Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, March 27, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان

پاک افغان جنگ بندی کے سبب عیدپرامن رہی
پاک افغان اورکالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے چارروزہ عارضی جنگ بندی کے سبب عیدالفطرخیریت سے گزری۔گزشتہ کئی عشروں سے عیدین کے موقع پردہشتگردی کاکوئی بڑاواقعہ رونماہوناروایت سی بن گئی تھی مگراس باروہ خدشات خاصی حدتک کم تھے۔پورے صوبے میں بلاخوف وخطر نمازعید کے اجتماعات منعقد ہوئے۔رمضان کے موقع پرپاکستان کی جانب سے افغانستان میں ٹارگٹڈکارروائیاں جاری رہیں مگر عیدپربرادراسلامی ممالک نے جنگ بندی کروائی جس سے صوبے میں امن وامان کی صورتحال پراچھے اثرات مرتب ہوئے۔ افغانستان کیساتھ کشیدگی،خلیج جنگ اوردیگرعوامل کے سبب رمضان المبارک اورعیدکے موقع پرسیاسی سرگرمیاں معطل رہیں۔

عمران رہائی فورس کانام تبدیل کرکے رہائی موومنٹ رکھ دیاگیا،وزیراعلیٰ ممبرشپ کاافتتاح کرینگے

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عیدکے بعدعمران خان رہائی فورس بنانے کااعلان کیاتھاجس کے حوالے سے پارٹی چیئرمین گوہرخان نے بھی تحفظات ظاہر کئے تھے۔ پارٹی ذرائع سے بھی”فورس“ نام پرعدم اتفاق کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ صوبائی صدرجنیداکبرکے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفرید ی 27مارچ کوپارٹی کے صوبائی دفترمیں ”عمران خان رہائی موومنٹ“ کی ممبرشپ کاآغازکرینگے۔نام فورس سے تبدیل ہوکرموومنٹ بن چکاہے مگراس کے جس مقصدکاتاثردیاجارہاہے کہ دس لاکھ نوجوانوں کی ممبرشپ کی جائیگی اوریہ نوجوان ایک ہی مقام پراکھٹے ہوکر احتجا ج کرینگے جسے سنبھالنامشکل ہوجائیگااوراس طرح عمران خان رہاہوجائینگے۔اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ملک کے بقیہ تینوں صوبو ں کے دورے بھی کرچکے ہیں پارٹی کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کاکہناہے کہ تحریک چلانے کاوقت ہوچکاہے جس کی قیا دت سہیل آفریدی کرینگے۔ صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں کاکہناہے کہ تحریک انصاف بطورپارٹی احتجاجی تحریک چلائے یاعوامی اجتماعا ت منعقد کر ے مگروزیراعلیٰ کومنصبی ذمہ داریاں پوری کرنے دیاجائے۔
2021ء میں قائم ہونیوالے بلدیاتی ادارے اپنی چارسالہ مدت پوری کرچکے ہیں۔ان چاربرسوں میں بلدیاتی نمائندوں کونہ ہی فنڈز فراہم کئے گئے اورنہ ہی اختیارات دئے گئے جس کے خلاف نمائندوں نے اپنابیشتروقت سڑکوں،چوراہوں،اسمبلی اوروزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجوں میں گزاردیا۔

بلدیاتی ادارے 4سالہ مدت پوری ہونے پرتحلیل،اختیارات انتظامی افسران کوتفویض

گزشتہ ماہ بلدیاتی نمائندوں کیساتھ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات میں بلدیاتی نمائندوں کامطالبہ تھا کہ چونکہ انہیں چارسال نہ ہی اختیارات دئے گئے اورنہ ہی فنڈز،اسلئے بلدیاتی اداروں کوتوسیع دی جائے۔ اس مقصدکیلئے سپیکرنے اپوزیشن اورحکومتی ارکان پرمشتمل کمیٹی بنائی کہ وہ بلدیاتی نمائندوں کے مطالبا ت کاجائزہ لیکررپورٹ پیش کرے،کمیٹی نے بلدیاتی اداروں کی توسیع کوغیرآئینی قراردیا۔اس لئے بلدیاتی ادارے 15مارچ کو اپنی چار سالہ مدت پوری کر کے تحلیل ہوگئے۔حکومت نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات ڈپٹی کمشنرزاورانتظامی افسران کوتفویض کردئے ہیں۔محکمہ بلدیات کی جانب سے جاری اعلامئے کے مطابق تحصیل میئرکے اختیار ا ت ڈپٹی کمشنرز، تحصیل چیئرمین کے اختیارات اسسٹنٹ کمشنرزجبکہ ویلیجز اورنائبرہوڈکونسلزکے اختیارات بلدیات کے اسسٹنٹ ڈائرکٹرزکے پاس ہونگے۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسریاں ہوتی ہیں پی ٹی آئی کے منشورمیں بھی بلدیاتی اداروں کی فعالیت شامل ہے مگرگزشتہ دوصوبائی حکومتو ں نے خیبرپختونخواکے بلدیاتی اداروں کوعضوئے معطل بناکر رکھا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ صوبائی حکومت مقررہ آئینی مدت میں بلدیاتی انتخابات کاانعقادکرے تاکہ اختیارات نچلی سطح پرمنتقلی کاوعدہ پوراہو۔

جیلوں میں بند22سوسے زائدافغان مہاجرین کی واپسی کیلئے طورخم بارڈرکھولنے کافیصلہ
صوبائی حکومت نے افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے جزوی طورپرطورخم بارڈرکھولنے کی منظوری دیدی ہے۔امیگریشن حکام کے مطابق طور خم بارڈرٹرمینل کو25مارچ سے صرف افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے کھولنے کافیصلہ کیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق غیرقانونی طورپرمقیم غیر ملکیو ں کی وطن واپسی کیلئے متعلقہ اداروں نے تمام انتظامات مکمل کرلئے ہیں پولیس اورحکومتی ذرائع کے مطابق بارڈرکو مخصوص قافلو ں کیلئے کھولا جائیگااورپہلے مرحلے میں گرفتارافرادکو واپس بھیجاجائیگا۔محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق پشاورسینٹرل جیل میں 1ہزارسے زائد جبکہ کوہاٹ اورہری پورکی جیلوں میں 12سوغیرقانونی افغان مہاجرین قیدہیں جنکی دیکھ بھال اورخوراک پرروزانہ لاکھوں روپے خرچ ہو رہے ہیں جیلوں سے افغان باشندوں کوناصرباغ کیمپ پشاورمنتقل کیاجائیگاجہاں رجسٹریشن کے بعدانہیں طورخم بارڈرکے ذریعے افغانستان روانہ کیا جائیگا۔طورخم امیگریشن حکام کے مطابق غیرقانونی طورپرمقیم غیرملکیوں کی واپسی کے تمام انتظامات مکمل اورمتعلقہ اداروں کوالرٹ کر دیاگیا ہے۔لنڈی کوتل ہولڈنگ سینٹرمیں وفاقی اورصوبائی اداروں کاعملہ تعینات کردیاگیاہے تاکہ واپسی اوربیدخلی کاعمل منظم اورشفاف اندازمیں مکمل ہو۔نادرا،ایف آئی اے،پی ڈی ایم اے،کسٹم اورضلعی انتظامیہ کے افسران اوراہلکاراپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

دورانِ عیدصوبے کے سیاحتی مقامات پرسیاحوں کی آمدمیں کمی ریکارڈ
مہنگائی اورملکی حالات کے پیش نظرخیبرپختونخواکے سیاحتی مقامات پرامسال عیدکے موقع پرسیاحوں کی تعدادخاصی کم رہی۔ امسال 2 لاکھ 62ہزارسیاحوں نے پرفضامقامات کارخ کیاجبکہ گزشتہ برس 3لاکھ76ہزار215 سیاح چھٹیاں گزارنے آئے تھے۔ خیبرپختونخوا ٹوور ازم اینڈکلچرل اتھارٹی کے مطابق وادی سوات میں 1لاکھ86ہزارسے زائدسیاح آئے جبکہ گزشتہ برس عیدکے موقع پر2لاکھ 11 ہزار سیاحوں نے وادی سوات کارخ کیاتھا۔گلیات میں عیدالفطرکے موقع پر 51ہزار886سیاحوں کی آمدریکارڈکی گئی جبکہ گزشتہ برس 76 ہزارسیاح آئے تھے۔ٹوورازم ذرائع کے مطابق سیاحوں کاڈیٹااکھٹاکرنے اورانہیں سہولیات کی فراہمی کیلئے عیدپر ٹوور ازم پولیس کی چھٹیا ں بھی منسوخ کی گئی تھیں۔سیاحوں کی تعدادمیں کمی کو خلیج اورپاک افغان جنگ سمیت مہنگائی اورامن وامان کی خراب صورتحال کاشاخسانہ قراردیاجارہاہے۔

عیدکے دوران ٹریفک سمیت دیگرحادثات میں 40افرادجاں بحق،ریسکیوذرائع
ریسکیو1122 کے مطابق خیبرپختونخوامیں عیدکے پہلے دوروزکے دوران1914ایمرجنسیزمیں بروقت رسپانس دیاگیا۔اس دوران 484ٹریفک حادثات، 1261میڈیکل ایمرجنسیز،62آگ لگنے کے واقعات، 33لڑائی جھگڑے اورجرائم، 5ڈوبنے اور 50 دیگر نوعیت کے حادثات میں فوری امدادی کارروائیاں کی گئیں جبکہ 1993 متاثرہ افرادکوموقع پرطبی امدادفراہم کی گئی۔ٹریفک اوردیگرحادثات میں 40افرادجاں بحق ہوئے۔ریسکیو1122نے عیدکے موقع پراہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کی تھیں۔رپورٹ کے مطابق عیدکے موقع پرٹریفک حادثات،آتشزدگی،ڈوبنے،عمارتیں گرنے اورفائرنگ جیسے واقعات میں اضافہ ہوا تاہم ریسکیوکی بروقت کارروائیوں نے بڑے جانی ومالی نقصانات سے بچاؤمیں اہم کرداراداکیا۔

پشاورمیں بینک سے ڈیڑھ کروڑروپے مالیت کاسوناچوری،بین الصوبائی گروہ ملوث ہونے کاامکان
صوبائی دارالحکومت پشاورمیں عیدکے روزقومی بینک کی ایک شاخ سے تقریباًڈیڑھ کروڑروپے مالیت کاسونالوٹ لیاگیا۔چوری کی اس سنگین واردات میں چوروں نے بینک کی عقبی دیوارتوڑکر آہنی لاکرکوگیس کٹرکے ذریعے کاٹا۔تفتیشی اداروں کے مطابق واردات میں بین الصوبائی گروہ ملوث ہونے کے شواہدسامنے آئے ہیں۔ پشاورمیں یہ اپنی نوعیت کاانوکھاواقعہ ہے تفتیشی ادارے تفتیش میں مصروف ہیں۔ ڈیوٹی پرمامورسیکیورٹی گارڈزسے ان کاسیلولرڈیٹاحاصل کیاگیاہے اوران سے پوچھ گچھ کادائرہ بھی وسیع کردیاگیاہے جبکہ سیف سٹی کیمرو ں کی مددسے بھی ملزمان کی شناخت کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔پولیس کے مطابق جدیدٹیکنالوجی سے استفادے اورشواہدکی بنیادپر ملزمان کوجلد گرفتار کیاجائیگا۔

پی ایس ایل کی لاہوراورکراچی منتقلی، پشاور ایک میچ سے بھی محروم،میچ کیلئے کی گئی تیاریاں دھری رہ گئیں
حال ہی میں عمران خان کے نام سے منسوب شدہ کرکٹ سٹیڈیم (ارباب نیازسٹیڈیم)میں پی ایس ایل کی تیاریاں دھری رہ گئیں۔پی سی بی نے مذکورہ سٹیڈیم میں ایک میچ کروانے کا فیصلہ کیاتھامگرملکی اوربین الاقوامی حالات کے تناظرمیں پی ایس ایل کراچی اورلاہورمیں منعقد کروانے پرپشاورسے ایک میچ بھی چھن گیا۔میچ سے قبل سٹیڈیم میں موجودانکلیوژرزکو1992ء ورلڈکپ کھلاڑیوں کے نام سے منسو ب کیاگیا،میچ کے ٹکٹس بھی فروخت ہوچکے تھے۔یادرہے صوبائی حکومت نے ارباب نیازسٹیڈیم کانام تبدیل کرکے عمران خان سٹیڈیم رکھا تھا جس پرمختلف حلقوں کی جانب سے تحفظات کااظہارکرکے کہاگیاتھاکہ حکومت عمران خان کے نام سے کوئی اورسٹیڈیم تعمیرکرے پہلے سے موجوداوراہم شخصیات کے نام سے منسوب تاریخی مقامات کے نام تبدیل کرنامناسب نہیں۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket