عقیل یوسفزئی
پاکستان کے مختلف علاقوں سے افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ہزاروں خاندان پاکستان کی جانب سے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل طورخم اور چمن کے راستے افغانستان واپس چلے گئے ہیں ۔ مہاجرین کی واپسی کی فیز تھری کے دوران اعلان کیا گیا ہے کہ تمام افغان مہاجرین یکم ستمبر سے پہلے واپس چلے جائیں ورنہ اس کے بعد کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔ درمیان میں اس قسم کی اطلاعات بھی سامنے اتی رہیں کہ شاید پاکستان حسب سابق مہاجرین کے قیام میں مزید چند ماہ کی توسیع کرے اور اس ضمن میں افغان عبوری حکومت ، یو این ایچ سی آر اور بعض سیاسی جماعتوں نے توسیع دینے کے مطالبات بھی کیے تھے مگر تادم تحریر اس قسم کی کسی توسیع یا رعایت کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی ریاست اپنے فیصلے پر عمل پیرا ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد پاکستان اور ایران سے تقریباً 15 لاکھ افغان مہاجرین واپس بھیجے گئے ہیں ۔
پاکستانی حکام کے مطابق اس وقت بھی پاکستان میں مزید 14 سے 17 لاکھ تک مہاجرین قیام پذیر ہیں ۔ ان میں اکثریت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں موجود ہیں اس لیے اس صورتحال نے ان دو صوبوں کے انتظامی مسائل کے علاؤہ ان کی معیشت پر بھی کئی سوالات پیدا کیے ہیں کیونکہ کئی نسلوں پر مشتمل افغان مہاجرین مقامی سطح پر اربوں کا کاروبار بھی کرتے آرہے ہیں اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض حلقے مطالبہ کررہے ہیں کہ بزنس کمیونٹی ، اسٹوڈنٹس اور شادیاں کرنے والے افغان باشندوں نے لیے کوئی رعایتی پیکج دیا جائے ۔
پشاور میں مقیم افغان صحافی مسکا صافی کے مطابق افغان باشندے اس صورتحال سے بہت پریشان ہیں کیونکہ جس ملک میں ان کو واپس بھیجا جارہا ہے وہاں کے مجموعی حالات رہنے کے قابل نہیں ہیں اور متعدد حلقوں کی زندگیوں کو بھی وہاں خطرات لاحق ہوسکتے ہیں تاہم پشاور کے سینئر صحافی آصف نثار غیاثی کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے نہ صرف یہ کہ تھک گیا ہے بلکہ ان کی وجہ سے پاکستان کی سیکورٹی اور معیشت کو بھی متعدد چیلنجر درپیش ہیں اپر سے افغانی موقع ملنے پر پاکستان کو گالیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتے اس لیے ان کو واپس ان کے ملک میں بھیجنے کی اشد ضرورت ہے ۔
اس معاملے پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات یقینی طور پر متاثر ہوں گے ۔ اپر سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کی افغان سرزمین پر موجودگی کے معاملے نے بھی ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے جس کو تجزیہ کار تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔
گزشتہ دنوں افغانستان کی عبوری حکومت اور کالعدم ٹی ٹی پی نے الزام لگایا کہ پاکستان نے صوبہ ننگرہار اور خوست میں بعض ٹھکانوں یا گھروں پر ڈرون حملے کیے ہیں ۔ بتایا گیا کہ ان حملوں کے دوران بچوں اور خواتین سمیت سویلین کو نشانہ بنایا گیا اور اس سلسلے میں کابل میں متعین پاکستان کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب بھی کیا گیا تاہم پاکستان نے ایسے حملوں اور سویلین کی ہلاکتوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے غیر رسمی طور پر ڈیجیٹل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر موقف اپنایا کہ ننگر ہار ، خوست اور پکتیکا میں کالعدم ٹی ٹی پی کے مفتی نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر گروپوں کے درمیان بعض اختلافاتی معاملات پر جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں فریقین کو بڑا جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ان جھڑپوں میں بچے اور خواتین بھی نشانہ بنی ہیں ۔
اصل حقائق کیا ہیں اور اس تمام صورتحال کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اس پر بحث سے قطع نظر تلخ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات چین اور بعض دیگر دوست ممالک کی کوششوں اور سفارتی چینلز کی فعالیت کے باوجود نارمل نہیں ہو پارہے اور خدشہ ہے کہ اگر اعتماد سازی کے لیے بعض غیر مروجہ اقدامات نہیں کیے گئے تو بداعتمادی اور بلیم گیم میں مزید اضافہ ہوگا اس لئے ماہرین تجویز دیتے آرہے ہیں کہ اس ضمن میں مزید تلخی سے بچنے کے لیے سفارتی اور سیاسی روابط کو فروغ دیا جائے تاکہ تعلقات میں موجود کشیدگی کو کم کیا جائے ۔
