عقیل یوسفزئی
ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بنوں اور باجوڑ پر حال ہی میں کرایے گئے حملوں کے باوجود پاکستان دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کرنے والے افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیوں سے گریزاں کیوں ہے ۔
ریاستی حکام کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنے والے افغانستان کے خلاف کارروائیوں کا حق محفوظ رکھتا ہے اور آپریشن غضب للحق جاری ہے ۔ دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے پاکستان چین ، قطر اور ترکی کی درخواست پر کسی بڑی کارروائی سے گریزاں ہے تاہم باخبر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ماضی میں کی گئی پاکستانی کارروائیوں کے ردعمل میں افغان حکومت اور اس کے حامیوں نے شہریوں کو نشانہ بنانے کا جو یکطرفہ پروپیگنڈا کیا اس کے تناظر میں پاکستان کافی محتاط ہوگیا ہے اور اب کے بار اس کی کوشش ہے کہ کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بنایا جائے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ افغان حکومت نے نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں کو عام آبادی والے علاقوں میں منتقل کردیا ہے بلکہ اسلحہ وغیرہ کے مراکز بھی شہری علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے تاکہ پاکستان کولیٹر ڈیمیج سے بچنے کی پالیسی کے تحت ماضی کی طرح کارروائیوں سے گریز کرے ۔
دوسری جانب جے یو آئی کی طرح جماعت اسلامی نے بھی افغان حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے ۔
مولانا فضل الرحمان اور متعدد دیگر معتبر مذہبی قائدین کی مخالفت کے بعد جماعت اسلامی کی مخالفت کی پالیسی نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں بلکہ افغان طالبان کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کہ لگ یہ رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی افغانستان کے ساتھ ہونے والی رہی سہی ہمدردی بھی ختم ہونے لگی ہے تاہم اس تمام تر پراگریس کے باوجود پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت اب بھی دہشت گرد گروپوں اور افغان حکومت کی حمایت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ اس کی مثال رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری ٹی ٹی پی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اس لیے ہم ان کی مخالفت کیوں کریں ۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ڈومین میں آتی ہے اس لیے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور اگر اسے وفاقی حکومت کی مدد کی ضرورت ہے تو وہ بھرپور تعاون کرے گی تاہم تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی کابینہ میں توسیع کے اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کابینہ کی توسیع کے دوران خیبرپختونخوا کے جنگ زدہ علاقوں کو نمائندگی دینے کی ضرورت کو نظر انداز کیا گیا ہے جس سے وہاں کے عوام کی شکایات اور عدم تحفظ میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہوگا ۔


