یونیورسٹی آف لکی مروت نے علمی و تحقیقی میدان میں اپنی درخشاں روایت کو برقرار رکھتے ہوئے دوسری دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ICMICA کا کامیابی سے انعقاد کیا، جسے تعلیمی سرگرمیوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس کا مقصد جدید تحقیق، اختراعی خیالات اور عالمی سطح پر درپیش سائنسی و علمی چیلنجز پر ماہرین کے درمیان تبادلۂ خیال کو فروغ دینا تھا۔
کانفرنس میں ماہرین تعلیم، محققین، اسکالرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سائنسی سیشنز میں ریاضیات، کمپیوٹیشنل سائنس، ایڈوانسڈ میٹریلز اور انجینئرنگ کے پیچیدہ مسائل کے جدید حل پر تفصیلی بحث کی گئی۔ دو روزہ کانفرنس کا ایک اہم مقصد ضلع لکی مروت اور گردونواح کے طلبہ کو عالمی معیار کے ماہرین سے براہِ راست سیکھنے اور جدید تحقیق سے روشناس کرانا تھا، خصوصاً ایڈوانسڈ میٹریلز کی تیاری میں ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے کردار کو اجاگر کرنا۔
افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر تازہ گل نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس میں ممتاز ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی جن میں پروفیسر ڈاکٹر ولی خان مشوانی (ڈین آف سائنسز، یو ایس ٹی کوہاٹ)، پروفیسر ڈاکٹر دلنواز خان مروت (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آف میتھمیٹکس، اسلامیہ یونیورسٹی پشاور)، ڈاکٹر عامر سدا خان، ڈاکٹر حمید اللہ جان، ڈاکٹر فرہاد علی اور ڈاکٹر ناصر گل شامل تھے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد پسماندہ علاقے کے نوجوانوں کو جدید سائنسی علوم سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ICMICA کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ لکی مروت کے طلبہ عالمی سطح پر مقابلے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسی بین الاقوامی کانفرنسیں نہ صرف اساتذہ اور طلبہ کے لیے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں بلکہ یونیورسٹی کی علمی شناخت کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرتی ہیں۔
کانفرنس کے دوران شرکاء نے تحقیقی مقالے پیش کیے جن میں نینو میٹریلز، کمپوزٹس، سمارٹ مواد، ریاضیاتی ماڈلنگ اور کمپیوٹیشنل تکنیکوں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ مقررین نے جامعات کے مابین بین الاقوامی تعاون، تحقیق کے معیار میں بہتری اور سائنس و صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اختتامی سیشن میں شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اورنگزیب خان اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ شرکاء نے کانفرنس کو علمی لحاظ سے نہایت مفید قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے علمی و تحقیقی اجتماعات کا تسلسل جاری رہے گا۔


