وصال محمدخان
امریکہ اوراسرائیل کی جانب سے ایران پرجارحیت اوراسکے نتیجے میں جنگ چھڑنے سے لیکرتادم تحریرپاکستان امن کیلئے ان تھک کوششیں کررہاہے۔40 روزہ تباہ کن اورہولناک جنگ کے بعدیہ کوششیں کامیاب ہوئیں اوردونوں فریق دوہفتے کی جنگ بندی پرآمادہ ہوئے یہ دوہفتے پیر 21اپریل کو پورے ہورہے ہیں اس سے قبل پاکستان نے سرتوڑکوششیں کیں کہ یہ جنگ بندی مستقل ہواورمزیدنقصان سے بچا جائے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آبادمیں ایران اورامریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے جس میں مسلسل 21گھنٹے تک گفت وشنیدکے باوجود فریقین کسی معقول معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے وطن روانگی سے قبل کہاکہ اچھے مذاکرا ت ہوئے مگرہم کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے۔اس سے ایک حلقے نے یہ نتیجہ اخذکیاکہ پاکستان کی ثالثی میں ہونیوالے مذاکرات ناکام ہو گئے مگرپاکستان اپنی کوششوں میں تن من دھن سے مگن رہااوراسکے وزیراعظم،فیلڈمارشل اوروزیرخارجہ ہارماننے پرآمادہ نہیں ہوئے۔اسی سلسلے میں وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی عرب،قطراورترکئے کے دورے کئے جبکہ فیلڈمارشل عاصم منیرنے ایران کاتین روزہ دورہ کیا ایک اندازے کے مطابق خلیج جنگ کے آغازسے یہ تینوں شخصیات سترہزارکلومیٹرکاسفرکرچکے ہیں۔ ان دوروں کے نتیجے میں نہ صرف مستقل جنگ بندی بلکہ خطے میں دیرپاقیام امن کے حوالے سے بھی مشاور ت ہوئی۔پاکستان کی ان کوششو ں کودنیابھرمیں قدرکی نگاہ سے دیکھاجارہاہے اوراس سے پاکستان کے وقارمیں زبردست اضافہ ہواہے۔ یورپ،افریقہ اورایشیاسمیت پوری دنیاپاکستان کی ان کوششو ں کوقدرکی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔صرف دوممالک بھارت اور اسرائیل اسکی راہ میں روڑے اٹکانے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں اسرائیل کبھی لبنان پرجنگ بندی معاہدے کے باوجودحملہ آور ہوتاہے توکبھی کوئی اورشرارت کرکے پاکستان کی امن کوششوں کوسپوتاژکرنے کی مذموم حرکات کاارتکاب کرتا آرہاہے جبکہ بھارت زہریلے میڈیا پروپیگنڈ ے کے ذریعے امن کی یہ کوششیں خراب کرنے کی سعی لاحاصل میں مبتلادکھائی دے رہاہے۔بھارت کایہ مکروہ چہرہ دنیاکودکھانے کی ضرورت ہے۔ خلیج جنگ کے نتیجے میں دنیاکی معیشت تباہی کی جانب گامزن ہے،امیرسمجھے جانیوالے ممالک کی سٹاک مارکیٹس کریش ہورہی ہیں،معشیتیں دباؤمیں ہیں،تیل اورگیس کابحران ہے،پٹرول پمپس پرقطاریں لگی ہوئی ہیں جبکہ خودبھارت میں لوگ گیس سلنڈرزاٹھائے دربدر،سڑکوں اوربازاروں میں ذلیل ہورہے ہیں، مگر گیس نہیں مل رہی۔بھارت میں پاکستان کی طرح پائپ لائنزکے ذریعے گیس دستیاب نہیں بلکہ سلنڈرزکے ذریعے لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے پرمجبورہیں۔ دنیابھرکی طرح بھارت کوبھی تیل بحران کاسامناہے اسے امریکہ نے ایک ماہ کیلئے روس سے تیل خریدنے کی اجازت دی مگراب وہ مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔یعنی دنیابھرکے تقریباًتمام ممالک توانائی بحران کاشکارہیں دنیامیں کسی کوبھی یہ بدترین بحران ٹالنے کی توفیق نہیں ہوئی حتیٰ کہ اقوام متحدہ جس کاقیام ہی اس مقصدکیلئے عمل میں لایاگیاتھاکہ یہ ادارہ دنیامیں تنازعات کاخاتمہ کریگامگروہ بھی غیرفعال ہوچکاہے۔ متمدن اور ترقیافتہ دنیاتیزی سے تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں آرہی تھی کہ ایسے میں پاکستانی قیادت کوخدانے یہ توفیق عطافرمائی کہ وہ اس جنگ کو بندکروانے میں اپناکرداراداکرے۔پاکستان کی کوششیں تاحال درست سمت میں گامزن ہیں جس کے نتیجے میں دومتحارب فریق اسلام آباد میں مذاکرات کاایک راؤنڈکرچکے ہیں جبکہ دوسرے اورحتمی راؤنڈکی تیاریاں جاری ہیں۔پاکستان کی راہ میں اگرچہ بہت سے روڑے اٹکائے گئے مگرآفرین ہے پاکستانی قیادت نے کسی رکاوٹ کوخاطرمیں نہ لاتے ہوئے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھیں جس کانتیجہ یہی نکل رہاہے کہ اب دوسراراؤنڈبھی اسلام آبادمیں ہورہاہے جس سے امیدہے کہ دنیامیں تباہی پھیلانے کامذموم منصوبہ ناکامی سے دوچارہوگا، بلکہ دنیاامن کاگہوارا اورپہلے سے زیادہ محفوظ ہوگی۔خلیج جنگ سے دنیاکوپیغام دیاگیاکہ طاقتورجب چاہیں کسی بھی ملک کوتہہ وبالاکرسکتے ہیں مگرایران کی مزاحمت نے دنیاپرآشکاراکیاکہ جب جنگ بقاکی ہوتوجدیدٹیکنالوجی اور مہلک اسلحہ بھی فیل ہوجاتاہے۔ایرانی مزاحمت نے اسرائیل اور امریکہ پرثابت کیاہے کہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس والاقانون اب مزیدچلنے والانہیں۔اس لئے دونوں ممالک جنگ بندی پرآمادہ ہوئے اگرچہ اسرائیل اب بھی اپنی شیطان صفت کردارسے بازنہیں آرہامگر مستقل جنگ بندی معاہدہ واقع ہوجانے پراسرائیل اکیلارہ جائیگا۔ جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیاامن کی جانب بڑھے گی اورامن دشمن قوتیں ناکام و نامرادہونگیں۔خلیج کی حالیہ جنگ نے اگر ایک جانب اسرائیلی جنگی طاقت کی قلعی کھول کررکھ دی ہے تودوسری جانب امریکی سپرپاورکازعم بھی خاک میں ملادیاہے۔اب کوئی بھی طاقتورملک کسی بھی کمزورملک پرجارحیت سے پہلے سوبا ر سوچے گا۔اسی طرح کی ایک مذموم کوشش بھارت نے گزشتہ برس مئی میں کی تھی اس کابھی یہی خیال تھاکہ جیسے اسرائیل نے غزہ کو کھنڈربنادیااسی طرح وہ بھی پاکستان پرحملے کرکے اسے ملیامیٹ کردیگااورپاکستان اقوام متحدہ میں فریادلیکرجائیگاجہاں مذمتی قراردادیں منظورہونگیں جن کوجوتے کی نوک پہ رکھ کربھارت اپنی من مانی کامذموم سلسلہ جاری رکھے گا مگرپاکستانی جواب نے نہ صرف اسکے چودہ طبق روشن کئے بلکہ کمزوراورچھوٹے ممالک کویہ حوصلہ بھی دیا کہ طاقتورکاشکاربننے سے بہتراسکے سامنے کھڑا ہونااوراسکے دانت کھٹے کرناہے۔پاکستان کے نقش قدم پرچلتے ہوئے ایران نے بھی بقاکی جنگ کامیابی سے لڑی جس سے امیدپیداہوئی ہے کہ یہ سلسلہ اب جاری رہیگا۔ اب دنیاجارح کے سامنے ڈٹ کرکھڑے ہونے کی روش پرچل پڑی ہے جوجارحیت پسندقوتوں کی حوصلہ شکنی اورامن پسندقوتوں کی حوصلہ افزائی کاباعث بنے گی۔ جدیددنیامیں وحشت اوربربریت کے سامنے بندباندھنے کیلئے پاکستان کی کوششیں اورجدوجہدقابل تعریف ہے جس کی کامیابی کیلئے دنیاکاہرامن پسندفرددعاگوہے۔

