عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقے گزشتہ ایک ہفتے سے بدترین دہشت گرد حملوں کی ذد میں ہیں تاہم حیرت اور تشویش کی بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت ، کالعدم ٹی ٹی پی ، پی ٹی ایم اور افغان حکومت ریاست مخالف پروپیگنڈا اور بیانیہ کے تناظر میں ایک پیج پر ہیں ۔ اس نیکسس نے جہاں ریاستی اداروں کے موقف کو کمزور کردیا ہے وہاں ریاست کے حامی حلقے بھی خوف سے دوچار ہوگئے ہیں اور کوئی بھی جاری دہشتگردی کی کھل کر مخالفت کا رسک نہیں لے رہا ۔ دوسری جانب مین سٹریم میڈیا ایک عجیب و غریب قسم کی ” میڈیا منیجمنٹ ” کے ذریعے دہشت گرد حملوں اور واقعات کو ڈیل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں ایسے واقعات کا بلیک آؤٹ کرکے بلاواسطہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی شہادتوں کی پردہ پوشی کی جارہی ہے ۔
چند روز قبل بنوں کے ایک حساس علاقے میں واقع فتح خیل پولیس اسٹیشن پر خودکش اور براہ راست حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار اور 3 سویلین شہید ہوئے اور عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا مگر مین سٹریم میڈیا ۔۔۔؟ یہ اس پولیس اسٹیشن پر ہونے والا 18 واں حملہ تھا مگر 12 پولیس اہلکار اس لیے شہید ہوئے کہ ان پر چھت گر گئی تھی مگر پولیس حکام اور صوبائی حکومت ۔۔۔؟
اسی علاقے میں منگل کی صبح ایک اہم رابطہ پل کو بارودی مواد سے اڑایا گیا حالانکہ اس علاقے کی زبردست نگرانی کی ضرورت تھی کیونکہ ان حملوں میں ملوث ” اتحاد المجاہدین پاکستان” نامی گروپ نے رسمی طور پر مزید حملوں کی وارننگ دے رکھی تھی ممکن مگر اس کے باوجود حکام بوجوہ لاتعلق رہے ۔
پل اڑانے کے چند گھنٹے بعد لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں ایک رکشہ کے ذریعے بم دھماکہ کرایا گیا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار اور تقریباً پانچ ، چھ سویلین شہید جبکہ دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تاہم ان افسوسناک واقعات کے باوجود خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ، اکثر وزراء اور اہم بیوروکریٹس نہ صرف یہ کہ اڈیالہ یاترا پر نکلے ہوئے تھے بلکہ وزیر اعلیٰ نے اڈیالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی اس نئی لہر کو ریاست کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے دہشت گردوں کی کھل کر مذمت بھی نہیں کی ۔ یہی بیانیہ ایک بار پھر افغان طالبان ، کالعدم ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی جانب سے سامنے آیا اور ان سب نے اس صورتحال کی ذمہ داری پاکستانی ریاست پر ڈال دی ۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کے ریاستی اداروں کو ان تمام قوتوں نے ” کٹہرے” میں لاکھڑا کردیا جبکہ میں سٹریم میڈیا نے کراچی کی ایک ایک عدالت میں پیش ہونے والی ایک کوکین ڈیلر کو نان سٹاپ کوریج دیکر اس معاملے کی کو ملک کا سب سے بڑا ایشو قرار دیا جس پر عوام کے علاؤہ معتبر صحافیوں اور سنجیدہ سیاسی کا شدید ردعمل سامنے آیا ۔
اگر ایک جانب پاکستان مخالف پروپیگنڈا عروج پر رہا اور مین سٹریم میڈیا کی طرح مین سٹریم پالیٹکس بھی خیبرپختونخوا کی اس صورتحال سے لاتعلق رہی تو دوسری جانب افغان حکومت اور کالعدم دہشت گرد قوتیں پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور بیانیہ کے تناظر میں یہ کہتی دکھائی دیں کہ پاکستان میں ہونے والے حملے ریاست کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور یہ کہ پاکستان ہی ان حالات کا خود ذمہ دار ہے ۔
اس دوران اس قسم کی اطلاعات زیر گردش رہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندر بعض ٹھکانوں کو پھر سے نشانہ بنانے کی پلاننگ کررہا ہے تاہم تشویش ناک بات یہ سامنے آئی کہ ان حملوں اور ریاست مخالف نیکسس کی پروپیگنڈا مہم جوئی کو کاؤنٹر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی جس کے باعث سویلین کو نشانہ بنانے والوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کرنے کا موقع ایک بار پھر ضائع کردیا گیا اور سول اداروں کی طرح سیاسی رہنما بھی ” بیک فٹ ” پر نظر آئے ۔
بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم سے قبل پی ایم اینڈ ڈی سی رجسٹریشن لازمی قرار
اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) نے بیرونِ ملک میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے نئے ضوابط متعارف کرا دیے ہیں، جن کے تحت بیرونِ ملک روانگی سے قبل رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ایم ڈی کیٹ امتحان پاس کیے بغیر کسی بھی طالبعلم کو بیرونِ ملک میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ فیصلے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ نگرانی جاری طبی تعلیمی اصلاحات کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔
پی ایم اینڈ ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک داخلے کے لیے متعلقہ میڈیکل ادارے کا کونسل کی منظور شدہ فہرست میں شامل ہونا ضروری ہوگا، جبکہ غیر ملکی ادارے کے لیے World Federation for Medical Education (WFME) سے منظور شدہ ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کو پاکستان میں پریکٹس کے لیے نیشنل رجسٹریشن امتحان دینا ہوگا۔ علاوہ ازیں میڈیکل تعلیم کے لیے کم از کم 6200 تدریسی گھنٹے اور 80 فیصد حاضری لازمی قرار دی گئی ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی نے میڈیکل و ڈینٹل کالجز کے شفاف اور میرٹ پر مبنی انسپکشن پر بھی زور دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ انسپکشن کے عمل میں غفلت یا بے ضابطگی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق غیر انگریزی بولنے والے ممالک میں جانے والے طلبہ کو پہلے مقامی زبان سیکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ بیرونِ ملک روانگی سے قبل طلبہ کو اپنی رہائش اور رابطہ معلومات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
پی ایم اینڈ ڈی سی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں طبی تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔
شہری سہولت کے لیے تحصیل بلڈنگ ایبٹ آباد میں انفارمیشن ڈیسک قائم
ایبٹ آباد: شہریوں کو سرکاری خدمات کی فراہمی میں آسانی اور بہتری کے لیے سرمد سلیم اکرم کی زیر نگرانی نیو تحصیل بلڈنگ میں انفارمیشن ڈیسک قائم کر دیا گیا، جس کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل گوہر علی کے ہمراہ کیا۔
افتتاحی تقریب میں تحصیلدار، نائب تحصیلدار، ڈپٹی ڈائریکر سروس ڈیلیوری سینٹر اور ریونیو اسٹاف بھی موجود تھا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام صوبائی حکومت کے اس ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت شہریوں کو سرکاری خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر اور آسان بنایا جا رہا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ڈیسک کے قیام سے شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات سے متعلق فوری اور جامع معلومات میسر آئیں گی۔ ڈیسک پر سروس ڈیلیوری سینٹر، ڈومیسائل، آرمز لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر سرمد سلیم اکرم نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ انفارمیشن ڈیسک کے قیام سے دفاتر میں خدمات کے معیار اور شفافیت میں مزید بہتری آئے گی۔
ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی آفات سے بچاؤ پر تربیتی پروگرام
بونی: آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ پاکستان کے زیر اہتمام بونی میں “ماحولیاتی نظم و نسق اور قدرتی آفات سے بچاؤ” کے موضوع پر دو روزہ معلوماتی و تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ماحولیات کے تحفظ، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی اور عوامی شعور اجاگر کرنے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Chitral Awarness Program in Chitral
پروگرام میں نوجوانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبکہ شرکاء کو ماحول دوست طرزِ زندگی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔
راشدہ ضیاء، چیئرپرسن ڈسٹرکٹ کمیٹی آن دی اسٹیٹس آف وومن اپر چترال، نے پروگرام کو نہایت مفید اور بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے منتظمین اور شرکاء کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ اس نوعیت کے پروگرام محفوظ، صاف اور پائیدار ماحول کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
PMU-UGPP کے اشتراک سے کھوت ویلی اور میلپ ویلی میں تربیتی ورکشاپس کا انعقاد
دریں اثنا چترال فارسٹ ڈویژن نے PMU-UGPP کے اشتراک سے کھوت ویلی اور میلپ ویلی میں تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا، جن کا مقصد رینج مینجمنٹ سے متعلق آگاہی فراہم کرنا اور معیاری کچن گارڈننگ بیجوں کی تقسیم تھا۔
ورکشاپس میں نسرین بی بی، بلاک آفیسر محمد امین، فوکل پرسن شاہدہ پروین، فارسٹ اسٹاف، خواتین تنظیموں، مقامی نمائندگان اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔ کھوت ویلی میں چیئرمین منہاج الدین جبکہ میلپ ویلی میں سابق کونسلر صالحہ بی بی بھی موجود تھیں۔
منتظمین کے مطابق موسمی سبزیوں کے مختلف بیج اور پودے مقامی کمیونٹی، خصوصاً خواتین سربراہ خاندانوں اور کمزور گھرانوں میں تقسیم کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقسیم کیے گئے بیج موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت، بہتر پیداوار اور غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کیے گئے تھے، جبکہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کو غذائی تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔



