وصال محمدخان
جرگہ پختون روایات کا لازمی حصہ تصورہوتاہے۔دنیاکے جس خطے میں پختون قوم آبادہے اس پرصدیوں سے دوسری اقوام حملہ آورہوتی رہی ہیں،کبھی مغلوں نے حملہ کیا،کبھی سکھوں نے آگ وخون کادریاپارکرکے یہ علاقہ فتح کیاتوکبھی انگریزوں نے اسے تاج برطانیہ میں شامل کیا مگرکسی طالع آزمایاغاصب کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ پختونوں کی عظیم روایت یعنی جرگے کاخاتمہ کرسکیں۔پختون معاشر ے میں یہ روایت صدیوں پرانی ہے جس کے تحت سنگین اورگھمبیرمسائل کاحل نکالاجاتاہے خصوصاًقبائلی معاشرے اسی جرگہ سسٹم کے تحت چلتے ہیں۔ خیبرپختونخواکے وسطی،جنوبی،شمالی اورہزارہ بیلٹ میں بھی جرگوں کی روایت موجودہے جس کے ذریعے خونی دشمنیاں دوستی میں بدل جاتی ہیں اورلوگ جرگوں کے طفیل قتل بھی معاف کردیتے ہیں۔خیبرپختونخواکے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے برسر اقتدار آتے ہی صوبائی اسمبلی میں ایک جرگہ منعقدکیاجس میں تقریباًتمام سیاسی جماعتوں،قبائلی مشران،سابق اورموجودہ پارلیمنٹرینز اور اعلیٰ عہدیداروں نے شر کت کی۔صوبائی حکومت اسے اپنی بہت بڑی کامیابی قراردے رہی ہے اورگاہے بگاہے اس کاذکرخیربھی ہوتاہے کہ ہم نے عہدہ سنبھالتے ہی جرگہ منعقدکیاجرگہ تو منعقد کیا گیا اوراس کے ڈھول پیٹے گئے مگراس کاجواعلامیہ سامنے آیاتھااس پرکتناعملدر آمدہوا؟ 12نومبر 2025 کو سپیکر بابرسلیم سواتی کی سربراہی میں منعقدہونیوالے جرگے کااعلامیہ پیش خدمت ہے پڑھیں اورسوچیں کہ اس پرکتنا عملدرآمدہوااورکیایہ واقعی اپوزیشن لیڈرڈاکٹرعبادکے بقول نشستند،گفتنداوربرخاستندنہیں تھا؟”جرگہ شرکاء کی جانب سے تجاویزآنے پر سپیکر نے اعلامیہ پڑھ کر سنایاجس میں دہشت گردی کی مذمت کی گئی اورکہاگیا کہ دہشتگردی کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کواعتمادمیں لیاجائے، داخلی سلامتی کی ذمہ داریاں پولیس اورسی ٹی ڈی کودی جائیں، ضرورت پڑنے پردیگراداروں سے معاونت لی جائے،غیرضروری چیک پوسٹیں ختم کی جائیں، شورش زدہ علاقوں میں معدنیات کی غیرقانونی منتقلی روکی جائے،پاک افغان تجارتی راستے کھو لے جائیں،افغان پالیسی میں صوبائی حکومت سے مشاور ت کی جائے، افغانستا ن کیساتھ جنگ کی بجائے سفارتکاری کوترجیح دی جا ئے، صوبائی حکومت اوراسمبلی نیشنل ایکشن پلان مرتب کریں،امن و امان کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کی منظورشدہ قراردادوں پرعملدرآمد کیا جائے،،صوبائی حکومت پولیس اورسی ٹی ڈی کی مالی ضروریات پوری کرے، وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے درمیان تناؤ ختم کیا جائے، مشتر کہ مفادات کونسل کااجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایاجائے،غیرقانونی محصولات اوربھتہ خوری کے خاتمے کیلئے مربوط پالیسی بنائی جائے، صوبائی اسمبلی کو سیکیورٹی اداروں کی کارروا ئیوں اورقانونی بنیادوں پربریفنگ دی جائے،صوبائی سطح پرامن کیلئے فورسز قائم کی جائیں، مقامی حکومتوں کے استحکام اورمالی تحفظ کیلئے ترامیم کی جائیں،نیشنل فنانس کمیشن کوصوبائی فنانس کیساتھ منسلک کیا جائے، وفاق کے ذمے صوبے کی آئینی اور مالی حقوق کی مدمیں رقوم اداکی جائیں،آرٹیکل 151کے تحت بین الصوبائی تجارت پرعملدر آمد کیاجائے ”جرگے کے اعلامیہ اورسفارشا ت میں بیشتر نکات کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے۔اُس جرگے کے اعلامیہ کوصوبائی حکومت ہی پش پشت ڈال چکی ہے جبکہ اب ایک اورجرگہ بلایاگیا۔بلکہ اب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جلسہ بھی کرتے ہیں تواسکی تشہیرجرگے کے نام سے کی جاتی ہے۔ 2008ء انتخابی مہم میں اے این پی نے الیکشن مہم میں جرگوں کے ذریعے امن قائم کرنے کانعرہ لگایاجوووٹروں کوبھاگیااوراے این پی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی حکومت قائم ہونے کے بعدحکومتی جرگے نے طالبان سے رابطہ کیا اورجر گے میں مسائل حل کرنیکی کوشش کی۔ حکومت کی جانب سے ان جرگوں کومیاں افتخارحسین اوربشیربلورلیڈکررہے تھے یہ جرگے ناکام ہونے پرمیاں افتخارحسین پرکئی حملے کئے گئے لیکن خداکوانکی حفاظت منظورتھی مگرانکے اکلوتے صاحبزادے کونشانہ بناکرقتل کردیاگیااوربعدمیں رسم قل کے دوران انکی رہائشگاہ پربھی حملہ کیاگیا۔جبکہ بشیربلوراگرچہ کئی حملوں میں محفوظ رہے مگرپشاورمیں ایک حملے کے دوران جان کی بازی ہارگئے۔اس طرح ثابت ہواکہ جرگہ اگرچہ پختون روایات کاحصہ ہے اوراس کے ذریعے امن قائم کیاجا سکتاہے بشرطیکہ فریقین جرگے کا ا حترام کر یں اور اسے اہمیت دیں۔وادی تیراہ کے ایک نمائندہ جرگے نے گزشتہ
برس میدان کے علاقے میں شدت پسندوں کیساتھ مذاکرات کئے اور انہیں قرآن پاک کاواسطہ دیکروہاں سے چلے جانے کی اپیل کی مگر شدت پسندوں نے نہ ہی جرگے کواہمیت دی اورنہ ہی انکی اپیل پرکان دھرے۔جرگے نے صوبائی حکومت کیساتھ معاہدہ کیاجس کے تحت وہاں سے لوگوں کاانخلاکرواکرٹارگٹڈ آپریشن کیاجائیگااور5اپریل تک علاقہ کلیئرکرکے لوگوں کوواپس بھیجاجائیگا۔ اس جرگے کی وزیراعلیٰ سمیت ضلعی انتظامیہ اوراعلیٰ حکام سے کم وبیش ساٹھ ملاقاتیں ہوئیں جس میں معاہدے کی تمام جزیات پراتفاق کیاگیا۔مگراچانک صوبائی حکومت نے اس معاہد ے سے روگردانی کی اور میدان کے علاقے سے نقل مکانی کووفاقی حکومت کے سرتھوپ دیا۔جس کے بعدیہ معاملہ متنازعہ ہوگیااوراب اس پربیان بازی کاسلسلہ جاری ہے۔گزشتہ ہفتے باڑہ سیاسی اتحادکے جرگے نے صوبائی حکومت کوشدیدتنقیدکانشانہ بنایا اسکے اگلے دن وزیراعلیٰ نے ایک جرگہ سجایا جس میں وہی باتیں دہرائی گئیں جوعوام سن سن کرہلکان ہوچکے ہیں مگرنئی بات یہ تھی کہ اب ہرضلع میں جرگہ منعقدکیاجائیگا۔چاروں جانب جرگے ہی جرگے ہورہے ہیں مگران میں ہونیوالے فیصلوں پرعملدرآمدنہیں ہورہا۔صوبائی حکومت کوجرگوں کاکھیل اورجرگے کیساتھ کھلواڑ کاسلسلہ بندکرناچاہئے۔جرگہ پختونوں کی ایک اعلیٰ روایت ہے اگراسکے کسی اعلامئے، تجاویزاورفیصلوں پرآپ عملدرآمدکے قائل نہیں توجرگوں کی روایت کاجنازہ نکالنے کی کیا ضرور ت ہے؟ صوبے کی عوام نے ووٹ دیکر صوبائی اسمبلی کی صورت میں ایک بہت بڑاجرگہ منتخب کیاہے جس میں پورے صوبے کے ہرکونے سے نمائندے موجودہیں۔ان سے فیصلے کروائیے اوران پرعملدرآمد کیجئے۔ جرگے کوبے وقعت کرنے کی نامعقول روش سے اجتناب برتئے۔


