KP Summer Holidays

خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان

پشاور: محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے صوبے کے میدانی علاقوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق میدانی علاقوں کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات 22 مئی سے 31 اگست 2026 تک ہوں گی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر تعطیلات یکم جون سے 31 اگست تک مقرر کی گئی تھیں، تاہم عید کی تعطیلات اور 22 مئی کے بعد جمعہ، ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار چھٹیوں کے باعث تعطیلات کا آغاز 22 مئی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

محکمہ تعلیم کے مطابق اس فیصلے کا مقصد شدید گرمی کے پیش نظر طلبہ و طالبات اور تدریسی عملے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

Aukum Job Fair News

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جاب فیئر اوپن ہاؤس 2026

مردان: عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جاب فیئر اوپن ہاؤس 2026 کا شاندار انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے 45 قومی و بین الاقوامی کمپنیوں نے شرکت کی، جبکہ طلبہ و طالبات کی جانب سے 223 مختلف منصوبوں اور تحقیقی پروجیکٹس کے اسٹالز لگائے گئے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق صوبائی وزیر اور رکن صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو تھے۔ جاب فیئر کے مرکزی منتظمین ڈاکٹر احتشام، ڈائریکٹر آئی بی ایل، اور ڈاکٹر بلال، ڈائریکٹر سی ڈی سی تھے۔

جاب فیئر کے دوران مختلف اداروں کی جانب سے طلبہ و طالبات کے انٹرویوز کیے گئے، جبکہ اہل امیدواروں میں جاب لیٹرز بھی تقسیم کیے گئے، جس سے نوجوان گریجویٹس کو براہِ راست روزگار کے مواقع میسر آئے۔

تقریب میں الیاس طورو، ہارون خان، مختلف جامعات و کالجز کے فیکلٹی ممبران، صنعتوں سے وابستہ نمائندگان اور کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی۔ دیگر مہمانوں میں مردان چیمبر آف کامرس کے صدر اویس خان، عبید الحق، اور مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان شامل تھے۔

اپنے خطاب میں ظاہر شاہ طورو نے یونیورسٹی میں تحقیق کے فروغ کے لیے ایک کروڑ روپے کی گرانٹ اپنے ذاتی فنڈ سے دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی، تخلیقی سوچ اور بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کامیابی انہی نوجوانوں کا مقدر ہوگی جو جدید تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کریں گے۔

انہوں نے صنعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ نوجوان گریجویٹس کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان تعلیمی معیار، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے میدان میں مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ میں خیبر پختونخوا میں پہلے اور ملک بھر میں ٹاپ ٹین جامعات میں شامل ہے۔

وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی میں ماہی پروری کے جدید تحقیقی مراکز، شہد کی مکھیوں کے فارمز، جانوروں کی ویکسین سازی اور صحت سے متعلق جدید مصنوعات کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ بزنس انکیوبیشن سینٹر، بزنس پارک اور اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر کے قیام کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Aqeel Yousafzai

خیبر پختونخوا کابینہ میں توسیع اور پاک افغان تعلقات کا مستقبل

عقیل یوسفزئی
ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بنوں اور باجوڑ پر حال ہی میں کرایے گئے حملوں کے باوجود پاکستان دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کرنے والے افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیوں سے گریزاں کیوں ہے ۔
ریاستی حکام کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کرنے والے افغانستان کے خلاف کارروائیوں کا حق محفوظ رکھتا ہے اور آپریشن غضب للحق جاری ہے ۔ دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے پاکستان چین ، قطر اور ترکی کی درخواست پر کسی بڑی کارروائی سے گریزاں ہے تاہم باخبر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ماضی میں کی گئی پاکستانی کارروائیوں کے ردعمل میں افغان حکومت اور اس کے حامیوں نے شہریوں کو نشانہ بنانے کا جو یکطرفہ پروپیگنڈا کیا اس کے تناظر میں پاکستان کافی محتاط ہوگیا ہے اور اب کے بار اس کی کوشش ہے کہ کسی ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بنایا جائے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ افغان حکومت نے نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں کو عام آبادی والے علاقوں میں منتقل کردیا ہے بلکہ اسلحہ وغیرہ کے مراکز بھی شہری علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے تاکہ پاکستان کولیٹر ڈیمیج سے بچنے کی پالیسی کے تحت ماضی کی طرح کارروائیوں سے گریز کرے ۔
دوسری جانب جے یو آئی کی طرح جماعت اسلامی نے بھی افغان حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے ۔
مولانا فضل الرحمان اور متعدد دیگر معتبر مذہبی قائدین کی مخالفت کے بعد جماعت اسلامی کی مخالفت کی پالیسی نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں بلکہ افغان طالبان کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کہ لگ یہ رہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی افغانستان کے ساتھ ہونے والی رہی سہی ہمدردی بھی ختم ہونے لگی ہے تاہم اس تمام تر پراگریس کے باوجود پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت اب بھی دہشت گرد گروپوں اور افغان حکومت کی حمایت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ اس کی مثال رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری ٹی ٹی پی سے کوئی دشمنی نہیں ہے اس لیے ہم ان کی مخالفت کیوں کریں ۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے گزشتہ روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ڈومین میں آتی ہے اس لیے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے اور اگر اسے وفاقی حکومت کی مدد کی ضرورت ہے تو وہ بھرپور تعاون کرے گی تاہم تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی کابینہ میں توسیع کے اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ کابینہ کی توسیع کے دوران خیبرپختونخوا کے جنگ زدہ علاقوں کو نمائندگی دینے کی ضرورت کو نظر انداز کیا گیا ہے جس سے وہاں کے عوام کی شکایات اور عدم تحفظ میں مزید اضافے کا راستہ ہموار ہوگا ۔

Pashtun Tribal Jirga Delegation Meets Governor Faisal Karim Kundi

پشتون قبائلی جرگہ وفد کی گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

پشتون قبائلی جرگہ کے ایک اہم وفد نے قبائلی رہنما عنایت اللہ محسود کی قیادت میں گورنر ہاؤس اسلام آباد میں فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا کو درپیش مختلف مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران جرگہ اراکین نے صوبائی مسائل کے حل کے لیے گورنر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فیصل کریم کنڈی مؤثر انداز میں پورے صوبے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وفد کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی مختلف اقوام گورنر کی مثبت کاوشوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔

وفد نے حالیہ دنوں راولپنڈی میں دو نوجوانوں کے قتل کے افسوسناک واقعے پر گورنر کے مؤثر کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات انصاف کی بروقت فراہمی میں معاون ثابت ہوں گے۔

اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مسائل کا پائیدار حل قانون کی بالادستی اور باہمی مذاکرات میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون ملک کے مختلف حصوں میں پُرامن انداز میں کاروبار اور زندگی گزار رہے ہیں، اس لیے انفرادی تنازعات کو اجتماعی یا قومی رنگ دینا مناسب نہیں۔

گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ قوموں کی قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملات کو دانشمندی اور تحمل سے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی عملداری، مجرموں کو سزا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ناگزیر ہے تاکہ معاشرے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

hunar-mela-under-the-auspices-of-kpcta-concludes

خیبرپختونخو کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیراہتمام ہنرمیلہ اختام پذیر

خیبرپختونخو کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیراہتمام ہنرمیلہ اختام پذیر ہو گیا۔ ہنرمیلہ میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں اظہار یکجہتی پر مبنی ڈرامہ شہ رگ پیش کیا گیا۔ میلہ میں مزاحیہ فنکار سید رحمان شینو اور خالدہ یاسمین نے مزاحیہ خاکے پیش کرکے ناظرین کو خوب محظوظ کیا۔ میلے کے اختتام پر سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت نے ہنرمندوں میں اعزازی سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے۔

تین روزہ ہنرمیلہ میں 40 سے زائد ہنرمندوں نے دستکاری اشیاء اور روایتی کھانوں کے سٹالز سجائے ہوئے تھے۔ ہنر میلہ میں غیرملکی سیاحوں نے بھی دورہ کیا۔ روس سے آئے غیر ملکی سیاح پاکستانی ثقافت اور مہمان نوازی کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔ ہنرمیلہ میں آئی فیمیلز کیلئے انٹری فری رکھی گئی تھی۔ بچوں کیلئے میجک شو، پلے ایریا اور بہت کچھ تفریح کا حصہ تھا۔