Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, August 30, 2025

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان
باجوڑکے تحصیل ماموندمیں گزشتہ ماہ سیکیورٹی فورسزنے دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کافیصلہ کیاتھا۔جس پرسیاسی اورغیرسیاسی مقامی عمائدین نے خون خراباروکنے کی کوشش کی۔جرگہ نے سیکیورٹی فورسزسے دودن کاوقت مانگاجوبعدازاں دس دن پرمحیط ہوا۔ جرگہ نے دہشتگردوں کوعلاقہ خالی کرنے یابستیوں سے نکل کرلڑنے کامشورہ دیامگردہشت گردمرنے مارنے پرآمادہ تھے۔ دہشت گرد جانتے ہیں کہ وہ پاک فوج کے سامنے تادیر ٹھہرنے کی سکت سے عاری ہیں اسلئے وہ آبادی سے نکل کردوبدولڑنے کی بجائے بستیوں میں معصوم اور پرامن شہر یوں کی آڑلیتے ہیں۔جرگہ کی ناکامی کے بعدآپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔مقامی آبادی نے علاقے سے نکلنے کافیصلہ کیاتوان کیلئے باجوڑ کے دیگرعلاقوں میں سرکاری سکول خالی کروالئے گئے۔ اطلاعات کے مطابق تیرہ سوسے زائدخاندان سرکاری سکولوں،نوہزار باجوڑ سپورٹس کمپلیکس جبکہ بیس ہزارکے قریب خاندان اپنے رشتے داروں کے ہاں منتقل ہوچکے ہیں۔صوبائی کابینہ نے باجوڑسپورٹس کمپلیکس میں متاثرین کیلئے عارضی کیمپ قائم کرنیکی منظوری دیتے ہوئے پی ڈی ایم اے کوفوری فنڈزجاری کرنیکی ہدایت کردی ہے۔کابینہ کی 36 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ”ملک دشمن عناصرعدم استحکام چاہتے ہیں، دہشت گردی سے سب یکساں طورپر متاثرہوتے ہیں یہ کسی صورت قابل برداشت نہیں۔ ہم نے روزاول سے امن کیلئے جرگوں کاسلسہ شروع کیاان کوششوں کامقصددہشتگردی کے خلاف عوام کو اعتمادمیں لیناہے۔ حکومتی عملداری ہرصورت برقرار رکھی جائیگی،آپریشن کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی آپریشن ہورہا ہے صرف ٹارگٹڈکارروائیاں ہورہی ہیں جس میں سویلین کانقصان قابل قبول نہیں باجوڑکامعاملہ جرگہ نے حل کرنیکی کوشش کی مگر مذا کرات ناکام ہونے پرٹارگٹڈکارروائیوں کافیصلہ کیاگیا جولوگ رضا کارانہ نقل مکانی کرناچاہتے ہیں انہیں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جو حکومت کی ذمہ داری ہے“۔درحقیقت آپریشن کے نام کوسیاسی طورپر اتنابدنام کیاگیاہے کہ اب کوئی ضروری کارروائی بھی ہورہی ہواسے فوجی آپریشن کانام دیکرمتنازعہ بنادیاجاتاہے۔دہشتگردوں نے بستیوں میں کمین گاہیں قائم کرکے ریاستی رٹ کوچیلنج کیاہے انکے خلاف کارروائی سے عام لوگ ضرورمتاثرہونگے،دہشتگردبھی اسی کافائدہ اٹھانا چاہتے ہیں عام لوگ متاثرہونے سے رائے عامہ ریاست اور حکومت کے خلاف ہوگی جس سے عدم استحکام پیداہوگا۔عوام کوریاست سے بدظن کرنیوالاملک دشمن قوتوں کا یہ ایجنڈابہرصورت ناکامی سے دوچارہوگا۔غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق باجوڑکے تحصیل ماموندمیں لگ بھگ ایک ہزار دہشتگرد موجود ہیں جن میں 80فیصد کاتعلق افغانستان سے ہے سیکیورٹی فورسزکوجلدازجلدان کاقلع قمع کرکے علاقہ کلیئر کروانے پرتوجہ مرکوزکرناہوگی تاکہ متاثرین جلدازجلد اپنے گھرو ں کوواپس جاسکیں۔ صوبائی حکومت اوراپوزیشن جماعتوں کوبھی ذمہ داری کامظاہرہ کرناہوگا۔اگرفورسزعلاقے پرقابض دہشتگردوں کے خلاف آپریشن نہیں کریگی توان سے کیسے نمٹاجائیگا؟ حکومت اوراپوزیشن دونوں کواس معاملے پرسیاست چمکانے کی بجائے ریاست اور سیکورٹی فورسزکابھرپورساتھ دیناچاہئے تاکہ وہ لوگ جو ریاست کے اندراپنی ریاست قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں یاریاستی رٹ کوچیلنج کر رہے ہیں ان کاخاتمہ ہو۔وزیراعلیٰ جرگوں کاکریڈٹ لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگریہ جرگے تاحال کوئی مثبت تاثرقائم کرنے میں ناکام ہیں۔
پشاورہائیکو رٹ نے قومی اسمبلی اورسینیٹ میں نئے اپوزیشن لیڈرزکی تقرری روکتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سپیکرقومی اسمبلی اورمتعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20اگست تک جواب طلب کرلیاہے۔دورکنی بنچ کے سامنے پی ٹی آئی چیئرمین گوہرخان نے بطوروکیل مؤقف اپنایا کہ سپیکرقومی اسمبلی نے عمرایوب جبکہ چیئرمین سینیٹ نے شبلی فرازکوڈی نوٹیفائی کرکے انکی نشستیں خالی قراردی ہیں۔اس سے قبل الیکشن کمیشن نے دونوں کونااہل قراردیاتھا۔اپوزیشن لیڈرآئینی عہدہ ہے کسی فردکے ممبراسمبلی بننے پرالیکشن کمیشن کاکام ختم ہوجاتاہے۔ سپریم کورٹ کافیصلہ موجودہے کہ الیکشن کمیشن کسی ممبرکونااہل قرارنہیں دے سکتا۔9مئی افسوسناک واقعہ تھاجونہیں ہوناچاہئے تھاہم ان واقعات کی مذمت کرچکے ہیں۔ہم 180نشستیں جیتنے کے باوجود اسمبلی میں 91ارکان کیساتھ گئے مگراب یہ تعدادگھٹ کر77رہ گئی ہے۔ جب تک سپیکرکی جانب سے ریفرنس نہیں آتا الیکشن کمیشن خودسے کارروائی کامجازنہیں یہ غیرقانونی اورغیرآئینی اقدام ہے۔دوسری جانب شبلی فرازنے اپنانام ای سی ایل میں ڈالنے کے خلاف بھی پشاورہائیکورٹ سے رجوع کیا۔درخواست گزارکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شبلی فرازکانام ای سی ایل سے نکال کراب پی این آئی ایل میں ڈالاگیاہے۔جس پربنچ نے رٹ نمٹاتے ہوئے کہاکہ درخواستگزاراب سزا یافتہ ہے اسلئے رٹ کی کوئی حیثیت نہیں اب یاتووہ جیل جائینگے یاپھرعدالت سے ضمانت لینگے۔دونوں کیسزکی سماعت جسٹس سیدارشدعلی اور جسٹس ڈاکٹر خورشیداقبال پرمشتمل دورکنی بنچ نے کی۔ اعظم سواتی نے بھی بیرون ملک جانے سے روکنے پرعدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے۔ پی ٹی آئی راہنماگزشتہ دوبرسوں سے راہداری ضمانتوں اوردیگرمعاملات کیلئے پشاورہائیکورٹ سے رجوع کررہے ہیں جہاں سے انہیں بسااوقات ریلیف بھی مل جاتاہے۔ عمرایوب کوسزافیصل آبادکی انسداددہشتگردی عدالت نے دی ہے مگروہ ریلیف کیلئے لاہورکی بجائے پشاور ہائیکورٹ آتے ہیں۔ باربارایک ہی عدالت سے رجوع اورریلیف سے غیرجانبداری پرزدپڑتی ہے۔ہائیکورٹ نے سپیکرصوبائی اسمبلی کی جانب سے مخصوص نشستوں پرگورنر ہاؤس میں حلف لینے کے خلاف تحریری حکم جاری کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل سے مخصوص نشستوں پر حلف کاشیڈول طلب کرلیاہے۔تحریر ی حکم میں کہاگیاہے کہ درخواست میں 20جولائی کے فیصلے پرسوالات اٹھائے گئے ہیں چیف جسٹس ہائیکورٹ نے آرٹیکل255(2) کے تحت ممبران سے حلف کیلئے گورنرکو نامزد کیا گورنرکی جانب سے حلف لینے پرسوالات اٹھائے گئے ہیں۔اے جی نے بتایاکہ آرٹیکل 255 کے تحت ممبران سے حلف صرف سپیکرلے سکتے ہیں سپیکرملک میں موجودنہ ہوں یاحلف لینے سے انکارکریں توچیف جسٹس کسی دیگرفرد کو نامزد کر سکتے ہیں۔ممبران کے وکیل نے بتایاکہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات کاشیڈول جاری کردیاتھاسپیکرممبران سے حلف لینانہیں چاہتے تھے انہوں نے اجلاس سینیٹ انتخابات کے بعدتک ملتوی کیاجس سے ممبران ووٹ کا حق استعمال کرنے سے قاصرتھے۔ اسلئے چیف جسٹس نے گورنرکونامزدکیا۔
امن وامان پرصوبائی اسمبلی کاطلب کردہ اجلاس حکومتی اوراپوزیشن ارکان کی مخالفانہ بیان بازی تک محدودہوکررہ گیاہے۔لفظی گولہ باری اور الزام تراشیوں نے غیرسنجیدہ ماحول کوجنم دیاہے۔صوبائی وزرا،حکومتی اوراپوزیشن ارکان کی غیرحاضری سے کورم کاٹوٹنااوراجلاس کا التوا معمول بن چکاہے۔اجلاس میں موجودارکان سوشل میڈیاویوزکیلئے منافرت پرمبنی آوازے کستے ہیں۔ جس پرسنجیدہ اورفہمیدہ حلقوں نے نا پسندیدگی کا اظہار کیاہے غیرسنجیدگی سے اسمبلی اجلاس بے وقعت ہوکررہ گیاہے۔ایوان کی تکریم برقراررکھنے کیلئے دونوں جانب کے ارکان کوذمہ داری کامظاہرہ کرناچاہئے۔
سی ٹی ڈی خیبرپختونخواکے مطابق پشاورسے داعش خراسان نیٹ ورک کاخاتمہ کردیاگیاہے۔ڈی ایس پی سردارحسین،مفتی منیر شاکر اور ورسک روڈپر پولیس وین کوتھرمل ٹیکنالوجی سے نشانہ بنانے والے گروہوں تک رسائی جدیدٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوئی۔پشاورکے مختلف علاقوں میں 18دہشت گرد کارروا ئیوں میں ملوث نیٹ ورک سے بھاری مقدارمیں اسلحہ،گولہ باروداورآئی ای ڈیزبرآمدکی گئی ہیں۔ہائی ویز پرچیک پوسٹیں قائم کرنیوالے گروہوں کاخاتمہ کردیاگیاہے۔سی ٹی ڈی کامتحرک ہونااورغیرمعمولی کارکردگی کا مظا ہرہ کرناخوش آئندہے۔ اس سے فوج پردباؤمیں کمی ہوگی اورسیاسی بیانئے فوجی آپریشنزکی بجائے عوامی مسائل پرترتیب دئے جانے کی راہ ہموارہوگی۔
صوبے میں بارشوں،سیلاب اوربادل پھٹنے سے بدترین صورتحال کاسامناہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق 214افرادسیلابی ریلوں میں بہنے اورچھتیں گرنے سے جان کی بازی ہارچکے ہیں۔باجوڑمیں امدادی کارروائیوں کے دوران صوبے کاملکیتی ہیلی کاپٹربھی گرکرتباہ ہو گیاہے۔جس میں دوپائلٹوں سمیت 5افرادجاں بحق ہوگئے ہیں۔صوبے میں بروزہفتہ 16اگست کویوم سوگ کااعلان کیاگیاہے۔پاک فوج کے دستے،این ڈی ایم اے اوردیگرادارے ریسکیوسرگرمیوں میں مصروف ہیں۔صوبائی حکومت نے متاثرہ اضلاع کیلئے 50 کروڑ روپے امدادی رقم کااعلان کیاہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket