وصال محمدخان
خیبرپختونخواکی صوبائی کابینہ میں ایک بارپھرتوسیع کردی گئی ہے۔گزشتہ سال اکتوبرمیں جب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حلف لیاتو انہوں نے تین ہفتے کابینہ کے بغیرگزارے۔اس دوران وہ اکیلے اپنے ناتواں کاندھوں پرپورے صوبے کابوجھ اٹھائے ہوئے تھ۔جب اس ناروا روِش پرشدیدتنقیدکی گئی اورآئینی ماہرین کی جانب سے قانونی سوالات اٹھائے جانے لگے کہ صوبائی حکومت محض وزیراعلیٰ نہیں ہوتے بلکہ چندمخصوص معاملات کے علاوہ تمام امورکیلئے وزیراعلیٰ کابینہ سے منظوری کے پابندہوتے ہیں۔ مگریہاں وزیراعلیٰ اکیلے ہی صوبے کے کرتا دھرتا بنے ہوئے ہیں حکومتی اموراورکاروبارمملکت ٹھپ ہوکررہ گئے ہیں،صوبے کے معروضی حالات نت نئے تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے اگروزیراعلیٰ کابینہ تشکیل نہیں دیتے توعدالت عالیہ سے رجوع کیاجائے۔جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ بضد تھے کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اورانکی مشاورت کے بغیرکابینہ تشکیل نہیں دینگے۔تین ہفتے انتظارکے بعدپارٹی کی سیاسی کمیٹی نے وزیراعلیٰ کوکابینہ تشکیل دینے کی اجازت دے دی حاالانکہ کابینہ کی تشکیل بانی سے ملاقات نہ ہونے کے سبب التواکاشکارتھی۔بہرحال مختصرکابینہ تشکیل دینے کافیصلہ کیاگیا جس کے تحت14رکنی کابینہ نے حلف اٹھایا۔گزشتہ چھ ماہ سے اسی مختصرکابینہ سے کام چلایاگیااس دوران کئی بارکابینہ میں توسیع اورنئے وزرا کے حلف اٹھانے کی خبریں سامنے آئیں مگربوجوہ یہ حقیقت نہ بن سکیں۔اب کابینہ میں 6 نئے وزرا، 4مشیراور8معاونین خصوصی شامل کئے گئے ہیں جس سے وزیراعلیٰ سمیت 17وزرا،6مشیراور8معاونین خصوصی کیساتھ کابینہ ارکان کی تعداد31ہوگئی ہے۔کابینہ کی اس توسیع کیلئے بانی سے ملاقات کاراگ نہیں الاپاگیا جس کاواضح مطلب یہی ہے کہ سہیل آفریدی اڈیالہ کی ملاقات سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ملاکنڈسے شکیل خان کوبھی حیرت انگیزطورپرکابینہ میں شامل کیاگیاہے انہیں علی امین گنڈاپوردورمیں برطرف کیاگیاتھاوہ مردان سے ممبرقومی اسمبلی عاطف خان گروپ سے متعلق سمجھے جاتے ہیں،یہ 2013 ء سے منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں، انہوں نے وہاں سے پیپلزپارٹی کے صوبائی صدراورحیدرہوتی کابینہ کے وزیرخزانہ ہمایوں خان کومسلسل تیسری بارشکست سے دوچارکیاہے۔یادرہے ہمایوں خان کے والد حنیف خان ذولفقارعلی بھٹوکے قریبی ساتھی اورانکے دورمیں وفاقی وزیررہے تھے ملاکنڈمیں پیپلزپارٹی کے استحکام اوروہاں سے اے این پی جیسی پارٹی کوٹف ٹائم دینے میں حنیف خان کااہم کردارتھا2013ء انتخابا ت سے قبل تک ملاکنڈکومنی لاڑکانہ سمجھاجاتاتھاعلاقے کیلئے حنیف خان کے خدمات بھی قابل ذکرہیں مگرجب سے پی ٹی آئی کی ہواچلی ہے صوبے کی روایتی جماعتوں کاخاتمہ ہوچکاہے۔شکیل خان پرویزخٹک اورمحمودخان کابینہ میں بھی وزیررہے تھے ان دونوں ادوارمیں بھی کابینہ سے اِن آؤٹ کاسلسلہ جاری تھاانہیں پرویز خٹک کابینہ سے بے آبروکرکے نکالاگیاتھاجبکہ محمودخان کابینہ سے بھی عاطف خان کے ہمراہ حکومت کے خلاف سازش کے الزام میں برطرف کیاگیا تھا۔گزشتہ سال کے ابتدائی دنوں میں انکی اڈیالہ میں بانی سے ملاقات ہوئی جس کے بعدانہوں نے میڈیاسے گفتگومیں کہا کہ انہوں نے بانی کو صوبائی حکومت کی کرپشن سے آگاہ کردیاہے۔اس دوران بانی نے ممتاز قانون دان قاضی انورکی سربراہی میں گڈگورننس نامی کمیٹی بنائی جس نے شکیل خان کے الزامات کی تحقیقات کی اور ان پرہی کرپشن کے الزاما ت لگاکربرطرف کردیاگیامگراس کیلئے کوئی معقول جوازپیش نہیں کیاجاسکا۔جس سے یہی سمجھاگیاکہ علی امین گنڈاپوران سے ناراض ہیں۔ انکی برطرفی پرعاطف خان نے خاصابرامنایااورگنڈاپورکے خلاف بیانات جاری کئے مگر گنڈاپورنے دباؤقبول نہیں کیااورشکیل خان تقریباً ایک سال تک کابینہ سے باہررہے اب انہیں دوبارہ وزیر بنا دیا گیاہے جس سے پارٹی کے بہت سے اندرونی حلقوں کی پیشانیاں شکن آلود ہوچکی ہیں۔کابینہ میں انکی دوبارہ شمولیت عاطف خان کے اثرورسوخ کوظاہرکرتاہے مگرکابینہ کی اس توسیع سے پارٹی کے اندرونی حلقے زیادہ خوش نہیں۔شوکت یوسفزئی نے شانگلہ کونمائندگی نہ دینے کا گلہ کیاہے ان کاکہناتھاکہ ن لیگ نے شانگلہ سے امیرمقام کووفاقی وزارت، انکے بھائی ڈاکٹرعباداللہ کوصوبائی اپوزیشن لیڈر اور صاحبزاد ے نیازکوسینیٹربنوایاہے جبکہ ہماری پارٹی نے شانگلہ کونمائندگی سے محروم کردیا۔ سابق گورنرشاہ فرمان نے بھی مبہم اندازمیں تحفظات کااظہار کیاہے جبکہ دیگرچھوٹے بڑے راہنماؤں کی جانب سے بھی مخالف بیان بازی ہورہی ہے۔کابینہ کی اس توسیع کاسرسری جائزہ لیاجائے تو اس سے صوبے کوکوئی فیض کیاملناہے بس تحریک انصاف نے خودکواندرونی انتشار سے بچانے کیلئے کچھ گروپوں کومطمئن کرنیکی کوشش کی ہے مگراس سے بھی پارٹی کاانتشارکم ہونے کی بجائے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔جن گروپوں کومطمئن کرنیکی کوشش ہوئی ہے وہ تویقیناً خوش ہونگے مگرجونظراندازکئے گئے ہیں وہ مایوسی کاشکارہیں کچھ ذرائع کایہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نئی توسیع سے وزیراعلیٰ نے خودکوبچانے کی کوشش کی ہے گزشتہ پندرہ بیس روزسے سہیل آفریدی کی رخصتی اوراسدقیصرکے بھائی عاقب اللہ کے وزیراعلیٰ بننے کی افواہیں گرم ہیں۔ کابینہ کی اس نئی توسیع سے سہیل آفریدی توشائدمطمئن ہوگئے ہوں کہ انہوں نے اندرونی خطرے کا گلا گھونٹ دیاہے مگروزارت کے بہت سے آرزومندمایوس بھی ہوچکے ہیں کیونکہ بیشترارکان اپنی حکومتوں کی بدترین کارکردگی سے سمجھ چکے ہیں کہ یہ آخری حکومت ہوسکتی ہے اسلئے ہرایم پی اے اورراہنماکچھ نہ کچھ حاصل کرنیکی تگ ودودمیں مصروف ہیں۔ کچھ ذرائع کایہ بھی دعویٰ ہے کہ کابینہ کی اس توسیع سے حکمران جماعت میں ٹوٹ پھوٹ کاعمل تیز ہوگا۔ویسے تحریک انصاف میں اِن آؤٹ کاسلسلہ 2013ء سے جاری ہے کسی کوبلاسبب برطرف کیا جاتاہے اورکسی کوبغیرکسی کارکردگی وزارت کاتاج پہنادیاجاتاہے۔ حکومتی کارکردگی پہلے بھی زوال کا شکارتھی اوراس نئی توسیع سے بھی اس میں بہتری کے کوئی آثارنظرنہیں آرہے۔


