Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, May 15, 2026

پاکستان مخالف قوتوں کا اتحاد

عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقے گزشتہ ایک ہفتے سے بدترین دہشت گرد حملوں کی ذد میں ہیں تاہم حیرت اور تشویش کی بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ، کالعدم ٹی ٹی پی ، پی ٹی ایم اور افغان حکومت ریاست مخالف پروپیگنڈا اور بیانیہ کے تناظر میں ایک پیج پر ہیں ۔ اس نیکسس نے جہاں ریاستی اداروں کے موقف کو کمزور کردیا ہے وہاں ریاست کے حامی حلقے بھی خوف سے دوچار ہوگئے ہیں اور کوئی بھی جاری دہشتگردی کی کھل کر مخالفت کا رسک نہیں لے رہا ۔ دوسری جانب مین سٹریم میڈیا ایک عجیب و غریب قسم کی ” میڈیا منیجمنٹ ” کے ذریعے دہشت گرد حملوں اور واقعات کو ڈیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں ایسے واقعات کا بلیک آؤٹ کرکے بلاواسطہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی شہادتوں کی پردہ پوشی کی جارہی ہے ۔
چند روز قبل بنوں کے ایک حساس علاقے میں واقع فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش اور براہ راست حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار اور 3 سویلین شہید ہوئے اور عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا مگر مین سٹریم میڈیا ۔۔۔؟ یہ اس پولیس اسٹیشن پر ہونے والا 18 واں حملہ تھا مگر 12 پولیس اہلکار اس لیے شہید ہوئے کہ ان پر چھت گر گئی تھی مگر پولیس حکام اور صوبائی حکومت ۔۔۔؟
اسی علاقے میں منگل کی صبح ایک اہم رابطہ پل کو بارودی مواد سے اڑایا گیا حالانکہ اس علاقے کی زبردست نگرانی کی ضرورت تھی کیونکہ ان حملوں میں ملوث ” اتحاد المجاہدین پاکستان” نامی گروپ نے رسمی طور پر مزید حملوں کی وارننگ دے رکھی تھی ممکن مگر اس کے باوجود حکام بوجوہ لاتعلق رہے ۔
پل اڑانے کے چند گھنٹے بعد لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں ایک رکشہ کے ذریعے بم دھماکہ کرایا گیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار اور تقریباً پانچ ، چھ سویلین شہید جبکہ دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تاہم ان افسوسناک واقعات کے باوجود خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ، اکثر وزراء اور اہم بیوروکریٹس نہ صرف یہ کہ اڈیالہ یاترا پر نکلے ہوئے تھے بلکہ وزیر اعلیٰ نے اڈیالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی اس نئی لہر کو ریاست کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے دہشت گردوں کی کھل کر مذمت بھی نہیں کی ۔ یہی بیانیہ ایک بار پھر افغان طالبان ، کالعدم ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی جانب سے سامنے آیا اور ان سب نے اس صورتحال کی ذمہ داری پاکستانی ریاست پر ڈال دی ۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کے ریاستی اداروں کو ان تمام قوتوں نے ” کٹہرے” میں لاکھڑا کردیا جبکہ میں سٹریم میڈیا نے کراچی کی ایک ایک عدالت میں پیش ہونے والی ایک کوکین ڈیلر کو نان سٹاپ کوریج دیکر اس معاملے کی کو ملک کا سب سے بڑا ایشو قرار دیا جس پر عوام کے علاؤہ معتبر صحافیوں اور سنجیدہ سیاسی کا شدید ردعمل سامنے آیا ۔
اگر ایک جانب پاکستان مخالف پروپیگنڈا عروج پر رہا اور مین سٹریم میڈیا کی طرح مین سٹریم پالیٹکس بھی خیبرپختونخوا کی اس صورتحال سے لاتعلق رہی تو دوسری جانب افغان حکومت اور کالعدم دہشت گرد قوتیں پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور بیانیہ کے تناظر میں یہ کہتی دکھائی دیں کہ پاکستان میں ہونے والے حملے ریاست کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور یہ کہ پاکستان ہی ان حالات کا خود ذمہ دار ہے ۔
اس دوران اس قسم کی اطلاعات زیر گردش رہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندر بعض ٹھکانوں کو پھر سے نشانہ بنانے کی پلاننگ کررہا ہے تاہم تشویش ناک بات یہ سامنے آئی کہ ان حملوں اور ریاست مخالف نیکسس کی پروپیگنڈا مہم جوئی کو کاؤنٹر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی جس کے باعث سویلین کو نشانہ بنانے والوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا موقع ایک بار پھر ضائع کردیا گیا اور سول اداروں کی طرح سیاسی رہنما بھی ” بیک فٹ ” پر نظر آئے ۔

پاکستان مخالف قوتوں کا اتحاد

Shopping Basket