عقیل یوسفزئی
جنوری 2026 کے ابتدائی تین ہفتے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کافی بہتر ثابت ہوئے اور کہا جانے لگا کہ شاید حالات میں بہتری واقع ہورہی ہے تاہم جنوری کے آخری تین دنوں کے دوران بلوچستان پر کچھ ایسے منظم طریقے سے حملے کیے گئے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔
کالعدم بی ایل اے نے کویٹہ سمیت صوبے کے تقریباً 12 جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی نے ایک علاقے پر ترتیب وار حملے کیے اور سیکیورٹی مراکز یا اہداف کو نشانہ بنایا ۔ ان حملوں کے نتیجے میں 40 کے لگ بھگ سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو شہید جبکہ درجن بھر کو زخمی کردیا گیا ۔ درجنوں سرکاری گاڑیوں اور متعدد عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا جبکہ تین خودکش حملے بھی کیے گئے ۔ حملوں میں 4 خواتین نے بھی حصہ لیا جن کو ہلاک کردیا گیا ۔
سیکورٹی فورسز نے اتنی بڑی تعداد میں حملوں کو ناکام بنانے کے کوئیک رسپانس دیتے ہوئے تین دنوں کے دوران 180 دہشت گردوں کو مختلف مقامات اور علاقوں میں ہلاک کردیا ۔ یہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حالیہ تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتیں قرار پائی جبکہ سرچ آپریشنز کا سلسلہ کسی وقفے کے بغیر جاری رہا ۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر کویٹہ نے اس غیر معمولی صورتحال کو خود فرنٹ پر رہتے ہوئے خود لیڈ کیا جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہنگامی طور پر اگلے دن کویٹہ پہنچ گئے جہاں تینوں اہم ریاستی عہدے داروں نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے کیے اور وزیر اعلیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہزار سال لڑنے کی صلاحیت اور ہمت رکھتے ہیں ۔
وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان منظم حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور اتنی بڑی پلاننگ کسی ریاستی سرپرستی اور سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ بھارت نے سرکاری طور پر اس الزام کو مسترد کیا تاہم مین سٹریم بھارتی میڈیا نے کھل کر ان حملوں کا کریڈٹ لیا اور ان حملوں پر خصوصی بلیٹن اور پروگرامز ڈیزائن کرکے پیش کیے ۔
پاکستان کے مین سٹریم میڈیا نے دوسری اطلاعات کے علاؤہ یہ بھی بتایا کہ ان حملوں میں امریکی ساختہ جدید اسلحہ استعمال کیا گیا جس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت یا طالبان حکمران کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر کے علاؤہ بلوچ مزاحمت کاروں کو بھی وہ اسلحہ فراہم کرتے آرہے ہیں جو کہ امریکہ نے انخلا کے دوران وہاں چھوڑ دیا تھا اور جس کی مالیت 7 ارب ڈالرز سے زیادہ بتائی جاتی ہے ۔
دوسری جانب عین انہی دنوں افغانستان سے اس کے ایک اور پڑوسی ملک تاجکستان پر ایک اور دہشت گرد حملے کی کوشش کی گئی تاہم بارڈر سیکیورٹی فورسز نے 3 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افغانستان کی سرزمین سے تاجکستان میں گزشتہ دو مہینوں کے دوران پانچواں حملہ تھا ۔ ہلاک شدگان میں دو افغان شہری اور ایک ازبک تھا ۔
اس تمام عرصے کے دوران جہاں ایک طرف بلوچ اور پشتون مزاحمت کاروں کو افغان عبوری حکومت کی سہولت کاری میسر رہی وہاں بھارت بھی کھل کر افغان حکومت اور افغان طالبان کے راستے دہشت گرد گروپوں کی معاونت کرتا رہا جس کے بارے میں متعدد مغربی ممالک کے میڈیا نے خبریں چلائیں ۔
بلوچستان پر ہونے والے حملوں پر دوست ممالک کے علاؤہ اقوام متحدہ ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا اور پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی تاہم اس نازک موقع پر بھی پی ٹی آئی اور اس کے یوٹیوبرز نے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کرتے ہوئے حملوں کو ریاستی اداروں کی ناکامی قرار دیتے ہوئے نہ صرف ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا بلکہ دہشتگردی کے ان خوفناک واقعات کو بلوچوں کے حقوق کا جنگ قرار دینے کی باقاعدہ مہم بھی چلائی ۔
حملوں کے بعد پورے صوبے میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کیا گیا جبکہ کویٹہ سے جانیوالی ریل سروس کو بھی معطل کردیا گیا ۔ پنجاب پولیس اور دیگر اداروں نے بلوچستان کے ساتھ پنجاب کے ملحقہ علاقوں پر سیکیورٹی سخت کردی کیونکہ خدشہ تھا کہ دہشت گرد سرچ آپریشنز سے بچنے کے لیے پنجاب میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ اس سے چند ہفتے قبل کویٹہ میں موجود فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹر پر بھی خودکش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور بعض سیکیورٹی اہلکار شہید اور زخمی ہوئے ۔
فرنٹیئر کور کویٹہ پر ہونے والے اس بڑے حملے کی پشاور کی ایف سی ہیڈکوارٹر اور وانا کیڈٹ کالج پر ہونے والے ان حملوں کے تناظر میں دیکھا گیا جن کے دوران اسٹوڈنٹس سمیت سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کرنے کی پلاننگ کی گئی تھی اور اگر فورسز نے کوئیک رسپانس نہیں دی ہوتی تو وانا اور پشاور میں اے پی ایس کے طرز پر سانحات ہو جاتے ۔
سال 2025 کے دوران ٹی ٹی پی اور بی ایل وغیرہ نے فورسز کے علاوہ عام شہریوں کو بڑی تعداد میں شہید کرتے ہوئے نشانہ بنایا جبکہ علماء کو بھی نہیں بخشا گیا اور جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے متعدد اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا جن میں مولانا سمیع الحق کے جانشین اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا حامد الحق بھی شامل تھے جن کو جمعہ کے روز دارالعلوم حقانیہ میں خود کش حملے کے دوران شہید کیا گیا ۔ علماء کو نشانہ بنانے میں داعش خراسان نے مرکزی کردار ادا کیا جس کو ایک بڑی تھریٹ کے طور پر لیا گیا تاہم بلوچستان کو خیبرپختونخوا کے برعکس کسی ایک گروپ کی بجائے بیک وقت مختلف مذہبی اور لسانی دہشت گرد گروپوں کے حملوں کا چیلنج رہا جس نے معاملات کو کافی پیچیدہ بنائے رکھا ۔


