عقیل یوسفزئی
حکومت پاکستان کے پہلے سے اعلان کردہ فیصلے کے مطابق پاکستان میں مقیم لاکھوں مزید افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کا یکم اپریل سے آغاز کردیا گیا ہے اور حکومت نے افغانستان کی عبوری حکومت اور بعض سیاسی جماعتوں کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔ یکم اپریل کو تقریباً 106 افغان باشندوں کو راولپنڈی اسلام آباد سے طورخم میں قائم عارضی کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں سے ان کو بعض دیگر کے ساتھ افغانستان روانہ کردیا گیا ۔ حکام کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ طورخم اور چمن کے راستے ان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے انتظامات کیے گئے ہیں اور اس مقصد کے لیے چار سے زائد مقامات پر بڑے عارضی کیمپس قائم کیے گئے ہیں ۔ اس سے قبل دو مراحل کے دوران پاکستان سے تقریباً 11 لاکھ مہاجرین کو واپس بھیجا جاچکا ہے اس پس منظر میں جاری عمل کو فیز 3 کہا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کی طرح ایران اور بعض وسطی ایشیائی ممالک سے بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ مہاجرین کے مسائل اور افغانستان کے حالات سے قطع نظر پاکستان سمیت ان تمام ممالک کا موقف یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے اس لیے مہاجرین کے دیگر ممالک میں مہاجرت کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے اس لیے وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں ۔ دوسری وجہ یہ قرار دی جارہی ہے کہ افغان مہاجرین میں سے بعض ان ممالک کے اندر دہشتگردی اور اسمگلنگ کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اس لیے ان کو سیکورٹی پوائنٹ آف ویو سے رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پاکستان کی اس پالیسی کے پیچھے ان دو عوامل کے علاوہ افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر پاکستان مخالف گروپوں کو دی گئی سہولت کاری کا مسئلہ بھی شامل ہے ۔ اس سے جڑی دوسری دلیل یہ ہے کہ افغان مہاجرین کی اکثریت نہ صرف پاکستان مخالف لوگوں پر مشتمل ہے بلکہ اکثر یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ ان کے بقول افغانستان سیکورٹی اور معاشی طور پر اب پاکستان سے بہتر ہے ۔ اس تناظر میں پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو افغان مہاجرین اپنے ملک واپس کیوں نہیں جاتے ؟
پاکستان میں مقیم تقریباً 56 فی صد مہاجرین خیبرپختونخوا میں قیام پذیر ہیں اور ڈیٹا کے مطابق اس وقت یہاں قیام پذیر مہاجرین کی تعداد 12 سے 14 لاکھ کے درمیان ہے ۔ اس لئے سب سے زیادہ انتظامات یہاں کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے نصف سے زائد کے پاس درکار کارڈز یا دستاویزات ہیں تاہم اب کے بار ان کو بھی نکلنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ خیبرپختونخوا میں ان مہاجرین کے لیے کئی دہائیوں قبل قایم کیے گئے کیمپوں کی تعداد 43 تھی تاہم ان کی اکثریت کیمپوں سے باہر رہ رہی ہے اور اکثر کاروبار اور ملازمتیں بھی کرتے ہیں اس لیے ان کو معیشت پر بوجھ بھی سمجھا جاتا ہے تاہم اس نکتے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جب 20 برسوں تک افغانستان میں امریکی اور نیٹو کی بے پناہ سرمایہ کاری آرہی تھی تب بھی یہ مہاجرین اپنے ملک واپس نہیں گئے ۔ بلکہ ان کی مزید آمد کا سلسلہ جاری رہا ۔ یہاں تک رپورٹ کیا گیا کہ اگست 2021 کے بعد مزید 6 لاکھ افغان باشندے پاکستان آگئے جن میں تقریباً 2 لاکھ وہ شامل ہیں جو کہ پاکستان کے راستے یورپ ، امریکہ اور کینیڈا چلے گئے اور اس وقت انہی لوگوں میں سے 85 ہزار ایسے ہیں جو کہ باہر منتقل ہونے کی کوشش میں پاکستان میں قیام پذیر ہیں مگر امریکہ سمیت دیگر ممالک بوجوہ ان کو اپنی نئی پالیسیوں کے باعث اپنے ممالک میں آنے کی اجازت نہیں دے رہے ۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس چلے جائیں اور پاکستان کوشش کرے کہ ان کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ان میں سے اکثر کو واقعتاً سخت مشکلات کا سامنا ہے اور ان کو تمام تر تحفظات کے باوجود ہماری ہمدردی اور مدد کی ضرورت ہے۔
(3 اپریل 2025 )