پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں۔ اس موقع پر آزاد کشمیر، پاکستان اور مختلف ممالک میں تقریبات، ریلیوں اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ تقریبات کے دوران مقررین نے کشمیری عوام کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ریلیوں اور مظاہروں میں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔
یہ دن 5 جنوری 1949 کو منظور ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی یاد منائی جا رہی ہے، جس کے تحت کشمیری عوام سے ان کے حقِ خودارادیت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر نہ تو بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور نہ ہی کوئی حل شدہ تنازع، بلکہ یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کا واحد قانونی حل آزاد، شفاف اور غیر جانبدار رائے شماری ہے جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونی تھی۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت 560 سے زائد نوابی ریاستوں کو پاکستان یا بھارت سے الحاق کا اختیار دیا گیا تھا اور کسی آزاد یا خودمختار ریاست کی کوئی آئینی گنجائش موجود نہیں تھی، اس تناظر میں جموں و کشمیر پر بھی وہی اصول لاگو ہونا تھا کیونکہ خطے کی جغرافیائی حیثیت، معاشی روابط، آبادی کی اکثریت اور سیاسی رجحانات فطری طور پر پاکستان سے وابستہ تھے۔ یہ قرارداد آج بھی اقوام متحدہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے، جو نہ منسوخ ہوئی اور نہ ہی اس کی قانونی حیثیت ختم ہوئی، تاہم گزشتہ سات دہائیوں سے اس پر عملدرآمد نہ ہونا اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر زمین کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار کا معاملہ ہے۔ 5 جنوری اس امر کی یاد دہانی ہے کہ بھارتی قبضہ عوامی مرضی کا متبادل نہیں بن سکتا اور جب تک اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوتا، یہ دن ایک ادھورے عالمی وعدے کی علامت کے طور پر منایا جاتا رہے گا۔


