پشاور، 10 ستمبر 2026: اقلیتی برادری کے آئینی و قانونی حقوق اور انہیں حاصل سہولیات سے متعلق ون مین کمیشن کا اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ون مین کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر محمد شعیب سڈل نے کی۔ اجلاس میں اقلیتی برادری کے نمائندوں، انتظامی سیکرٹریز اور پولیس حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شعیب سڈل نے کہا کہ اقلیتی برادری کو آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے خیبرپختونخوا نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے اقلیتی حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد میں صوبے کی کارکردگی کو قابلِ تعریف قرار دیا۔
اجلاس میں اقلیتی برادری کے لیے مختص پانچ فیصد سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں اقلیتی برادری کے لیے مجموعی طور پر 3,380 سرکاری آسامیاں مختص ہیں، جن میں سے 1,282 اہل امیدواروں کو پانچ فیصد کوٹے کے تحت بھرتی کیا جا چکا ہے، جبکہ 2,106 آسامیاں تاحال خالی ہیں۔
ڈاکٹر شعیب سڈل نے خالی آسامیوں پر اقلیتی امیدواروں کی بروقت بھرتی کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مطلوبہ اہلیت رکھنے والے امیدوار دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اقلیتی روزگار کوٹے پر عملدرآمد کے لیے متبادل طریقہ کار اور دیگر آپشنز پر غور کیا جائے۔
اجلاس میں اقلیتی نوجوانوں کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے ایک اکیڈمی قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ ایسی اکیڈمی اقلیتی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے مؤثر طور پر فائدہ اٹھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
سرکاری جامعات میں اقلیتی طلبہ کے لیے مختص دو فیصد کوٹے پر عملدرآمد بھی اجلاس کا اہم موضوع رہا۔ حکام نے بتایا کہ تمام سرکاری جامعات نے آئندہ داخلوں میں دو فیصد اقلیتی طلبہ کوٹے پر مکمل عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گوردوارہ سارا گڑھی سنگھ سبھا، ہنگو کو سیکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق گوردوارے کی رجسٹریشن مکمل ہوتے ہی مزید ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر شعیب سڈل نے متعلقہ حکام کو رجسٹریشن کے عمل میں تعاون کی ہدایت کی۔
اجلاس میں اقلیتی ملازمین کی تقرری اور تبادلوں کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کی سربراہی ڈاکٹر محمد شعیب سڈل کریں گے۔ کمیٹی اقلیتی ملازمین کی تقرری اور تبادلوں کے عمل کے لیے واضح پالیسی اور رہنما اصول مرتب کرے گی۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ، انہیں آئینی و قانونی سہولیات کی فراہمی اور عملی مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ شرکاء نے کہا کہ اقلیتی برادری کے آئینی و قانونی حقوق کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔