Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, January 2, 2026

18ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کا گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ

18ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء پر مشتمل ایک وفد نے گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا۔ وفد کی قیادت بریگیڈیئر بلال غفور کر رہے تھے، جبکہ وفد میں بلوچستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ اور فیکلٹی اراکین شامل تھے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ورکشاپ کے شرکاء کو گورنر ہاؤس آمد پر خوش آمدید کہا اور نئے سال کی مبارکباد پیش کی۔ ملاقات کے دوران شرکاء نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات، تعلیمی شعبے کی ترقی، یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل اور قدرتی وسائل سے متعلق مختلف سوالات کیے۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی ثقافت مشترکہ ہے اور دونوں صوبے افغان سرحد سے منسلک ہونے کے باعث سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملنے والے فنڈز سے خیبرپختونخوا پولیس کی استعداد کو مطلوبہ حد تک نہیں بڑھایا گیا، حالانکہ پولیس ایک بہادر اور انتہائی پیشہ ور فورس ہے، مگر بدقسمتی سے دہشت گردی کے مقابلے کے لیے درکار جدید اسلحہ اور سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کو اب افغان سرحد کے ذریعے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کا سامنا ہے اور متعدد دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں، کیونکہ مؤثر انٹیلی جنس کے بغیر دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔

گورنر نے سیکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو سیاسی دائرہ کار میں ہی رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس صوبے کو دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

تعلیمی شعبے پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں تعلیم پر سنجیدہ توجہ اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کی 34 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے لیے مالی سال کے بجٹ میں 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم اگر یونیورسٹیوں کو مطلوبہ فنڈز فراہم نہ ہوں تو بہتر تعلیمی نتائج کا حصول ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں آئل و گیس اور بجلی کی پیداوار کے باوجود صوبے کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں مل رہا، اور ہم مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان اس وقت کامیاب سفارتکاری کی جانب بڑھ رہا ہے اور عالمی قائدین کے دورے اس کا ثبوت ہیں، جن سے تاجر برادری سمیت تمام طبقات کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں ہائیڈل پاور کے وسیع مواقع موجود ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اپنی تعلیم، مثبت سوچ اور صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔

18ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کا گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ

Shopping Basket