وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت شعبہ صحت کا اجلاس، جاری اصلاحات پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔ ہمیں فائر فائٹنگ کی بجائے ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ بڑے ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنے کیلئے پرائمری اور سیکنڈری ہسپتالوں کی ریویمپنگ پر کام تیز کیا جائے۔ اور غیر ضروری ریفرلز کی حوصلہ شکنی، ناگزیر ریفرلز کیلئے ٹھوس جواز اور بیڈ مینجمنٹ کا سنٹرلائیزڈ نظام قائم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخواکاکہنا تھا کہ غیر ضروری ریفرلز کے باعث مریضوں کو مشکلات اور بڑے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ایم ٹی آئی ہسپتالوں اور آئی سی یو میں بیڈز بڑھانے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔ پیڈیاٹرک سروسز پر خصوصی توجہ اور بچوں کے علاج کے لیے صحت کارڈ میں بجٹ مختص کرنے کی ہدایت کی۔ صحت کارڈ میں شامل نجی ہسپتالوں کے ساتھ برڈن شیئرنگ اور اس سے متعلق قواعد و ضوابط کو جلد حتمی بنانے کی بھی ہدایت۔ ڈاکٹرز کے لیے ہسپتالوں کے قریب ہاسٹل کا انتظام کیا جائے۔ ہسپتال اپنا سسٹم اپگریڈ کریں، لنک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ نتائج میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ بڑے ہسپتالوں کا مشترکہ ڈیش بورڈ ہونا چاہیے جسے باقاعدگی سے اپڈیٹ کیا جائے۔ صحت اور تعلیم عوام سے براہ راست منسلک ہیں، ان پر خصوصی توجہ دی جائے۔ وزیراعلیٰ کی ہسپتالوں کی بہتری کے لیے تمام تر ممکنہ اقدامات کرنے، دیرپا تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عوام کی صحت پہلی ترجیح، وسائل کی کمی آڑے نہیں آنے دیں گے۔


