی اس قسم کی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی کیونکہ ایسے معاملات سفارتی حدود و قیود کے اندر رہ کر نمٹائے جاتے ہیں اور یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ متاثرین اگر کل کو اس ملک میں اپنے تعلیمی یا کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں تو ایسی تلخیوں اور ریپ جیسے سنگین الزامات کے بعد اس ملک کی حکومت اور عوام کا ان کے ساتھ رویہ کیسے ہوگا ۔ اگر چہ پاکستان کے سفارت خانوں اور وزارت خارجہ کی مجموعی کارکردگی کو مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا اور اس صورتحال میں بھی ان سے کوتاہیاں ہوئی ہوں گی تاہم سیاسی اختلاف اور منفی پروپیگنڈا کے نفسیاتی مسائل کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم نے اس معاملے کا ہنگامی طور پر نوٹس لیا ، متعدد اسٹوڈنٹس کو لاہور پہنچایا گیا اور دو وفاقی وزراء پر کم مشتمل ٹیم کو فوری طور پر بھیجنے کے احکامات جاری کیے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے معاملات پر جھوٹی اور نامکمل غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے نہ صرف گریز کیا جائے بلکہ جو لوگ ریاست اور حکومت کی سیاسی مخالفت کی آڑ میں ایسے واقعات پر پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہیں ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے کیونکہ کسی بھی ملک میں ایسے رویوں اور ڈراموں کی اجازت نہیں دی جاتی یہاں تو بعض لوگوں نے اظہار رائے کے نام پر ذاتی مفادات کے لیے معاشرے کو برباد کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اگر اس سلسلے کو روکا نہیں گیا تو کل کو نہ کوئی ایسے لوگوں پر اعتماد کریں گے اور نہ ہی کسی کی سیکریسی اور عزت محفوظ رہے گی ۔

Malakand protest against taxes

ملاکنڈ ڈویژن ، قبائلی اضلاع کا ایک اور پیچیدہ مسئلہ

ملاکنڈ ڈویژن ، قبائلی اضلاع کا ایک اور پیچیدہ مسئلہ
عقیل یوسفزئی
ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں گزشتہ روز ٹیکسوں کے مجوزہ نفاذ کے خلاف ہڑتال کی گئی اور ریلیاں نکالی گئیں۔ ہڑتال اور احتجاج میں تاجروں اور کاروباری حلقوں کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں اور وکلاء، سٹوڈنٹس تنظیموں نے حصہ لیتے ہوئے مجوزہ فیصلے کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کی جدا گانہ حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اس احتجاج سلسلہ کو آگے بڑھائیں گے اور اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی تو آزاد کشمیر کی طرح مزاحمت کا راستہ اختیار کریں گے۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سوات کے سینئر صحافی شہزاد عالم نے کہا ہے کہ پاکستان میں سوات ریاست کے ادغام کے وقت ایک معاہدے کے دعوے کیے جاتے ہیں جس کے تحت اس علاقے کو مروجہ ٹیکسز یا کسٹم وغیرہ سے استثنیٰ حاصل تھا تاہم اس قسم کے کسی معاہدے کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔ شاید کہ ایسی کوئی کمٹمنٹ زبانی طور پر ہوئی ہو تاہم یہ معاملہ اس حوالے سے بعد کی حکومتوں نے متعدد بار یقین دھانی کرائی کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نظام لاگو نہیں کیا جائے گا۔ ان کے بقول جب چند برس قبل ایک آئینی طریقہ کار کے مطابق فاٹا اور پاٹا کی حیثیت تبدیل کی گئی تو ایک نئی صورتحال پیدا ہوئی اور محمود خان کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں بعض ترامیم کی گئیں جس کے نتیجے میں ٹیکس نظام لاگو کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا۔ شہزاد عالم کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے حالیہ انتخابات کے دوران بھی تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ سے نوازا ہے اس لیے اب بال ایک بار پھر صوبائی حکومت کی کورٹ میں ہے۔ سینئر تجزیہ کار آصف نثار غیاثی کے مطابق متعدد بار اس ضمن میں استثنیٰ دینے کے اقدامات کیے گئے مگر اب لگ یہ رہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع میں یہ نظام لاگو اور نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے اور بعض حلقوں کے مطابق مجوزہ فیصلہ آئی ایم ایف کی شرائط میں بھی شامل ہے۔
اسباب و عوامل جو کچھ بھی ہو لگ یہ رہا ہے کہ ان علاقوں کو ٹیکس نظام میں لانے پر واقعی سنجیدہ غور جاری ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی نمائندوں اور سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیا جائے اور ان دو حساس، جنگ زدہ اور پسماندہ علاقوں کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے بعض رعایتوں پر مشتمل کوئی نظام یا طریقہ کار سامنے لایا جائے تاکہ کسی عوامی مزاحمت اور ناراضگی کی صورتحال سے بچا جاسکے۔

COAS approves postings after three major generals promoted to three-star generals

ڈی جی آئی ایس پی آر کی ترقی اور پشاور کے نئے کور کمانڈر

عقیل یوسفزئی
پاک فوج کے تین میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرلز کے نئے عہدوں پر ترقیاں دے دی گئی ہیں جن میں ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چودھری اور الیونتھ کور پشاور کے لیے تعینات ہونے والے نئے کور کمانڈر جنرل عمر احمد بخاری بھی شامل ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر نے گزشتہ روز پاک فوج کے تین اہم میجر جنرلز کو ان کی اعلیٰ کارکردگی اور سینیارٹی کی بنیاد پر ترقی دیکر انہیں لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدوں پر ترقی دی ہے ۔

جو میجر جنرلز ترقی پاکر لیفٹیننٹ جنرل بن گئے ہیں ان میں ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چودھری ، جنرل عمر احمد بخاری اور جنرل عنایت حسین شامل ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری حسب معمول اپنے موجودہ عہدے پر فرائض سرانجام دیتے رہیں گے ۔ ان کو یہ ذمہ داری دسمبر 2022 کو سونپی گئی تھی جو کہ وہ بہترین طریقے سے نبھاتے آرہے ہیں ۔ ان کا تعلق پاک فوج کے الیکٹریکل ، انجینئرنگ کور سے ہے ۔ وہ پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان سلطان بشیر محمود کے صاحبزادے ہیں۔

ترقی پانے والے دوسرے اہم آفیسر لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری متعدد اہم عہدوں پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ وہ ڈی جی رینجرز سندھ بھی رہے ہیں ۔ ان کی یہ تعیناتی اپریل 2019 کو عمل میں لائی گئی تھی ۔ وہ پاکستان ہائی کمیشن برطانیہ میں ملٹری اتاشی بھی رہے ہیں اور اعزازی شمشیر پانے والوں میں شامل ہیں ۔ ان کو لیفٹیننٹ جنرل کی ترقی دیکر کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا ہے ۔

ترقی پانے والے لیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین وایس چیف آف جنرل سٹاف ، چیف انسٹرکٹر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور کمانڈنگ آفیسر گوادر ڈویژن رہے ہیں ۔ وہ 2014 کے دوران پشاور میں 102 بریگیڈ کے کمانڈر بھی رہے ہیں.

اس سے پہلے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات 16 مئی کو فوج سے اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جبکہ سابقہ منگلا کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ایمن بلال پہلے سے ہی ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں جن کی جگہ پر سی ایل ایس لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا کو کور کمانڈر منگلا تعینات کیا گیا ہے

نئے پروموٹ ہونے والے افسران میں سے دو کو ان جانے والے افسران کی جگہ پر معمول کے مطابق تعینات کیا گیا ہے – ان میں نئے پروموٹ ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین کو سی ایل ایس اپوائنٹ کیا گیا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری کو پشاور کور کمانڈر تعینات کیا گیا ہے جبکہ نئے پروموٹ ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ڈی جی ائی ایس پی ار کے عہدے پر ہی برقرار رکھے گئے ہیں

پی ٹی ائی کے پروپیگینڈسٹ اور جھوٹ بولنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہمیشہ کی طرح ہر خبر کو توڑ مروڑ کر، بے بنیاد، من گھڑت اور مضحکہ خیز جھوٹ میں تبدیل کر دیتے ہیں جس سے اب پوری قوم بخوبی اگاہ ہو چکی ہے کہ اِن جھوٹ بولنے والے بدقسمت عناصر کا المیہ یہ ہے کے انھوں نے ہر سچ، حقیقت اور گراؤنڈ ریالٹی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیئے توڑ مروڑ کر پروپیگنڈا کرنا ہے جو پاکستان کے عوام اب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ یہ رویہ بہت منفی ہے اور مذکورہ پارٹی کے لیے خطرناک بھی کیونکہ ریاست نے 7 اور 9 مئی کو اپنی لکیر کھینچ کر واضح کردیا ہے کہ مزید شرپسندی کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ ساتھ میں یہ بھی کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں دی جائیں گی ۔ اب بھی وقت ہے کہ معافی مانگ کر خود کو احتساب کے لیے پیش کیا جائے اور روایتی پروپگینڈا سے گریز کرتے ہوئے ریاست کے خلاف جاری سازشوں کا سلسلہ روک دیا جائے ورنہ ریاست کو کمزور سمجھنے والوں کو خود ہی نقصان اٹھانا پڑے گا ۔

 

May 9 Tragedy, Army's Clear Line and Future Scenario

سانحہ 9 مئی ، فوج کی واضح لکیر اور مستقبل کا منظر نامہ

سانحہ 9 مئی ، فوج کی واضح لکیر اور مستقبل کا منظر نامہ
عقیل یوسفزئی
پاکستان کی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف مراحل پر سیاسی جماعتوں اور اتحادوں نے احتجاجی تحاریک چلائی ہیں اور ان تحاریک کی فہرست خاصی لمبی ہے تاہم کسی بھی پارٹی یا اپوزیشن اتحاد نے ملک کے اجتماعی مفادات اور سلامتی کو داؤ پر لگانے کی کوئی پلاننگ اور کوشش نہیں کی ۔ مختلف ادوار میں اہم سیاسی قائدین کو بوجوہ حکومتی کارروائیوں کے دوران قید و بند کے علاوہ متعدد سخت ترین سزاؤں کا نشانہ بنایا گیا تو متعدد اہم لیڈرز کو اقتدار سے محرومی سمیت جلاوطنی کی صورتحال سے بھی دوچار ہونا پڑا مگر کسی بھی اہم لیڈر یا پارٹی نے اپنے کارکنوں کو ریاست پر چڑھ دوڑنے کی ہدایات اور احکامات جاری نہیں کیے ۔ شکایات اور خدشات کو ایک مخصوص جمہوری فریم ورک کے اندر پرامن طریقے سے احتجاج کی صورت میں عوام ، اداروں اور حکمرانوں تک پہنچایا گیا اور شاید اسی جمہوری رویے کا نتیجہ ہے کہ مختلف پارٹیاں مختلف نوعیت کی غیر معمولی تلخیوں اور کشیدگی کے باوجود حالات نارمل ہونے پر بار بار اقتدار میں آتی رہیں اور اس وقت بھی تین سے پانچ تک مختلف وہ پارٹیاں وفاق اور صوبوں میں برسرِ اقتدار ہیں جو کہ ماضی میں مشکلات کی صورتحال سے دوچار رہی ہیں کیونکہ سیاست میں یہ کشمکش جاری رہتی ہے اور یہ سلسلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔
ہماری سیاسی تاریخ میں 9 مئی 2023 کا دن بہت تلخ یادیں رقم کرگیا ہے اور فی الوقت ایسا کوئی امکان نظر نہیں آرہا کہ ریاست اور سیاست میں 9 مئی کے تلخ واقعات اور اس کے اثرات کو نظر انداز یا بھولنے کا کوئی راستہ مل جائے گا ۔ اس خود کو ملک کی مقبول ترین پارٹی قرار دینے والی پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر احتجاج کی آڑ میں ملک کے تقریباً 22 شہروں میں موجود پاکستان آرمی کے مراکز ، اداروں اور یادگاروں پر منظم پلاننگ کے تحت حملے کئے اور ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ۔ جناح ہاؤس لاہور اور ریڈیو پاکستان پشاور جیسے تاریخی مقامات اور قومی اثاثوں کو نذر آتش کردیا گیا جبکہ شہداء کی یادگاروں اور مجسموں پر کچھ اس انداز میں حملے کیے گئے جیسے یہ دشمنوں کے اثاثے ، یادگاریں یا مجسمے ہو ۔ پاک فوج سمیت تمام متعلقہ اداروں نے اس تمام تر صورت حال کے دوران تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو مزید خراب ہونے نہیں دیا ورنہ کسی ممکنہ تصادم کی صورت میں اگر فورسز واقعتاً حرکت میں آجاتیں تو بہت خون خرابے کا راستہ ہموار ہوجاتا اور ملک میں افراتفری پھیل جاتی ۔ بعد کی تحقیقات سے قدم قدم پر ٹھوس معلومات اور شواہد کی شکل میں ثابت ہوا کہ یہ سب کچھ ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت کیا گیا تھا اور یہ محض ایک اتفاق یا وقتی ردعمل نہیں تھا کہ کارکنوں نے پاک فوج کے مراکز اور اثاثہ جات کو نشانہ بنایا ۔ یہ سب کچھ اہم پارٹی قائدین اور عہدے داروں کی مشاورت ، منظم پلاننگ اور مسلسل ہدایات کی روشنی میں کیا اور کرایا گیا تھا اور اس پوری سازش کے پیچھے سب کچھ نیست و نابود کرتے ہوئے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ اور بارگیننگ کو تشدد کے ذریعے ممکن بنانا تھا ۔ اس خطرناک ترین تجربے کو جب تصادم اور ممکنہ خانہ جنگی سے بچاتے ہوئے ریاست نے تحقیقات اور کارروائیوں کا آغاز کیا تو حملہ آور پارٹی نے معذرت کرنے یا ندامت دکھانے کی بجائے حسب روایت ہٹ دھرمی اور منفی پروپیگنڈا کا راستہ اختیار کرکے خود کو بری الذمہ قرار دینے کی پالیسی اختیار کرلی ۔ ٹھوس معلومات اور ثبوتوں کی بنیاد پر نہ صرف یہ کہ حملوں میں براہ راست ملوث کارکنوں اور عہدیداروں کے خلاف قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے بلکہ اس تمام ” سیاسی گیم ” کے ماسٹر مائنڈز کی جاری کردہ ہدایات اور احکامات کے ثبوت بھی سامنے لائے گئے۔ سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور اکثر نے اعتراف جرم بھی کیا تاہم سیاسی دباؤ ، منفی پروپیگنڈا اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے سول تفتیشی سسٹم اور عدالتوں کے کمزور نظام کا سہارا لیکر اپنی یا تو ضمانتیں منظور کروائی گئیں یا رہائی پائی۔
دوسری جانب پاک فوج نے اپنے مخصوص طریقہ کار کے مطابق اپنے افسران اور اہلکاروں کا ادارہ جاتی احتساب کیا اور اس بنیاد پر سخت اندرونی کارروائیاں کیں کہ بعض مقامات پر درکار اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ۔ فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جس کو اعلیٰ عدلیہ نے مخصوص حالات کے باوجود غیر موثر کردیا۔
آج 9 مئی کے واقعات کو پورا ایک سال مکمل ہوگیا ہے تاہم یہ بات قابل تشویش ہے کہ اس سانحہ کے ذمہ داران ، ماسٹر مائنڈز اور محرکین کے خلاف عملی اقدامات کے ذریعے موثر سزاؤں کی شکل میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی ۔ اس تاثر کو تقویت ملتی رہی کہ ریاست یا تو سزائیں دینے میں سنجیدہ نہیں ہے ، یا خوف زدہ ہے ، یا کسی مصلحت سے کام لے رہی ہے ۔ سنجیدہ حلقے سزائیں نہ دینے کے معاملات کو سول اداروں اور نظام کی کمزوریوں اور عدم دلچسپی کا نتیجہ قرار دیتے رہے جبکہ ان حلقوں کی بھی کوئی کمی نہیں جن کا خیال ہے کہ فرسودہ ، سست اور کمزور عدالتی نظام کے باعث 9 مئی کے ذمے داران کو درکار سزائیں نہیں ملیں۔ اسباب و عوامل کچھ بھی ہو ایک تلخ حقیقت یہی ہے کہ اس ایک برس کے دوران امن پسند سیاسی حلقوں اور عوام میں تشویش بڑھتی دیکھی گئی اور اس ضمن میں یہ سوال بار بار سر اٹھاتا رہا کہ اگر 9 مئی کے ذمے داروں کے ساتھ رعایت برتی گئی تو یہ ملک کی سلامتی کے تناظر میں ایک خطرناک روایت کی صورت اختیار کر جائے گی اور آیندہ کوئی بھی پرتشدد گروپ یا جھتہ اس قسم کا رویہ اپنا کر ریاست پر چڑھ دوڑنے سے گریز نہیں کرے گا۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی فوج کا بیانیہ کافی واضح رہا اور اس کی قیادت نے ہر وہ موقف اور طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کی جس کے ذریعے 9 مئی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکتا تھا تاہم سول اداروں اور سیاسی قائدین نے وہ دلچسپی اور کارکردگی نہیں دکھائی جس کی ضرورت تھی یا ضرورت ہے۔
9 مئی کے واقعات کے ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے 8 مئی 2024 کو ڈایریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے ایک تفصیلی پریس بریفنگ کے ذریعے درکار ڈیٹا ، تفصیلات اور پس پردہ محرکات پر روشنی ڈالی اور بہت واضح انداز میں موقف اختیار کیا کہ ملوث آفراد اور ان کے ماسٹر مائنڈز کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی ۔ ان کے مطابق 9 مئی کو فوجی اور قومی املاک پر حملوں کے باقاعدہ اہداف دیے گئے تھے اور یہ محض پاک فوج کا نہیں بلکہ پوری قوم اور ملک کا مقدمہ اور مسئلہ ہے ۔ ان کے مطابق ایک جھوٹے پروپگنڈے اور بیانیہ کے ذریعے لوگوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی حقائق کو مسخ کرکے اظہار رائے کی آڑ میں ریاست اور سیکورٹی فورسز کے خلاف منفی پروپیگنڈا کے عمل کی اجازت دی جائے گی ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ امریکہ اور فرانس میں جب اس قسم کے واقعات سامنے آئے تو وہاں اہم شخصیات سمیت ملوث افراد کو سخت ترین سزائیں دی گئیں اور پاکستان کی ریاست بھی 9 مئی کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائیاں کرے گی ۔ ان کے بقول اگر کسی کو کوئی شک و شبہ ہے تو اس سانحہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔
سیاسی ماہرین نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس تفصیلی بریفنگ اور دوٹوک موقف کو پاکستان کی طاقتور اور منظم فوج کی جانب سے 9 مئی کے واقعات میں ملوث مخصوص پارٹی کے لیے ایک واضح لکیر کھینچنے کا رویہ سمجھ کر یہ تاثر قائم کیا کہ مخصوص پارٹی کے ساتھ اس معاملے پر مزید کسی رعایت کو عسکری قیادت نے خارج از امکان قرار دیا ہے اور یہ کہ اس تناظر میں آیندہ کچھ عرصے کے دوران بہت کچھ ہونے والا ہے۔ ماہرین کے مطابق مذکورہ مخصوص پارٹی کے گرد گھیرا تنگ ہونے والا ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اس تناظر میں وفاقی کابینہ کا ایک اہم اجلاس 9 مئی کے روز اسلام آباد میں طلب کیا گیا ہے۔
اس تمام صورتحال اور مستقبل کے متوقع منظر نامے پر مختلف تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں نے جو تاثرات بیان کئے وہ کچھ یوں ہیں۔
1 : انیق ناجی ( معروف اینکر پرسن )
9 مئی کے واقعات پاکستان کے عوام ، سیاسی قائدین اور ادارے بھول نہیں پائیں گے ۔ چونکہ ان حملوں میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منظم پلاننگ کے تحت پاکستان کی فوج کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے شہداء کی توہین کی گئی اس لیے عسکری قیادت کے لیے اس کے ذمہ داران کو کوئی رعایت دینا ممکن نظر نہیں آتا اور لگ یہ رہا ہے کہ تحریک انصاف نامی پارٹی کی بہت سی خوش فہمیاں جلد ختم ہونے کو ہے ۔ تحریک انصاف کسی پارٹی یا نظریہ یا سیاسی پارٹی کی بجائے ایک دیوانگی ، کیفیت اور غیر سنجیدگی کا نام ہے اس لیے اس پارٹی کی قیادت سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ 9 مئی کے واقعات کو سیاسی دباؤ یا منفی پروپیگنڈا کے ذریعے نہ تو دبایا جاسکتا ہے اور نہ ہی ذمہ داران کو معاف کرنا ممکن ہے ۔
2 : ثمر ہارون بلور ( رہنما اے این پی)
یہ پاکستان پر حملہ تھا اور اس کے ذمہ داران کو قانون کے تحت سخت سزائیں دینی چاہیے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف لوگوں کا قانون پر سے اعتماد اٹھ جائے گا بلکہ دوسرے بھی یہی راستہ اختیار کریں گے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ دوسرے فریق کو بھی شفاف ٹرائل کے ذریعے اپنے دفاع کا حق حاصل ہو تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں ۔
3 : احمد منصور ( سینیر صحافی)
9 مئی کے واقعات کو بھلانا ممکن نہیں ہے اور تحریک انصاف کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے دوٹوک موقف کے بعد مزید کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے ۔ لگ یہ رہا ہے کہ اس پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف گھیرا تنگ ہونے والاہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت بھی معذرت یا معافی کی بجائے الزامات پر مبنی اپنی پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے نہ صرف اداروں کے خلاف منفی مہم چلارہی ہے بلکہ عوام کو مزید گمراہ کرنے کی پالیسی پر بھی گامزن ہے اور اس رویے کے اس پارٹی کو بہت سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
4 : ڈاکٹر عباد خان ( اپوزیشن لیڈر کے پی اسمبلی)
قوم ، پُرامن سیاسی جماعتیں اور اہم ریاستی قوتیں 9 مئی اور اس کے بعد کے واقعات اور تحریک انصاف کی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی کو نہ تو معاف کریں گی اور نہ ہی ذمہ داران کے ساتھ مزید کوئی رعایت برتنی چاہیے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو نشان عبرت بنادیا جائے ۔ یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے جو لیڈر 9 مئی کے واقعات میں ملوث رہے وہ بوجوہ آج اس صوبے کے حکمران بنے بیٹھے ہیں اور ان کے رویہ میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔
5 : علی اکبر خان ( صحافی)
9 مئی کے شفاف اور تیز ترین تحقیقات کی اشد ضرورت ہے ۔ گزشتہ ایک سال کے عرصے میں اس ضمن میں کوئی اہم پیشرفت نہیں ہوئی ہے جس کے باعث مختلف قسم کی شکوک وشبہات جنم لیتے رہے ہیں ۔ وفاقی حکومتوں اور سول اداروں کی عدم دلچسپی اور نااہلی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ایک سال گزرنے کے باوجود ریڈیو پاکستان پشاور کی جلائی گئی عمارت کی تعمیر نو کو بھی ممکن نہیں بنایا ۔ اب محسوس یہ ہورہا ہے کہ شاید عسکری قیادت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور مستقبل قریب میں بہت کچھ ہونے والا ہے۔

Editorials 08052024 2

دہشت گردی، شرپسندی کے خلاف جنگ اور ریاستی عزم

دہشت گردی ، شرپسندی کے خلاف جنگ اور ریاستی عزم
عقیل یوسفزئی
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف نے گزشتہ روز طویل عرصے کے بعد ملک کو درپیش چیلنجز اور پاکستان کی ریاستی کارروائیوں ، عزائم کے بارے میں میڈیا کو ایک تفصیلی بریفنگ دی جس پر نہ صرف یہ کہ پاکستان اور پوری دنیا کے میڈیا میں تبصرے جاری ہیں بلکہ اس بریفنگ نے ریاستی پالیسیوں سے متعلق پھیلائی گئی بہت سی شکوک وشبہات کا کافی حد تک خاتمہ بھی کردیا ہے ۔ انہوں نے جہاں ایک طرف تقریباً ہر معاملے اور ایشو پر واضح موقف پیش کرتے ہوئے میڈیا کے سوالوں کے جوابات دیے وہاں انہوں نے دلائل کے ساتھ بہت تکرار اور اعتماد کے ساتھ دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی اور شرپسندی کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جائے گی اور یہ کہ ریاست نہ صرف جاری دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی بلکہ 9 مئی جیسے واقعات میں ملوث شرپسندوں کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے رواں سال ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف 13000 انٹلیجنس بیسڈ آپریشن کیے جس کے نتیجے میں 239 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ 396 کو گرفتار کیا گیا ۔ ان کے بقول اس عرصے کے دوران پاک فوج کے متعدد افسران سمیت 60 جوان شہید ہوئے تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن علاقوں میں عام لوگوں کا جانا مشکل ہوگیا تھا اب وہاں آسانی کے ساتھ امدورف جاری ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے افغان عبوری حکومت کے ساتھ ہر قدم پر بہت تعاون کیا مگر انہوں نے دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بنایا اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی جس کے ردعمل میں پاکستان نے افغانستان کے اندر بھی کارروائی کی ۔ یہ بھی کہا کہ فوج کسی کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتی بلکہ یہ کام سیاسی جماعتوں کا ہے۔
ڈی جی نے پاکستان تحریک انصاف کو 9 مئ کے واقعات کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک منظم پلاننگ کے تحت پاکستان کی فوج ، اثاثوں اور یادگاروں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ایک جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعے انتشاری ٹولے نے پاکستان کے اداروں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی ۔ ان کے مطابق 9 مئی کا مقدمہ پورے پاکستان کا مقدمہ ہے اور اس کے ذمہ داران کو ہر صورت میں منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ پاکستان تحریک انصاف یا اس کے بانی کو کوئی مقبول پارٹی یا لیڈر سمجھا جائے ۔ ان کے بقول 8 فروری کے عام انتخابات میں ملک بھر میں ساڑھے چھ کروڑ افراد نے ووٹ پول کیے ۔ ان میں مذکورہ پارٹی کو محض 7 فی صد ووٹ ملے ہیں ۔ یہ مہم بھی چلائی گئی کہ الیکشن میں پاک فوج کا کوئی سیاسی کردار رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس تفصیلی بریفنگ کو اس حوالے سے بہت اہمیت حاصل ہے کہ اس سے پاکستان کی منظم اور طاقتور فوج کے عزائم ، ارادوں اور مستقبل کے متوقع فیصلوں کا اندازہ لگانے میں کافی مدد ملتی ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہ پاکستانی ریاست دہشت گردی اور شرپسندی دونوں کے خلاف پُرعزم ہے ۔ یہ اندازہ لگانے میں بھی آسانی پیدا ہوگئی ہے کہ پاکستان کی فوج کے خلاف جاری پروپیگنڈا مہم کا اعلیٰ عسکری قیادت کو پورا ادراک ہے اور ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ اس منظم مہم کے پیچھے کون کون سے کردار اور قوتیں کارفرما ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی اعتراف کیا کہ دہشت گردی کی جاری لہر سے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان زیادہ متاثر ہورہے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے عسکری قیادت کو اپنے چیلنجر اور ترجیحات کا بھی پورا ادراک ہے۔
اس تمام صورتحال سے نمٹنے کے لیے لازمی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی چیلنجر کا ادراک کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان جیسے کسی فارمولے پر متفق ہو جائیں اور غیر ضروری تصادم اور پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے پاکستان کو مسائل سے نکالنے کے راستے تلاش کیے جائیں کیونکہ ملک مزید تجربات اور محاذ آرائیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اگر تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ساتھ مل کر آگے بڑھیں گے تو پاکستان بہت سے بحرانوں سے بہت جلد نکل جائے گا۔

Security situation for the last 4 months

گزشتہ 4 مہینوں کی سیکورٹی صورتحال

گزشتہ 4 مہینوں کی سیکورٹی صورتحال
عقیل یوسفزئی
اس بحث سے قطع نظر کہ پاکستان کے سول حکمرانوں کی ترجیحات کیا ہیں اور سیکورٹی فورسز امن کے قیام کے لیے مسلسل کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں تلخ حقیقت یہ ہے کہ رواں برس کے ابتدائی چار مہینوں کے دوران پاکستان بلخصوص خییر پختونخوا اور بلوچستان میں حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس کے متعدد اسباب ہیں ۔ ایک سیکورٹی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار مہینوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں 300 سے زیادہ حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں 326 آفراد شہید ہوگئے ہیں ۔ شہداء میں اکثریت کا تعلق مختلف سیکورٹی فورسز سے ہے ۔ 73 فی صد حملوں کا مرکز حسب سابق خیبرپختونخوا رہا جس کے جنوبی اضلاع اور تین قبائلی اضلاع سب سے زیادہ حملوں کا نشانہ بنے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ماہ اپریل میں پاکستان میں 77 حملے کرایے گئے جن میں 70 افراد شہید جبکہ 67 زخمی ہوئے ۔ ان 70 شہداء میں سیکورٹی فورسز کے 31 جوان شامل ہیں جبکہ سویلین کے شہداء کی تعداد 35 رہی۔
خیبرپختونخوا کے شمالی وزیرستان میں 9 ، ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت میں سات سات ، بنوں میں میں 6 ، باجوڑ میں 5 خیبر میں 4 جبکہ پشاور اور جنوبی وزیرستان میں چار چار حملے کئے گئے ۔خیبر پختونخوا میں فورسز نے مختلف علاقوں میں جو کارروائیاں کیں اس کے نتیجے میں 60 کے لگ بھگ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ ایک درجن سے زائد گرفتار کئے گئے جن میں 5 اہم عسکری کمانڈر بھی شامل ہیں۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ان چار مہینوں کے دوران 90 سے زائد مطلوب عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ دو درجن گرفتار کیے گئے ۔ زخمیوں کی تعداد بھی اتنی ہی رہی۔
ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں حملوں کی تعداد میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہاں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی انسداد دہشتگری سے متعلق مبہم پالیسیاں اور عدم دلچسپی ہے اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ جب سے یہ حکومت قائم ہوئی ہے حملوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور وفاقی حکومت کے ساتھ بدامنی پر قابو پانے کیلئے صوبائی حکومت ایک مربوط پالیسی اختیار کرے اور وفاقی حکومت بھی صوبے کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں ہر سطح پر تعاون کی پالیسی اپنا کر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں ۔ صوبے کے نئے گورنر فیصل کریم کنڈی کا تعلق جنوبی اضلاع سے ہے اور ان کی پارٹی بعض دیگر کے برعکس شدت پسندی کے معاملے پر کافی واضح پوزیشن رکھتی ہے اس لیے توقع رکھنی چاہیے کہ وہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے اس سنگین چیلنچ سے نمٹنے کیلئے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔