Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Wednesday, April 29, 2026

پہلگام فالس فلیگ آپریشن

وصال محمدخان
سال بھرقبل بھارت نے اچانک اعلان کیاکہ بھارتی زیرتسلط کشمیرکے پہلگام علاقے میں دہشتگردوں نے سیاحوں پرحملہ کیاہے۔ جس کے نتیجے میں دودرجن سیاح ہلاک ہو گئے ہیں۔بھارت نے اس اعلان کیساتھ ہی پاکستان پرالزام دھردیاکہ اس حملے میں پاکستان ملوث ہے اور بھارت اس کابدلہ لے کررہیگا۔پاکستان نے بھارت کے اس الزام کومستردکرتے ہوئے کسی بھی بین الاقوامی فورم پرتحقیقات کروانے اورالزام درست ثابت ہونے پرہرقسم تعاون اورسزاکیلئے تیاررہنے کاعزم دہرایا۔اس دوران بھارت اپنے جھوٹ کو پروان چڑھا نے میں ماہرمیڈیاکے ذریعے مسلسل پروپیگنڈاکرتارہاجس کاکوئی سرپیرکیاہوناتھابلکہ بے بنیاداورمنفی پراپیگنڈے کے ذریعے وہ یہ باور کر وا نا چاہتا تھا کہ جوکچھ کہاجارہاہے وہ بالکل درست ہے اوراس سے بھارت کوپاکستان پرحملہ کرنے کاحق مل چکاہے۔دراصل بعدکے حالات و واقعا ت سے ثابت ہواکہ مقبوضہ کشمیرکے پہلگام میں یہ واقعہ سرے سے رونماہی نہیں ہوااوراگرہوابھی ہے تویہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ کیونکہ نہ ہی کسی کاجنازہ ہوااورنہ ہی تدفین کے کوئی مناظرسامنے آئے بھارت ٹی وی سکرینزاورسوشل میڈیاپرپراپیگنڈاتوجاری رکھے ہوئے تھامگراسے یہ توفیق سال بھرمیں نہ ہوسکی کہ بین الاقوامی میڈیا کو جائے وقوعہ کادورہ کروایاجاتایااقوام متحدہ سمیت دیگرکسی ادارے کو ثبوت وشواہدپیش کرتا۔بھارت کی انتہاپسندنریندرمودی حکومت نے فالس فلیگ آپریشن توکردیامگراسے درست ثابت کرنے کیلئے جس عقل سلیم کی ضرورت تھی وہ اس سے عاری ہے۔ویسے بھی یہ مقولہ مشہورہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے مگرانتہاپسندمودی اوران کے حواریوں نے ثابت کیاکہ جھوٹ کے پاؤں سمیت سربھی نہیں ہوتا۔واقعے کااعلان سامنے آنے پراس حوالے سے کئے گئے دعوے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب واقعے کے چندمنٹس کے اندرہی ایف آئی آرکاٹی گئی حالانکہ پولیس سٹیشن جائے وقوعہ سے خاصادورتھا اور چند منٹس میں وہاں سے عملے کاجائے وقوعہ پرپہنچنابھی محال تھا۔بہرحال نریندرمودی رجیم کی جانب سے گھڑے جھوٹ میں ان گنت جھول تھے جسے کوئی بھی باشعورشخص ماننے پرآمادہ نہیں تھا۔مگربھارت بضدتھاکہ وہ پاکستان سے مبینہ واقعے کا بدلہ ضرورلے گا۔حالانکہ واقعہ بھی جھوٹ پرمبنی تھا،وقوعے کاکوئی واضح اورناقابل تردیدثبوت موجودنہیں تھااوراس حوالے سے جو دعوے گھڑے گئے انہیں کسی بھی غیرجانبدار فورم پر ثابت کرناممکن نہیں تھامگرانتہاپسندمودی اسرائیلی منصوبہ بندی پرعمل پیراتھااس کاخیال تھا کہ جس طرح اسرائیل نے الزام لگاکرغزہ میں آگ وخون کاکھیل کھیلا،اسے کھنڈرمیں تبدیل کیا،سترہزارسے زائدباشندوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاحتیٰ کہ سکولوں اورہسپتالوں کو بھی بمباری کانشانہ بنایااور بین الاقوامی برادری مذمت کرتی رہی یامذمتی قراردادیں منظورکی جا تی رہیں ایک جانب یہ عمل جاری تھاتودوسری جانب اسرائیل اپنی بربریت جاری رکھے ہوئے تھااسی طرح بھارت بھی پاکستان کوبمبار ی کا نشانہ بناتارہیگا،پاکستان کوکھنڈرمیں تبدیل کیاجائیگا،معصوم شہریوں کاخون بہایاجائیگا،پاکستان اقوام متحدہ میں فریادکناں رہیگا،وہاں تقریریں ہونگیں،قراردادیں منظورہونگیں جنہیں بھارت اسرائیل کی طرح پرکاہ برابراہمیت دینے کی بجائے اپناشیطانی کھیل جاری رکھے گا اورخدانخواستہ جنگ بندی ہونے تک پاکستان کھنڈربن چکاہوگا۔26اپریل2025ء سے لیکر9اور10مئی تک پاکستان بھارت کو بارہا یقین دہانی کرواچکاتھاکہ وہ ایسے کسی فعل میں ملوث نہیں،آئیے کسی بین الاقوامی فورم سے تحقیقات کرواتے ہیں،کسی قابل اعتمادادارے سے تفتیش کرواتے ہیں،جس میں ہم ہرقسم کا تعاون کرینگے اوریہ معاملہ شفاف اندازسے ڈیل کرتے ہیں مگربھارت چونکہ کچھ اورہی سوچے بیٹھاتھااسلئے وہ کوئی بھی معقول بات سننے اور ماننے پرآمادہ نہیں تھا۔اس دوران اس نے کئی شرارتیں کیں پاکستانی سرحدوں اورفضاؤں کی خلاف ورزیاں کیں،نامعقول اوربے سروپا پروپیگنڈاکیا،دھمکیاں دیں،پاکستان کونیشت کرنے کے دعوے کئے جس کے جواب میں پاکستان نے صبروتحمل کامظاہرہ کرکے معقول اور دانشمندانہ طرزعمل اپنایا اوربھارت کواچھی ہمسائیگی کے اصول یاددلائے مگربھارت کا اصل مقصدکچھ اورتھااسلئے وہ اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آیااورپاکستان میں مساجد،رہائشی علاقوں اوردفاعی تنصیبات کونشانہ بنایا۔جس کے جواب میں پاکستان نے محض ان مقامات کونشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پرحملے کئے گئے تھے۔پاکستان نے کہیں بھی رہائشی علاقے، عباد تگاہ،مندر، مسجد، گرجا گھریا گوردوار ے کونشانہ نہیں بنایابلکہ حملوں کوفوجی تنصیبات تک محدودرکھا۔شرانگیزی کے جواب میں پاکستان کی جانب سے کئے گئے حملوں نے بھارت کے اوسان خطا کردئے اوروہ فوراًسے پہلے امریکہ کے درپرسجدہ ریزہوگیاکہ خداراپاکستان کوجنگ بندی پرآمادہ کیاجائے۔پاکستان کامقصدچونکہ جنگ نہیں تھااورنہ ہی پاکستان دنیامیں کسی کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم رکھتاہے بلکہ اسکی تمام تردفاعی تیاریاں جارحیت اورشرانگیزی کیخلاف ہیں۔اگرپاکستان جارحانہ عزائم رکھتاتوبھارت کے سات کی بجائے بیس جنگی طیارے تباہ کرنااس کیلئے مشکل نہیں تھا اورجس طرح بھارت کادفاعی نظام ناکارہ کردیاگیاتھااسی طرح کئی شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا تھامگرپاکستان نے دنیاپرواضح کردیاکہ وہ شرانگیزی اور خونریزی کے خلاف ہے۔پہلگام واقعے کوایک سال کاعرصہ پوراہوچکاہے اس دوران بھارت جوخودکومنی سپرپاوراوردنیاکی سب سے بڑی جمہوریت سمجھتاہے پہلگام واقعے کے حوالے سے کوئی تحقیقاتی رپورٹ تک سامنے نہ لاسکا۔بس نریندرمودی کاخیال یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہتاہے وہی درست ہے اوراسی پرپوری دنیاآنکھیں بندکرکے عمل کرے جو موجودہ متمدن اورترقی یافتہ دنیامیں ممکن نہیں۔پہلگام کا واقعہ چاہے فالس فلیگ آپریشن تھایادرحقیقت ایساکوئی رونماہواتھااس بات پربھی تاحا ل شکوک وشبہات کے بادل منڈلارہے ہیں کیونکہ منی سپرپاورنہ ہی کوئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے لاسکاہے اورنہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش کرسکاہے۔ہاں اتناضرورہواہے کہ پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعدبھارت اورنریندرمودی کااعتمادبری طرح مجروح ہواہے دنیامیں اسرائیل کے سواکوئی بھی فرد اسکی بات سننے اورماننے پرتیارنہیں بلکہ اسے دنیامیں جھوٹااورمکارسمجھاجارہاہے۔اس واقعے کوایک سال کاعرصہ پوراہونے پریہ سبق ملتاہے کہ بھارت پاکستان کوفتح کرنے کے خوابوں سے چھٹکاراپائے۔پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پرعمل پیراہوکرخطے کوامن کاگہوارابنانے کی کوششوں کاساتھ دے کیونکہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن سے ثابت ہواہے کہ پاکستان ناقابل تسخیردفاعی قوت ہے جواپنادفاع کرناجانتا ہے اوردشمن کودندان شکن جواب کے ذریعے شکست فاش دے سکتاہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

پہلگام فالس فلیگ آپریشن

Shopping Basket