Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, February 3, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ – تیراہ آپریشن

صال محمدخان
ضم قبائلی ضلع خیبرکے وادی تیراہ میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں مگران تیاریوں میں رخنہ اندازی کاسلسلہ بھی دوام پذیرہے۔ شہریوں کی نقل مکانی کے دوران برفباری شروع ہوگئی جبکہ ڈصوبائی حکومت بھی اپنے مشہورِزمانہ یوٹرنزسے رخنے ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔وادی تیراہ کے علاقے میدان میں کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دہشتگردوں کے کئی گروہ سرگرم ہیں جنکی چیرہ دستیوں سے تنگ آکروہاں کے مشران نے ایک قومی جرگہ تشکیل دیاجس نے دہشتگردوں کیساتھ مذکرات بھی کئے اور انہیں قرآن پاک کاواسطہ دیکر اپیل بھی کی گئی کہ وہ علاقہ چھوڑکرچلے جائیں مگریہ تمام مشقیں بے سودثابت ہوئیں تو قومی جرگہ نے انتظامیہ سے آپریشن کی اپیل کردی۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اورقومی جرگہ کے درمیان ایک معاہدہ عمل میں آیاجس کاذکرگزشتہ بارہاہو چکاہے کہ رضاکارانہ انخلا کرنیوا لے خاندانوں کوپچاس ہزارروپے ماہواردیاجائیگا،مکمل تباہ شدہ مکان کے مالک کو30لاکھ جبکہ جزوی نقصان والے مالک مکان کو 10 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیاجائیگااورآپریشن کے بعدعلاقے میں ترقیاتی کام بھی ہونگے۔اس معاہدے کے پیش نظرصوبائی حکومت نے متاثر ین کی امدادکیلئے 4ارب روپے جاری کئے جن کے بارے میں کہاجارہاہے کہ نصف رقم متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہے۔انخلاکے دورا ن برفباری کے سبب دودن کی توسیع دی گئی۔

اس دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دئگرصوبوں کے طوفانی دوروں سے فراغت پانے کے بعد تیراہ تشریف لے گئے اوروہاں سے انخلاکرنیوالے شہریوں کی تکالیف پربیانات جاری کئے۔جبکہ اسکے بعد انہوں نے صوبے میں جتنے بھی دورے کئے ان میں تیراہ آپریشن کوتنقیدکانشانہ بنایاگیا۔بلکہ اس معاملے پرصوبائی اسمبلی میں بھی دھواں دھارتقاریرکی گئیں جس کے پیش نظروفاقی حکومت بھی میدان میں آگئی اوروفاقی وزرانے پریس کانفرنسزکاسلسلہ شروع کردیا۔ جہاں تک آپریشن کی حقیقی صورتحال کاتعلق ہے تویہ اظہرمن الشمس ہے کہ وہاں سے نقل مکانی نہ ہی فوج کی خواہش پرہوئی اورنہ ہی اس میں وفاقی حکومت کاکوئی عمل دخل ہے۔ یہ خالصتاًوہاں کے قومی جرگے اورضلعی انتظامیہ کے درمیان معاملہ تھاجسے صوبائی حکومت بیانیہ بناکر فوج اوروفاق کے خلا ف استعمال کررہی ہے۔قومی سلامتی سے متعلق اس اہم ایشوپراب اتنی سیاست ہوچکی ہے اوراس قدرتندوتیز بیانا ت جاری ہوچکے ہیں کہ معاملہ الجھ کررہ گیا ہے۔تیراہ کے علاقے میدان میں آپریشن ناگزیرہوچکاہے یہ بات صوبائی حکومت بھی سمجھتی ہے مگر مخالفت سیاست کی خاطرہورہی ہے۔ بہر حال اب وہاں سے آمدہ اطلاعات کیمطابق 80فیصدسے زائد نقل مکانی ہوچکی ہے موسم کی صورتحا ل خراب ہے اور برفباری جاری ہے۔ آپریشن کیلئے برفبای والے موسم کاانتخاب بھی شکوک وشبہات کی زد میں ہے اوررقم کی منظور ی میں تاخیرپربھی سوالیہ نشان ثبت ہیں برفباری میں ہٹلرکی فوج روس سے شکست کھاچکی ہے حربی تاریخ کی یہ بہت بڑی مثال موجودہے مگرتیراہ میں برفباری والے موسم میں آپریشن کا فیصلہ کیاگیاجہاں نقل وحرکت ہی مشکل ہوجاتی ہے۔ڈی سی خیبر کا مراسلہ 28اکتوبر کو بھیجا گیامگررقم کی منظوری دوماہ بعددی گئی۔ رقم کی تقسیم میں بھی بے ظابطگیوں کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ وزیر دفاع کے مطابق تیراہ میں مکمل فوجی آپریشن نہیں ہورہابلکہ یہ بھی صوبے کے دیگرحصوں کی طرح ٹارگٹڈآپریشن ہے۔ آپریشن ٹارگٹڈہے یامکمل اسے مقررہ وقت میں سرانجام دینااب توممکن نہیں رہا اس پر سیاست چمکانے کی بجائے اسے جلدازجلدپایہء تکمیل تک پہنچانااشدضروری ہے۔

سہیل آفریدی کے بیانات،سوشل اورنیشنل میڈیاپرتذکرے،صوبے کے دورے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیانات سوشل اورنیشنل میڈیاکی زینت بنے رہتے ہیں۔سٹریٹ موومنٹ اور8فروری کے پہیہ جام ہڑتال کی تیاریوں کیلئے انکے دوروں کاسلسلہ بھی جاری ہے۔انہوں نے صوبائی اسمبلی سے خطاب کے دوران کہاکہ بندکمروں میں آپریشن کا فیصلہ کیاگیاجوہمیں منظور نہیں،میرے وزیراعلیٰ بننے کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے،جب ناکامی ہوئی توگورنرراج کی باتیں سامنے آئیں، اب مجھے قتل کرنیکی سازش ہورہی ہے، پی ڈی ایم حکومت نے دہشت گردلاکریہاں آبادکئے،14ہزارچھوٹے اور 22بڑے آپریشنزامن قائم کرنے میں ناکام رہے،میں چیختا چلاتا رہاکہ اس موسم میں آپریشن درست نہیں مگرمیری ایک نہیں سنی گئی،آپریشن کامقصد دہشتگردوں کی سرکوبی نہیں بلکہ مجھے زِچ کرناہے۔ اپوزیشن لیڈرڈاکٹرعباداللہ نے انکی تقریر کامدلل جواب دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کی جانب سے دئے گئے بریفنگز میں وزیراعلیٰ بھی موجود تھے وہ کس منہ سے ثبوت مانگ رہے ہیں؟،آپ بیشک عاشق بنے رہیں مگرخدارااس صوبے کے وزیر اعلیٰ بنکرمسائل حل کریں اوراونرشپ لیں۔اپوزیشن کے دیگر ارکان کاکہناتھا کہ وزیراعلیٰ جوش خطابت میں حقائق مسخ کررہے ہیں۔انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے پورے ووٹ لئے اورپارٹی قائدین نے تسلیم کیاکہ کسی جانب سے کوئی مداخلت نہیں ہوئی اگرمداخلت ہوتی تو وزیر اعلیٰ کواپنے پارٹی کے پورے ووٹ نہ ملتے،صوبائی حکومت کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اگرگورنرراج لگے توعوام اسے بسروچشم قبول کرینگے، قتل کرنیکی دہائی سستی شہرت کیلئے ہے، اس طرح کی دہائیاں بانی پی ٹی آئی بھی دیتے رہے مگر جرات کامظاہرہ کرتے ہوئے قتل کرنیوا لوں یاسازش کرنیوالوں کے نام ہی بتادیں،خیبرپختونخوامیں دہشتگردپی ڈی ایم نہیں تحریک انصاف حکومت میں لاکر آباد کئے گئے۔ 14 ہزارچھوٹے اور22بڑے آپریشنزامن قائم کرنے میں اسلئے ناکام رہے کہ صوبائی حکومت نے آپریشن کے بعداپنی رٹ قائم کرنیکی کوشش نہیں کی،فیصلے سب ہی بندکمروں میں ہوتے ہیں کیاتیراہ آپریشن کافیصلہ صوبائی حکومت نے کسی جلسے میں کیا؟خودہی بندکمروں میں فیصلے کرتے ہیں اورانہیں حیران کن طورپر دوسروں کے کھاتے میں ڈالکربرلاذمہ ہوجاتے ہیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیاہے کہ وہ اتوارکوآفریدی قوم کا جرگہ بلائینگے اوراگرانہوں نے آپریشن کی منظوری نہیں دی تومیں خودنقل مکانی کرنیوالوں کوواپس لیکر جاؤں گا۔تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ یہ تمام بیانات سیاسی ہیں اوران کے ذریعے سیاست چمکانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

صوبائی حکومت کی عوامی خدمت کے حوالے سے کوئی کارکردگی نہیں اسلئے پارٹی کوزندہ رکھنے کیلئے بے سروپابیانات دئے جارہے ہیں۔تیراہ ٓاپریشن کوبیان بازی کے ذریعے متنازعہ بناکرعلاقے اورعوام کی قسمت سے کھلواڑ کا سلسلہ بندہوناچاہئے۔صوبائی حکومت کوذمہ داری کامظاہرہ کرناہوگا، اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کاتدارک کرناہوگا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہبازشریف کولازم آئینی رقوم کی عدم ادائیگی پر خط لکھ ارسال کیاہے۔ جس میں واضح کیاگیاہے کہ وفاقی منتقلیوں کی مسلسل تاخیرسے صوبے کومالی مشکلات کاسامناہے جس سے گورننس،بجٹ پرعملدرآمداورخدمات کی فراہمی متاثرہورہی ہے۔ قابل تقسیم پول سے 658ارب کی بجائے صرف604ارب روپے موصول ہوئے۔اس شارٹ فال سے ترقیاتی اورسماجی منصوبوں کی بروقت تکمیل متاثرہوئی ہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ – تیراہ آپریشن

Shopping Basket