پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سڑکیں بند کرنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر سماعت 17 فروری 2026 کو پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح نے کی۔
یہ درخواستیں صبیحہ شاہد، طارق افغان اور یوسف علی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کے دوران سڑکیں بند کیے جانے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت سے امن و امان کی بحالی کی استدعا کی۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے مسلسل چھٹے روز بھی سڑکوں کی بندش پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی عدم کارروائی پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہو چکا ہے۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے عدالت سے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ متعلقہ ڈیٹا مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہیں سماعت سے قبل ہی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ عدالت نے صوبے میں اب تک کی گئی قانونی کارروائی، درج ایف آئی آرز کی تعداد اور دیگر تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ موجودہ صورتحال میں عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔


