وصال محمدخان
پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اورافغان رجیم کی تنصیبات کوبمباری کانشانہ بنایاجارہاہے۔جسکی دنیابھر میں کہیں سے مخالفت سامنے نہیں آئی۔ پوری دنیامیں صرف بھارت اور اسرائیل نے پاکستانی حملوں کی مذمت کی حالانکہ بھارت گزشتہ 80 سال سے کشمیرپرناجائزقبضہ جمائے ہوئے ہے اس نے نہ صرف ایک لاکھ سے زائدکشمیری مسلمانوں کوشہیدکیابلکہ ملک کے دیگرحصوں میں بھی مسلمانوں سمیت دیگراقلیتوں کے خلاف پرتشددکارروائیاں معمول بن چکا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہونے غزہ میں بچوں،خواتین اور بوڑھوں کی تمیزکئے بغیر ایک لاکھ سے زائدبیگناہ مسلمانوں کوآگ وخون میں نہلادیا،وہ خطے کے تقریباً ہرمسلمان ملک پرحملہ آورہوا اور بچوں کوخصوصی طورپرنشانہ بنایا۔مذکورہ دونوں ممالک مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں اورلاکھوں مسلمانوں کے قاتل ہیں۔دونوں کاپاکستان کے خلاف معاندانہ روئیہ بھی ڈھکا چھپا نہیں بھارت ابتداسے ہی دنیاکے نقشے سے پاکستان کے وجودکومٹانے کاآرزومند ہے جبکہ اسرا ئیل کی آنکھوں میں پاکستان کی فوجی قوت کھٹک رہی ہے۔یہ دونوں پاکستان کیخلاف کھل کرکسی کارروائی سے قاصرہیں کیونکہ بھارت نے گزشتہ برس ایک ایڈونچرکرنیکی کو شش کی جس میں اسے منہ کی کھانی پڑی جبکہ اسرائیل بھی پاکستان کوللچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے مگریقینی دندا ن شکن جواب پر کوئی ایڈونچرکرنے سے گریزاں ہے۔اسلئے یہ دونوں پراکسی وارکے ذریعے پاکستان کوزچ کرنے کے قبیح منصوبے پرعمل پیراہیں امریکہ کی موجودگی اورحامدکرزئی واشرف غنی حکومتوں کے دوران بھارت کھل کرپاکستان میں دہشتگردی کوفروغ دے رہاتھا، ڈریو نڈ لائن کے اس پارپاکستان کے قریب درجنوں بھارتی قونصل خانے پاکستان میں آگ وخون کابازارکرنے میں تندہی سے مصرو ف عمل تھے پاکستان کے قبائلی اضلاع میں بیسیوں دہشتگردگروہ ازخودوجودمیں نہیں آئے بلکہ اسکی پشت پربھارت کا مکروہ چہرہ صاف نظر آرہا ہے۔ 2021ء میں امریکہ کی افغانستان سے رخصتی اوروہاں طالبان کی حکومت قائم ہونے پرپاکستان نے سکھ کاسانس لیاکہ کابل کے نئے حکمرا ن پاکستانی درست اورجائزشکایات کاازالہ کرینگے مگربدقسمتی سے طالبان رجیم نے ایک ذمہ داراورباقاعدہ حکومت قائم کرنے کی بجائے جنگجوگروہ کے خول میں بندرہنے کوترجیح دی ان کاخیال تھاکہ کابل کی حکومت لڑائی مارکٹائی سے ملی ہے اسلئے جنگ وجدل اور خونر یزی کوہی اپناوڑھنابچھونابنالیا۔پاکستان نے بارہاافغان رجیم کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اسکی سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہورہی ہے جسے روکناطالبان رجیم کی ذمہ داری ہے کیونکہ ایک تواچھی ہمسائیگی کااصول ہے کہ ہمسائے کیلئے شرانگیزی کا باعث مت بنودوسرے دوحہ معاہدے میں طالبان رجیم اتفاق کرچکی ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔ مگر بدقسمتی سے ٹی ٹی پی اوردیگران گنت گروہ افغانستان میں بیٹھ کرپاکستان میں دہشتگردی کابازارگرم کئے ہوئے ہیں وہاں سے پاکستان کے سکولوں میں بچوں کاخون بہایاجارہاہے،ہسپتالوں پرحملے کئے جاتے ہیں،مساجدمیں بم دھماکے کروائے جاتے ہیں،بازاروں میں معصوم وبیگناہ شہریوں کا خون بہایاجارہاہے،پولیس،فوج اورسیکیورٹی فورسزکے جوانوں اورافسران پرحملے کئے جاتے ہیں انہیں بیدردی سے مارا جاتاہے اورزندہ جلادیاجاتاہے۔ظاہرہے اتنی بڑی کارروائیوں کیلئے کسی بیس کی ضرورت ہوتی ہے اورافغانستان ان دہشتگردوں کیلئے بیس کیمپ بن چکاہے جہاں سے آزادانہ طورپرپاکستان میں مذموم کار روائیاں جاری رکھی گئی ہیں۔ مگراافغان رجیم اسے پاکستان کااندرونی معاملہ قراردیکردامن جھاڑدیتاہے حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اگرطالبان رجیم ان ددہشتگردگروہوں کی پشت پناہی سے ہاتھ کھنچ لیں توانہیں پاکستان میں خونریزی سے باآسانی روکاجاسکتا ہے۔ مگرطالبان رجیم چونکہ واراکانومی پریقین رکھتی ہے اسلئے یہ دہشتگردگروہ اس نے کرائے پردینے کاسلسلہ شروع کردیاہے۔بھارت اوراسرائیل چونکہ سامنے آکرپاکستان کوزیرنہیں کرسکتے اسلئے طالبان رجیم کے پالے ہوئے شدت پسند و ں کی پشت پناہی کرکے یہاں دہشتگردی اورخونریزی کابازارگرم کیاگیاہے۔پاکستان نے بارہاسفارتی ذرائع کوبروئے کارلاتے ہو ئے یہ مسئلہ حل کرنیکی مخلصانہ کوششیں کی پاکستان کی خواہش ہے کہ طالبان رجیم کوئی معقول بات سننے پرآمادہ ہوں تاکہ جنگ زدہ افغانستان کے عوام مزیدتباہی سے محفوظ رہیں اورخطے میں امن وامان ہو،تاکہ افغانستان اورپاکستان دونوں کے عوام پرامن اورآسودہ زندگی بسرکرسکیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سعودی عرب،قطر،چین اورترکی نے ثالثی کے ذریعے مسائل حل کرنیکی کوششیں کیں مگر طالبا ن رجیم کی ہٹ دھرمی سے ہرکوشش ناکام ہوئی۔اب توطالبان رجیم کھل کردہشتگردوں کے ہمنوابن چکی ہے اورانکے خلاف کوئی بات سننے پر آمادہ دکھائی نہیں دے رہا۔پاکستان نے متعدد بارمذاکرات کی ناکامی پرفیصلہ کیاکہ اب پاکستان میں کوئی کارروائی ہوئی توافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایاجائیگا۔افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پرحملے سے طالبان رجیم نے سیخ پاہوکرپاکستان کے خلاف اعلان جنگ کیااورسرحدوں پرحملہ آورہوا۔جس کے بعدپاکستان نے چاروناچارافغان عبوری حکومت کیخلاف بھرپور کارروائیاں کیں جوتاحال جاری ہیں۔پاکستان کے حملوں میں طالبان رجیم کی چیک پوسٹیں،اسلحہ ڈپوزاوردیگرفوجی تنصیبات کونشانہ بنایاجارہاہے۔ پاکستان کے نکتہ نظرسے اب تک کی گئی کارروائیوں کے نتائج حوصلہ افزاہیں۔ان حملوں کے بعدپاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی ہے کیونکہ پاکستان نے دہشتگردی کے بیسز کونشانہ بنایاہے جس سے انکی انفراسٹرکچرکوشدیدنقصان پہنچایاگیاہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ طالبان رجیم ہوش کے ناخن لے خطے کی عوام 5عشروں سے جنگوں کاایندھن بنے ہوئے ہیں انہیں مزیدتباہی سے بچانے کیلئے دانشمندانہ طرزعمل اپنایاجائے۔طالبان رجیم سے پاکستان کاایک ہی مطالبہ ہے کہ وہ دہشتگردوں کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لے،انکے خلاف کارروائی کی جائے،انہیں پاکستان کے حوالے کیاجائے،یاپھران سے مکمل لاتعلقی کااظہارکرکے پاکستان کوانکے خلاف کارروائی کی اجازت دی جائے مگرطالبان رجیم ان میں سے کسی بھی معقول مطالبے کوتسلیم کرنے پرتیارنہیں بلکہ اس نے اب دہشتگردوں کواپنا”مہمان“ قراردیاہے اب ان کامہمان اگرپاکستان میں قتل وغارتگری کرتاہے خونریزی میں ملوث ہے تومیزبان سے اس کی پوچھ گچھ لازمی اورمعقول ہے۔خطے کاامن طالبان رجیم کے اقدامات سے مشروط ہے اب یہ انکی طرزعمل پرمنحصرہے کہ وہ دانشمندی کامظاہرہ کرتے ہیں یاحسب سابق ہٹ دھرمی پرقائم رہتے ہیں۔


