وصال محمدخان
دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں سے دنیانے سبق سیکھاکہ جنگیں تباہی وبربادی لاتی ہیں اوربرسوں جنگ لڑنے والے بھی بالآخر گفت وشنید سے مسائل حل کرتے ہیں اس لئے اقوام متحدہ کاقیام عمل میں لایاگیاجس کااولین مقصدتنازعات کاخاتمہ اوردنیامیں قیام امن تھا اگر اقوا م متحدہ کے مقصدِقیام پرمن وعن عمل کیاجاتاتویقیناًآج دنیامیں امن وآشتی کاراج ہوتا،چاروں جانب خوشحالی اورہریالی نظرآتی اور انسان، انسان کوبم وبارودسے بھسم کرنے پرکمربستہ نہ ہوتا۔اقوام متحدہ کے قیام پر خواب دکھائے گئے تھے کہ یہ ادارہ دنیاکوامن کاگہوارہ بنائیگا۔ مقہور،مظلوم اورکمزوراقوام نے اس ادارے کودل وجاں سے قبول کیامگرافسوس یہ ادارہ امن قائم کرنے میں ناکام رہااوراس ناکامی کی بڑی وجہ طاقتور اور غاصب اقوام،ممالک یا افرادبنے۔اس سے قبل طاقتورممالک کمزورملکوں اورعلاقوں کواپناغلام بناتے تھے اوروسائل لوٹ کر اپنے خزانے بھرتے تھے مگرجنگ عظیم دوم اوراقوام متحدہ کی قیام کے بعدبراہ راست قبضے کی بجائے سلنطتوں نے چھوٹے ممالک کو معاشی، دفاعی اورسرحدی تنازعات میں الجھاکرغلام بنائے رکھا۔مشرق وسطیٰ کاپوراخطہ ہاتھ سے جاتادیکھ کرتاج برطانیہ نے خطے کے قلب میں اسرائیل نامی ایک ناجائزریاست قائم کی جس میں اسے امریکہ کی ساجھے داری بھی حاصل رہی۔تاج برطانیہ کمزور پڑنے پرامریکہ نے اسکی وراثتیں سنبھالی اوراسرائیل کومضبوط کرنے کیساتھ ساتھ عرب ریاستوں پربھی دفاعی اورمعاشی معاہدوں کے ذریعے تسلط قائم کیا۔ مشرق وسطیٰ کاخطہ ان وسائل سے مالامال تھاجن کے بغیردنیاکاپہیہ رک سکتاہے اسلئے امریکہ نے اس پورے خطے کے ممالک کوایران سے خوفزدہ کرکے دفاعی معاہدوں میں جکڑااوروہاں اپنے فوجی اڈے قائم کئے۔ مشرق وسطیٰ کے قلب میں ناجائزریاست اسرائیل کوامریکہ اوراسکے مغربی اتحادیوں نے اتنامضبوط کیاکہ اس نے ہمسایہ ممالک کی زمینیں ہڑپ کرناشروع کردیں۔ دنیاکولبرل ازم اورانسانی حقوق کادرس دینے والی امریکہ اوربرطانیہ نے اسرائیل کو ہمسایہ ممالک کی زمینیں ہڑپ کرنے اوروہاں کے باسیوں کوتہہ تیغ کرنے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے عرب حکمرانوں کوایک جانب اسرائیل کاحقیقی خوف لاحق تھاتودوسری جانب امریکہ اوربرطانیہ نے انہیں ایران کے مصنو عی خوف میں بھی مبتلارکھا۔اسی سبب مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے فوجی اڈے بنے جس سے عرب مطمئن تھے کہ یہ اڈے ہماری حفاظت کیلئے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یہ اڈے اسرائیل کی حفاظت کیلئے قائم کررہاتھا۔ ایران پر اسرا ئیل اورامریکہ کی مسلط کردہ جنگ میں عرب حکمرانوں پریہ بھیدکھلاہے کہ یہ اڈے ہماری حفاظت کیلئے نہیں بلکہ اسرائیلی مفادات کی خاطربنے تھے۔اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں ایران بڑی رکاوٹ تھااس لئے اسکی شدید خواہش رہی کہ وہ ایران کی دفاعی صلاحیت ختم کردے تاکہ وہ اسرائیل کوخطے میں من مانیوں سے روکنے کے قابل نہ رہے۔ایران نے کبھی براہ راست اسرائیل پرکوئی حملہ نہیں کیابس حزب اللہ اورحماس کی صورت میں اس کیلئے مسائل پیداکرتارہا اور اسے توسیع پسندی سے روکنے کی کوشش کرتارہا۔اسرائیل نے گزشتہ برس اس وقت اچانک ایران پرحملہ کردیاجب امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ اسرائیل چونکہ امریکہ کالاڈلاہے اسلئے سرزنش کی بجائے امریکہ اسکی حرکتوں پرمسکراتارہااورجب ایرانی جواب نے اسرائیل کو بے بس کیاتواس نے ایک بڑاحملہ کرکے جنگ کاخاتمہ کردیا۔رواں برس فروری میں ایک بارپھرامریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرا ت کے دوران یاہونے ٹرمپ کویقین د لایا کہ ایرانی سپریم لیڈرکومارنے کابہترین موقع ہے اورجیسے ہی سپریم لیڈرماراجائیگاایرانی عوام اٹھ کھڑے ہونگے،ملک خانہ جنگی سے تباہ ہوجائیگا اور ہمیں زیادہ تردد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مگرایران نے اس جارحیت کابھرپور مقابلہ کیااورخطے میں امریکی اڈوں کادرست نشانہ لیابلکہ اسرائیل کوبھی بھاری نقصان پہنچایا۔ اسرائیل اورامریکہ نے ایران پردنیاجہاں کامہلک بارود برسایا،تباہ کن بم مارے،خوفناک ہتھیار استعمال کئے مگراپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اگر چہ ایران پرسولہ ہزارحملوں سے اسکا سٹرکچرتباہ وبربادکردیاگیاہے مگر جوابی حملے کرنے کی صلاحیت تاحال برقرارہے۔جس کاواضح مطلب یہی ہے کہ جنگ کے نتائج اسرائیل اورامریکی اندازوں کے برعکس نکلے۔ صدرٹرمپ نے اپنی 1987ء کی ویڈیوجاری کرکے یہ ثابت کیاہے کہ ایران سے کسی کوکوئی خطرہ نہیں تھابلکہ اس کے تیل کی دولت ٹرمپ کوللچارہی ہے۔متمدن دنیامیں ایک طاقتورملک کے نیم پاگل صدریہ باورکروارہاہے کہ وہ ایران کی دولت ہتھیا نے کیلئے تباہی مچارہاہے۔ کاش اقوام متحدہ کواس قدربے وقعت نہ بنایاجاتا تو آج ایک چھوٹا ملک ننگی جارحیت کانشانہ نہ بنتا۔امریکہ ایک نئی طرح کی نوآبادیاتی نظام کاخواہاں ہے جس میں کسی ملک پرقبضہ کئے بغیر اسکی دولت پرقبضے کومعیاربنایا گیا ہے مگرپوری دنیا چونکہ اس کامقابلہ کرنے سے قاصرہے اسلئے کھل کرمذمت تک نہیں کی جارہی۔ایرانی تیل پر قبضے کی خواہش پوری کرنے کیلئے دنیابھرکوبحران میں مبتلاکردیاگیاہے،متمدن دنیا کانظام تلپٹ ہوچکاہے،سیاحت،کاروباراورتعلیم سب کچھ تباہ ہورہاہے، صدر ٹرمپ ڈھکے چپے الفاظ میں ایٹمی حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں مگر روکنے ٹوکنے یامنع کرنیوالاکوئی نہیں۔ اقوام متحدہ سے امیدکی جاسکتی تھی مگروہ غیرمؤثرہے۔ روس اورچین جیسے طاقتورممالک بھی چپ سادھ لئے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ہنستے بستے ممالک کوتاخت وتاراج کرکے اجاڑدیاگیاہے اب ایران کیساتھ بھی وہی سلوک کیاجارہا ہے سب جانتے ہیں کہ یہ ناجائزہورہاہے مگر روکنے کی سکت سے سب عاری ہیں۔ایسے میں پاکستان اس معاملے میں بطورثالث سامنے آیا ہے کاش اقوام متحدہ، روس،چین،فرانس،برطانیہ اوردیگربڑے ممالک ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے اورجنگ بندکروانے میں اپناکردارا دا کرتے۔پاکستان نے امریکہ اورایرا ن کومیزبانی فراہم کرکے ایک تاریخی قدم لیاہے۔سفارتی حلقے اور دنیاکی امن پسندقوتیں ’اسلام آباد اِکارڈ‘کیلئے پرامیدتھے مگرمذاکرات کایہ راؤنڈاچانک ختم کردیاگیاہے۔خداکرے یہ تعطل عارضی ثابت ہوکسی جانب سے مذاکرات ختم کرنے کی بات نہیں کی گئی۔ اسلئے امیدہے سفارتکاری کاعمل جارہیگا،فریقین جلدیابدیرکسی معاہدے پراتفاق کرلیں گے اور پاکستان اس مشن امپاسیبل کوانجام دینے میں کامیاب ہوگا۔ورنہ ترقی یافتہ اور متمدن دنیاکاپورانظام تباہی کے دہانے پرکھڑاہے۔


