Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, March 14, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کی طرزپرتوانائی بچت اقدامات کااعلان

وفاق کی طرزپرصوبائی حکومت نے بھی توانائی کی بچت اورکفایت شعاری اقدامات کااعلان کیاہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاق کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کومستردکرتے ہوئے کہاکہ ہم غریب عوام پربوجھ بننے والے کسی بھی فیصلے یاپالیسی کی حمایت نہیں کریں گے۔وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں قیمتوں کوجوازبناکرپٹرولیم لیوی85روپے سے بڑھاکر105روپے فی لیٹر کردی،رواں مالی سال کے 7ماہ میں پٹرولیم لیوی سے822ارب روپے وصول کئے جاچکے ہیں جبکہ سال کے آخرتک یہ رقم 1700 ارب روپے تک پہنچ جائیگی، قیمتوں میں اضافے کی بجائے لیوی کم کرنیکی ضرورت تھی تاکہ عوام کوریلیف ملتا۔عوام پرناجائزبوجھ ڈالنے کی بجائے حکمران اپنی شاہ خرچیاں، وی آئی پی اورپروٹوکول کلچرزختم کریں۔ انہوں نے موٹرسا ئیکل سواروں کوپٹرول پر سبسڈی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ صوبے میں رجسٹرڈ14سے 16لاکھ موٹرسائیکل سوار ریلیف سکیم سے مستفیدہونگے،بی آرٹی کرایوں میں اضافہ نہیں کیاجائیگا تاکہ مہنگائی کابوجھ عوام پرنہ پڑے۔صوبائی حکومت کی کفایت شعاری اقدامات کاذکرکرتے ہوئے سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ خیبرپختونخوا کے بیشتراراکین اسمبلی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اسکے باوجودہم نے انکی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا،سرکاری خرچ پر غیر ملکی سرکاری دوروں اورنئی گاڑیوں کی خریداری پرپابندی عائدہے،سیلاب کے دوران صوبے کاہیلی کاپٹرتباہ ہونے کے باوجودہم نے دوسرا ہیلی کاپٹر نہیں خریدامگرپنجاب حکومت نے12ارب روپے سے لگژری جہازخریدا۔وطن عزیزسنگین حالات سے گزررہاہے ایک جانب ایران پر اسرائیل اورامریکہ نے جنگ مسلط کی ہے تودوسری جانب ہم افغانستان کیساتھ حالت جنگ میں ہیں حالات کوملحوظ خاطررکھ کر ہمیں قومی مفادمیں دانشمندانہ اوردلیرانہ فیصلے کرنے ہونگے ہم عوامی اورملکی مفادکے ہرفیصلے کاساتھ دینگے۔

پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پروزیراعلیٰ کی جانب سے تنقید،موٹرسائیکلزکوسبسڈی دینے کافیصلہ

صوبائی حکومت نے بین الاقوامی صورتحال کے تناظرمیں 2ماہ کیلئے فیول بچت اقدامات نافذکردئے ہیں جس کے تحت سرکاری محکموں میں اجلاس 100فیصدورچوئل(آن لائن)منعقد کرنے اورسرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں 25فیصدکمی کرنے کافیصلہ کیاگیاہے۔ تا ہم پولیس،قانون نافذ کرنیوا لے ادارے،ریسکیو،ہنگامی خدمات اورفیلڈآپریشنزسے متعلق ادارے اس سے مستثنیٰ ہونگے،سرکاری دفاتر میں جہاں ممکن ہو50 فیصدتک ورک فرام ہوم پرعمل کیاجائیگا۔تعلیمی اوردیگراداروں میں جمعہ اورہفتے کوبھی تعطیل ہوگی جہاں ممکن ہوآن لائن کلاسزکی ترغیب دی جائیگی،وی آئی پی پروٹوکول گاڑیوں کے قافلے کم کئے جائینگے،سرکاری ہیلی کاپٹرکاستعمال صرف ہنگامی حالات تک محدودکیاجائیگا،شادی ہالز پلازو ں اورمارکیٹوں میں غیرضروری اورسجاوٹی روشنیاں محدودکی جائینگی،شادی ہالزرات گئے کھلے رکھنے پر پابندی ہوگی،ایندھن کی بچت کیلئے نئے ٹریفک پلانزپرعمل کیاجائیگا،سرکاری خرچ پرورکشاپس،سیمینارزاوردعوتیں معطل ہونگی اس طرح کے دیگربھی بہت سے اقدامات کااعلان کیاگیاہے جن پراگرعمل کیاجائے تویقیناًمعیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

بچت اقدامات کی دھجیاں،صوبائی اسمبلی میں افطارپارٹی اورڈنر،ارکان اسمبلی اوراعلیٰ افسران کی شرکت

ابھی بچت اقداما ت اوراعلانات کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ صوبائی اسمبلی میں افطارپارٹی منعقدکی گئی۔ذرائع کے مطابق 10مارچ کوصوبائی اسمبلی میں بلدیاتی نظام سے متعلق اجلاس کے بعدایوان میں افطارپارٹی کااہتمام کیاگیاجس میں 100افرادکیلئے افطاری اورڈنرکا بندوبست کیاگیاتھاافطارپارٹی میں ممبران اسمبلی کے علاوہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی مدعوتھے۔سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں نے کفایت شعاری اقداما ت کے فوری بعداس سنگین خلاف ورزی پرحیرت اورافسوس کااظہارکیاہے۔ایران،اسرائیل اورامریکہ کے درمیان جنگ تواب شروع ہوئی ہے جبکہ ملکی اور صوبائی معیشت گزشتہ چھ برسوں سے شدیددباؤمیں ہے۔اعلان کردہ اقدامات کی ضرورت بہت پہلے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ ان اقدامات اوراعلانات کوسنجیدہ لیاجائے،ان پرسختی سے کاربندرہاجائے اورسادگی کاکلچراپنایاجائے جوتحریک انصاف کے منشورکاحصہ بھی ہے۔

عیدکے بعدصوبائی کابینہ میں توسیع متوقع،وزارتوں کے آرزومندسرگرم،وزیراعلیٰ کی مشاورت

پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوکابینہ میں توسیع کااختیاردیاگیاہے۔جس کے بعدکابینہ میں شمولیت کے آرزومند ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ پراثراندازہونیکی کوششوں میں مصروف ہوچکے ہیں،وہ وزیراعلیٰ کواپنے تجربے،خوبیوں،احتجاج میں شمولیت اور پارٹی کیلئے اپنی خدمات سے بھی آگاہ کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بھی نئے وزراکی تلاش میں سرگرداں ہیں اس مقصدکیلئے انہوں نے قریبی ساتھیوں سے مشاورت کاعمل تیزکردیاہے۔ذرائع کے مطابق گنڈاپورکی ٹیم کاحصہ رہنے والے بعض ارکان بھی دوبارہ کابینہ میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔ موجودہ کابینہ میں ہزارہ،کوہاٹ،پشاور،مردان اورملاکنڈکی نمائندگی موجودہے جبکہ ڈی آئی خان اوربنوں نمائندگی سے محروم ہیں۔کچھ نئے چہروں کی شمولیت اورضم قبائلی اضلاع کی نمائندگی بڑھانے کاامکان ظاہرکیاجارہاہے۔کابینہ میں توسیع عیدالفطر کے بعدمتوقع ہے۔

بلدیاتی اداروں کوتوسیع دینا غیرقانونی،کمیٹی توسیع کے حق میں نہیں،آئینی مدت پوری ہوچکی 
صوبے میں قائم بلدیاتی اداروں کی مدت 15مارچ کوختم ہورہی ہے۔بلدیاتی نمائندوں کی کونسل نے حکومت سے اداروں کی مدت میں توسیع کامطالبہ کیاتھا۔اس مطالبے پرسپیکرنے6مارچ کو ارکان اسمبلی پرمشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔ پارلیمانی کمیٹی نے بلدیاتی اداروں کی مدت میں توسیع کے عمل کوآئین سے متصادم قراردیاہے۔کمیٹی اعلامئے کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اورخیبرپختونخوالوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء کے مطابق بلدیاتی ادارے اپنی چارسالہ مدت پوری کرچکے ہیں۔آئین یالوکل گورنمنٹ ایکٹ میں توسیع یا تسلسل کی کوئی گنجائش موجودنہیں اسلئے مدت میں توسیع قانونی طورپرممکن نہیں تاہم صوبائی حکومت ضروری سمجھے تویہ اپنی صوابدیدکے مطابق کوئی فیصلہ کرنیکی مجازہے۔کمیٹی نے واضح کیاکہ چونکہ بلدیاتی ادارے عوام کے ووٹ سے وجودپاتے ہیں اسلئے حکومت کی جانب سے کسی ترمیم کے ذریعے انکی مدت میں توسیع قانونی طورپرقابل عمل نہیں۔کمیٹی نے سفارش کی کہ ضلع کونسلزکی بحالی کیلئے موجودہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء پرنظرثانی،اس میں ترامیم،یانئی قانون سازی ہونی چاہئے۔یادرہے 2021ء کے بلدیاتی انتخابات میں ضلع کونسلزختم کرکے اختیارات تحصیل کونسلزکومنتقل کی گئی تھیں۔حکومتی اوراپوزیشن ارکان پرمشتمل پارلیمانی کمیٹی نے ضلع کونسلزکی بحالی پرزوردیاہے۔

مستحق گھرانوں کومفت سولرپینلزدینے کافیصلہ،رمضان پیکیج کی غیرشفاف تقسیم پرسوالات

صوبائی حکومت نے سولرائزیشن پروگرام کے تحت بشمول ضم قبائلی اضلاع صوبہ بھرمیں 1لاکھ30ہزارسولریونٹس فراہم کرنے کافیصلہ کیاہے پہلے مرحلے میں 65ہزاراہل گھرانوں کو100فیصدمفت جبکہ دوسری کیٹگری میں 65ہزارگھرانوں کونصف قیمت اورآسان اقساط پر سولر یونٹس فراہم کئے جائینگے۔صوبائی حکومت کے مطابق منصوبے میں خصوصی افراد،آئی ڈی پیز،قدرتی آفات سے متاثرہ گھرانوں، مستحق طبقات اورآف گرڈعلاقوں کوترجیح دی جائیگی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے منصوبے کوصوبائی حکومت کافلیگ شپ منصوبہ قراردیاہے۔عوام کوتوانائی کے متبادل ذرائع تک آسان رسائی کایہ اچھا منصوبہ ہے مگر اس پرعملدرآمدکیلئے شفاف نظام وضع ہوناضروری ہے۔صوبائی حکومت کارمضان پیکیج پہلے ہی شدیدتنقیدکی زدمیں ہے جس میں امدادمستحقین کوفراہم کرنیکی بجائے پی ٹی آئی عہدیداران وکارکنان اور من پسندافرادکونوازا گیا۔عدم شفافیت کے سبب یہ منصوبہ اپنی افادیت کھوچکاہے۔ سولرائزیشن منصوبے میں کرپشن اوراقرباپروری کاراستہ روک کررمضان پیکیج والے انجام سے بچانا ہوگا۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket