عقیل یوسفزئی
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہورہا اور اس ضمن میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت غلط بیانی سے کام لے رہی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز اور وفاقی حکومت تیراہ سمیت ان تمام علاقوں میں انٹلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھیں گی جن کو دہشت گردی کا سامنا ہے ۔
اسلام آباد میں عطاء تارڑ اور اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج یا وفاقی حکومت نے تیراہ سے کسی کو بے دخل کرنے یا منتقل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ یہ تمام صورتحال صوبائی حکومت کی ایک نوٹیفکیشن کے باعث بنی جبکہ اس تاریخی حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ صدیوں سے سردی کے موسم میں تیراہ سے لوگ نچلے علاقوں میں منتقل ہوتے آرہے ہیں اور اب کے بار بھی ایسا ہوا ۔ وزیر دفاع کے بقول تیراہ میں نہ صرف 500 کے لگ بھگ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں بلکہ یہاں 12 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پوست کی کاشت بھی ہوتی ہے جس سے دہشت گرد بھی فایدہ اٹھاتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت نقل مکانی کی پراسیس میں ملوث نہیں تو 4 ارب روپے کا بجٹ کیوں مختص کیا گیا ۔
جس روز وزیر دفاع یہ پریس کانفرنس کررہے تھے اسی دن خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیراہ کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود اسٹیڈیم میں ایک جرگہ منعقد کرنے جارہے ہیں جس میں ” بند کمروں” میں ہونے والے فیصلوں کو مسترد کیا جائے گا ۔ ان کے بقول ان کی حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے اور یہ کہ 24 رکنی تیراہ کمیٹی یا جرگہ میں صوبائی حکومت ، پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا ۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ درجنوں فوجی آپریشنز کے ذریعے امن قائم نہیں کیا جاسکا اور آپریشن نتائج دینے میں ناکام رہے ۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ عوامی حلقوں کے علاوہ اے این پی ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، جے یو آئی اور جماعت اسلامی سمیت اکثر پارٹیاں پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام لگاتی رہی ہیں اور اب یہ بات سب کو معلوم ہوچکی ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف ریاست مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے بلکہ یہ اس افغان عبوری حکومت کی وکالت بھی کرتی آرہی ہے جس نے کالعدم گروپوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کھلے عام استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔
جہاں تک اس بیانیہ کا تعلق ہے کہ فوجی آپریشنز نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں یہ برخلاف حقائق بیانیہ ہے ۔ ماضی میں شمالی اور جنوبی وزیرستان متعدد بار ریاستی رٹ سے باہر ہو کر طالبان وغیرہ کے قبضے میں چلے گئے تھے اور وہاں متوازی حکومتیں قائم کی گئی تھیں تاہم فوجی کارروائیوں کے باعث ریاستی رٹ قائم کی گئی اور اب وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ماضی کی طرح طالبان وغیرہ کے ٹھکانے موجود ہو۔ دہشت گرد افغانستان سے دراندازی کرتے ہوئے حملے تو کرتے ہیں مگر ان کو نہ صرف یہ کہ روزانہ کی بنیاد پر فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ افغانستان میں بھی 2025 کے دوران متعدد بار ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔
سال 2025 کے دوران خیبرپختونخوا کے تین قبائلی اضلاع کرم ، باجوڑ اور مہمند کے بعض علاقوں میں طالبان نے حملوں کے علاؤہ عوام کو ” یرغمال” بناکر ٹھکانے قائم کیے اور انہوں نے جرگوں کے مذاکرات کے باوجود جب نکلنے سے انکار کیا تو فورسز نے ریکارڈ وقت میں آپریشن کرکے یہ علاقے کلیئر کیے اور آج ان علاقوں میں کافی حد تک امن قائم ہے ۔
اس سے قبل جب سوات سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے متعدد علاقوں میں پاکستان کا جھنڈا اتارا گیا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے ہوئے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو وہاں اس وقت کی عسکری قیادت ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نے ایک پیج پر رہتے ہوئے ریکارڈ وقت میں پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین آپریشن کرکے نہ صرف امن قائم کیا بلکہ 20 لاکھ سے زائد متاثرین کو زبردست پیکجز دیکر ان کی واپسی اور بحالی کو بھی ممکن بنایا ۔اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہے کہ فوجی آپریشنز نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں ۔
دہشت گردی کی حالیہ لہر کے دو تین اسباب بہت واضح ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس میں اضافہ اگست 2021 کے دوران افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ہوا کیونکہ افغان طالبان نے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر کو نہ صرف پاکستان پر حملہ آور ہونے کی سرپرستی کی بلکہ ان کو امریکہ اور نیٹو کا چھوڑا ہوا اسلحہ بھی فراہم کیا ۔
دوسری وجہ یہ رہی کہ بانی پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں ان کی خصوصی ہدایت پر ان ہزاروں دہشت گردوں کو افغانستان سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں منتقل کیا گیا جو کہ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں پاکستان سے بھاگ گئے تھے ۔ اسی طرح فوج اور دیگر اداروں کے زیر تحویل سینکڑوں ہزاروں دہشت گردوں کو بھی رہائی دلائی گئی جنہوں نے بعد میں پُرانی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں ۔
گزشتہ 12 برسوں سے شورش زدہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے مگر یہ پارٹی پرو طالبان ، پرو افغانستان پالیسیوں پر عمل پیرا رہی اور اس کی صوبائی حکومتوں نے ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی بجائے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ اور بلیک میلنگ کے لیے دہشتگردی کی کھل کر سرپرستی کی جس کے باعث معاملات الجھتے رہے اور موجودہ صوبائی حکومت بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری متعدد بار دوٹوک انداز میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ فوج ایک وفاقی ادارہ ہے اور اس کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔
تیراہ سمیت متعدد علاقوں میں اس تمام عرصے کے دوران انٹلیجنس بیسڈ آپریشنز ہوتے رہے ہیں تاہم وزیر اعلیٰ اور ان کی حکومت کی ” سوئی” تیراہ پر اس لیے اٹکی ہوئی ہے کہ یہاں کی دہشت گردی ، منشیات فروشی اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار اور سرگرمیوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ سمیت پی ٹی آئی کے متعدد لیڈروں کے ذاتی مفادات جڑے ہوئے ہیں ۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ اور پروپیگنڈا ترک کرتے ہوئے عوام میں ابہام پیدا کرنے کی بجائے اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلاکر حقیقت پسندانہ فیصلے کئے جائیں ۔

