Sanitation and dengue prevention awareness seminar held in Lakki Marwat

لکی مروت میں صفائی و انسدادِ ڈینگی آگاہی سیمینار کا انعقاد

لکی مروت ہفتہ صفائی و انسداد ڈینگی آگاہی مہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لکی مروت مفتاح الدین کی زیر نگرانی محکمہ تعلیم نے محکمہ صحت اور بوائے سکاوٹس ایسوسی ایشن کے تعاون سے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر 3 لکی مروت میں ہفتہ صفائی و انسداد ڈینگی مہم کے سلسلے میں آگاہی سیمنار منعقد کیا۔سیمینار میں پرنسپل شریف اللہ خان، ڈسٹرکٹ سکاوٹ سیکرٹری غلام مرسلین، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس لکی مروت کے میڈیکل انٹامالوجسٹ جمیل خان، اساتذہ، سکاوٹ لیڈرز، طلبہ اور بوائے سکاوٹس نے شرکت کی۔ ہال کو بینرز اور پوسٹرز سے سجایا گیا تھا جن پر انسداد ڈینگی کی علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر سے متعلق پیغامات درج تھے۔میڈیکل انٹامالوجسٹ جمیل خان نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اینٹی ڈینگی فورس کے فعال ممبر بنیں اور نہ صرف اپنے گھر و سکول بلکہ ارد گرد علاقے میں کھڑے پانی کا خاتمہ کریں اور صفائی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی خطرناک بیماری ہے جو جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے اور اس سے بچاو کے لئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے دوا لگی مچھر دانیوں کے استعمال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ رات کو سوتے وقت مچھردانی استعمال کی جائے یا مچھربھگاو لوشن استعمال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ استعمال شدہ کباڑ سامان کو شاپرز میں اچھے طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے، طلبہ کو چاہیے کہ وہ پوری آستین والے کپڑے پہنیں اور چھتوں کی ٹینکیوں اور پانی سے بھرے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنے سے متعلق آگاہی لائیں اس کے علاوہ گھر، سکول اور ارد گرد علاقے میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ انہوں نے طلبہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقے میں ڈینگی کی احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی لائیں۔
بعد میں انسداد ڈینگی آگاہی واک منعقد ہوئی جس میں شرکاء نے بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈینگی سے بچاو کے نعرے اور پیغامات درج تھے۔

Workshop on medical ethics, patient rights held at Ayub Medical

ایوب میڈیکل میں طبی اخلاقیات، مریض حقوق پر ورکشاپ کا انعقاد

ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد میں انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس (IMRC’26) کے افتتاحی سیشن کے موقع پر “From Principles to Practice Implementing Medical Ethics in Resource-Limited Settings” کے عنوان سے خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ جمعہ 28 اگست 2026 کو ایوب میڈیکل کالج کے کانفرنس روم میں منعقد ہوئی جس میں چیئرمین بورڈ آف گورنرز ایوب میڈیکل انسٹی ٹیوشن پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے بطور چیف گیسٹ اور فیسلیٹیٹر شرکت کی۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد محدود وسائل والے طبی مراکز میں طبی اخلاقیات کے اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنے مریضوں کے حقوق کے تحفظ، شفافیت، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور ایک مضبوط اخلاقی تنظیمی ماحول کے فروغ کے حوالے سے شرکاء کی استعداد کار میں اضافہ کرنا تھا۔
اپنی خصوصی پریزنٹیشن میں پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے اخلاقیات (Ethics) اخلاقی اقدار اور قانونی فریم ورک کے درمیان فرق اور باہمی تعلق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے طبی اخلاقیات کے بنیادی اصولوں اور صحت کے شعبے میں ان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تعلق میں ڈاکٹر پر ایک بڑی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طبی شعبے سے وابستہ افراد معاشرے میں نسانی جان اور صحت کے محافظ کا کردار ادا کرتے ہیں اس لیے ان کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار، دیانت داری، ہمدردی اور مریض کے وقار کا احترام ناگزیر ہے۔ ورکشاپ کے دوران قانون اور اخلاقیات کے فرق کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ قانون ریاست یا حکومت کی جانب سے معاشرے میں نظم و ضبط اور عوامی تحفظ کے لیے وضع کیا جاتا ہے اور اس پر عمل درآمد قانونی طور پر لازم ہوتا ہے جبکہ اخلاقیات انسانی اقدار، معاشرتی رویوں اور باہمی تعلقات کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے Professionalism کے حوالے سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا اور کہا کہ ایک بہترین طبی ماہر کے لیے صرف علمی قابلیت اور تکنیکی مہارت کافی نہیں بلکہ مؤثر ابلاغ درست طبی فیصلہ سازی، جذباتی توازن اقدار، خود احتسابی اور مریض و معاشرے کی فلاح کے لیے مسلسل کوشش بھی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ ورکشاپ میں طبی اخلاقیات کے اہم رہنما اصولوں پر خصوصی توجہ دی گئی جن میں انسانی وقار کا احترام، آزادانہ اور باخبر رضامندی، کمزور اور حساس افراد کا تحفظ، مریض کی رازداری اور پرائیویسی، انصاف اور مساوات، نقصان کو کم سے کم کرنا، زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا، سچائی اور دیانت داری شامل ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عابد جمیل نے اس بات پر زور دیا کہ ہسپتالوں اور طبی اداروں میں ایسا اخلاقی تنظیمی کلچر تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جہاں مریضوں کے حقوق، عزتِ نفس اور تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہو اور ہر سطح پر شفافیت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری یقینی بنائی جائے۔ ورکشاپ میں طبی ماہرین، فیکلٹی ممبران، طلبہ و طلبات اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ورکشاپ کو طبی اخلاقیات کو عملی میدان میں مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے حوالے سے ایک اہم اور مفید کاوش قرار دیا۔ یہ خصوصی سیشن انٹرنیشنل میڈیکل ریسرچ کانفرنس IMRC’26 کے علمی و تحقیقی سلسلے کا اہم حصہ تھا جس کا مقصد طبی تحقیق، تعلیم، اخلاقیات اور جدید طبی طریقہ کار کے حوالے سے ماہرین اور شرکاء کو ایک مشترکہ علمی پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔