Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, May 15, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈ اپ

وصال محمدخان

ڈیڑھ دوماہ کی عارضی توقف کے بعد خیبرپختو خوا میں امن وامان کی صورتحال ایک بارپھرخراب ہو ے لگی ہے۔ افغا ستان میں آپریشن غضب للحق کے بعد شدت پسندوں کی کارروائیوں میں خاصی حدتک کمی آچکی تھی افغان طالبا کیساتھ چین میں ہونیوالے مذاکرات سے امیدیں پیدا ہوئی تھی کہ دو نوں ممالک کسی امن سمجھوتے پرمتفق ہوجائی گے۔ مگرشیخ الحدیث مولا نامحمدادریس کی شہادت کے بعد یہ سلسلہ مزید تیز ہوا ہے اگر چہ دہشتگرد کاررروائیوں کا سلسلہ رکا نہیں تھامگراس میں خاصی حدتک کمی واقع ہوگئی تھی۔ اب ایک بارپھر دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے۔ بنوں میں فتح خیل پولیس چوکی پرحملے میں 15پولیس اہلکارجام شہادت نوش کرگئے جبکہ تین شدیدزخمی ہوگئے۔ فتح خیل پولیس چوکی بنوں کے نواح میں واقع ایک حساس چوکی ہے جسے گزشتہ ایک ماہ کے دوران 20مرتبہ حملوں کا نشا نہ بنایاجاچکاہے،چوکی میں 42اہلکار تعینات تھے، موقع پر موجود18اہلکاروں میں سے 15شہیدجبکہ 3زخمی ہوگئے۔حملہ آوروں نے بارودسے بھرالوڈررکشہ چوکی کی دیوارسے ٹکرایاجس سے عمارت منہدم ہوگئی حملے کی ذمہ داری اتحادالمجاہدین نامی شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔ اعلیٰ حکام کوپیش کی گئی رپورٹ کے مطابق واقعہ 9مئی کورات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب پیش آیاجس میں 12سے15سوکلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیاگیا۔

لکی مروت کی تحصیل سرائےنور گ کے پھاٹک بازار میں بم دھماکے سے دوٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت9افرادجاں بحق جبکہ38افرادزخمی ہوگئے۔ ہسپتال ا نتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں خواتین اوربچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعدشدیدفائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ فائر گ اوردھماکے سے دوکا نوں کوشدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق آٹھ سے دس کلوگرام بارودی موادموٹرسائیکل میں فٹ کیاگیاتھاجسے ریموٹ کنٹرول سے بلاسٹ کیاگیا۔اس سے چند روزقبل ہنگومیں اورکزئی کی جانب سے حملہ کیاگیا۔ان دونوں حملوں میں دہشتگردوں کی بڑی تعدادملوث پائی گئی۔ ذرائع کے مطابق بنوں اورہنگو حملوں میں سو،سو دہشتگردوں نے حصہ لیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بنوں کادورہ کرتے ہوئے ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اورشہداء کے گھرجاکر لواحقین سے تعزیت کی۔ اس موقع پران کا کہنا تھاکہ ”شہداکے ورثاکوخصوصی شہداء پیکیج دیاجائیگا اوربچوں کے تمام اخراجات حکومت اٹھائیگی“۔ انہوں نے باچاخان ہال میں بنوں کے عمائدین ،پارلیمنٹرینز،علمائے کرام، مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں، حکومتی ذمہ داران اورمشران پرمشتمل جرگے کی صدارت بھی کی۔ جس میں امن وامان کی مجموعی صورتحال، دہشتگرد ی کیخلاف حکمت عملی،عوامی تحفظ اورپائیدارامن کیلئے تجاویزپرتفصیلی گفتگوکی گئی۔ جرگے سے خطاب میں وزیراعلیٰ کاکہنا تھاکہ ”بنوں واقعے پرپوراصوبہ غمگین ہے، پولیس 25برس سے دہشتگردی کی جنگ لڑرہی ہے،غلط پالیسیوں کے نتیجے میں 80ہزارشہری جان گنواچکے ہیں، 2018ء میں امن بحال ہواتاہم 2022 ء سے عوام پربندکمروں کے فیصلے مسلط کئے گئے جس کے نتیجے میں دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، مخصوص ذہنیت خیبرپختو خواکی ترقی کی راہ میں حائل ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے سا نحہء بنوں پرتعزیت کیلئے کال کی تومیں نے بتایاکہ وفاق کی موجودہ پالیسیاں جاری رہنے کی صورت میں تعزیتوں کاسلسلہ بھی جاری رہیگا،وفاق کی ترجیح قیام امن کی بجائے عمران خان کا سیاسی خاتمہ اورتحریک انصاف کے حصے بخرے کرنا ہے،ہم نے پولیس،محکمہ ا نسداد دہشتگر دی اورسپیشل برا نچ کو30ارب روپے کے فنڈز فراہم کئے، آئندہ سالا نہ ترقیاتی پروگرام میں مزید وسائل فراہم کئے جائینگے تاکہ پولیس ہرقسم کے چیلنجزکامؤثراندازمیں مقابلہ کرنے کی قابل ہو“۔

سہیل آفریدی چھ ماہ کے طویل عرصے بعداڈیالہ جیل پہنچے۔جہاں میڈیاسے گفتگومیں ان کاکہناتھاکہ”ملک کوسنگین مسائل کا سامنا ہے، آئین وقانون کی بالادستی نظر نہیں آرہی، معیشت تباہ حالی کاشکار ہے، قرضے 81ہزارارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، مسلط شدہ حکمرانوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں خیبرپختونخوا ایک بارپھردہشتگردی کا شکار ہورہاہے، 22بڑے جبکہ 14ہزارچھوٹے آپریشنزکے باوجود حالات قابوسے باہر ہیں جوحکومت کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے“۔ سہیل آفریدی وفاقی حکومت پرتنقید کرتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ خیبرپختونخوامیں ان کی حکومت ہے،ان کی مرضی کیخلاف فوجی آپریش ممکن نہیں، امن و امان 18ویں ترمیم کے بعدصوبائی معاملہ ہے جبکہ صوبے کے قرضے بھی ایک ہزارارب کے لگ بھگ ہیں۔

گزشتہ ہفتے سربراہ عوامی نیشنل پارٹی ایمل ولی خان کے اس بیان کاسوشل میڈیاپرخاصاچرچارہاجس میں انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی، پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی ایک ہی سکے کے مختلف رخ ہیں۔ حکومت مخالف حلقوں نے اس بیان کوسراہا جبکہ حکمران جماعت کے رہنماؤں نے ایمل ولی خان کو تندوتیزبیا نات، الزامات اورشدید تنقید کا نشا نہ بنایا، خاتون رہنما شا ندا نہ گلزار نے بھی حسب معمول نامعقول بیا نات دیئے۔ صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقے ایمل ولی کے بیان سے متفق دکھائی دے رہے ہیں۔ اے این پی کایہ دیرینہ مؤقف ہے کہ حکمران جماعت ٹی ٹی پی کا سیاسی و نگ ہے اوراسکے رہنماؤں سمیت پارلیمنٹیرینزٹی ٹی پی کوبھتہ دیتے ہیں۔ بھتہ ادائیگی کے حوالے سے حکمران جماعت کے چند اہم رہنماؤں کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈکاحصہ ہیں جواس مؤقف کی تائیدکرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ مگروزیراعلیٰ صوبے میں امن وامان کی خراب صورتحال کی ذمہ داری حیرت ا نگیزطورپروفاق کے سرمنڈھ دیتے ہیں حالا کہ پولیس چوکیوں پرحملے یابازاروں میں بم دھماکے روکنا صوبائی حکومت کی ذمہ داریو ں میں شامل ہے۔ مگروزیراعلیٰ وفاق کیخلاف بیان دیکر یا لعن طعن کرکے دامن جھاڑدیتے ہیں جیسے یہ اس صوبے کے حکمرا نہیں بلکہ وفاق کے اپوزیش لیڈرہوں۔

حکومت نے اوورسیزپاکستا نیوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضے، تنازعات اوردیگرمسائل کیلئے قا نون سازی متعارف کروائی ہے۔ نئے قانون کے مطابق اس مقصد کیلئے ہائیکورٹ کی مشاورت سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو 120دن کے اندر فیصلہ سنا نے کی پابند ہو گی جس کے خلاف15دن کے اندراپیل دائر کی جاسکے گی۔ خصوصی عدالت کاجج بلحاظ عہدہ ایڈیشنل سیشن جج کے برابر ہوگا،عدالتیں اوور سیز پاکستا نیوں کی جائیدادوں پر ناجائزقبضے کے خاتمے اور تنازعات کی فوری حل کیلئے کام کرے گی، ججزکا تقرر پشاور ہائیکورٹ کی مشاورت سے کیا جائیگا،اوورسیزپاکستانی آن لائن درخواستیں جمع کرواسکیں گے جبکہ ویڈیولنک سے گواہی اوربیا نات ریکارڈکر نے کی سہولت بھی فراہم کی جائیگی،قانون میں غیرقانو نی جائیدادکی منتقلی روکنے،کرایہ کی وصولی میں معاونت فراہم کر نے اورعدالتی نوٹسنزموبائل فون ،ای میل اور مساجد کے ذریعے بھجوا نے جیسے اقدامات بھی شامل کئے گئے ہیں۔ صوبے میں اوورسیزپاکستا نیوں کی جائیدادوں سے متعلق تمام زیرالتوا مقدمات خصوصی عدالتوں کومنتقل کئے جائینگے۔وزیرقانون آفتاب عالم کے مطابق ”نئے قانون سے سمندرپارپاکستانیوں کااعتمادبحال ہوگا اور ان کی جائیدادوں کومؤثرقانونی تحفظ فراہم کیاجاسکے گا“۔  نئے قانون کواوورسیزپاکستانیز پراپرٹی ایکٹ 2026ء کا نام دیاگیاہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈ اپ

Shopping Basket