محکمہ سپورٹس خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے ماڈل انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹ چلڈرن زمونگ کور، چارسدہ روڈ پشاور میں چار روزہ سپورٹس فیسٹیول کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔سپورٹس فیسٹیول کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری سپورٹس خیبرپختونخوا محمد آصف خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر زمونگ کور صداقت اللہ، ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض خان، ایڈیشنل ڈی جی سپورٹس مس رشیدہ غزنوی، ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔افتتاحی تقریب میں زمونگ کور کے بچوں نے مارشل آرٹس اور روایتی اتنڑ کا شاندار مظاہرہ پیش کیا، جسے شرکاء نے خوب سراہا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند نے کہا کہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود تمام بچے ہمارے اپنے بچے ہیں کیونکہ ان کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور صوبائی حکومت ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں بچوں کو غیر نصابی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ان بچوں میں کسی قسم کی صلاحیتوں کی کمی نہیں اور صوبائی حکومت انہیں بھرپور توجہ فراہم کر رہی ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے انعقاد کا بنیادی مقصد بچوں کو تفریح کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا ہے۔مشیر کھیل نے مزید بتایا کہ مستقبل میں انٹر مدارس گیمز، مائنارٹی گیمز، انڈر 21 گیمز اور ٹرانسجینڈر گیمز کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔اس موقع پر سیکرٹری سپورٹس خیبرپختونخوا اور ڈائریکٹر زمونگ کور نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں پر توجہ دینا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ بچے بھی معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں بھی مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔چار روزہ سپورٹس فیسٹیول میں زمونگ کور پشاور کے لڑکے اور لڑکیاں، زمونگ کور ایبٹ آباد، سوات کیمپس، ڈی آئی خان کیمپس، اخپل کور سوات، ایس او ایس اور دیگر یتیم بچوں کے اداروں سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد بچے کرکٹ، فٹبال، بیڈمنٹن، کبڈی، باسکٹ بال، رسہ کشی، اتھلیٹکس، والی بال اور میوزیکل چیئر جیسے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔


