Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, June 1, 2026

سہیل آفریدی میڈیااورصحافیوں سے شاکی

وصال محمدخان
خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عیدالاضحی سے قبل ایک بیان میں سرکاری افسران اورکابینہ کے نئے وپرانے ممبران کوہدایت کی ہے کہ محکمانہ کرپشن کی خبریں نشراورشائع کرنیوالے صحافیوں اورمیڈیاگروپس کوتین روزکے اندرنوٹس دیاجائے۔

اس بیان سے چند روزقبل انہوں نے انکشاف فرمایاتھاکہ اسلام آبادکے ایک فارم ہاؤس میں صحافیوں کوکروڑوں روپے دئے گئے تاکہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف کرپشن کی خبریں شائع اورنشرکریں۔صحافتی حلقوں میں یہ دونوں بیانات زیربحث ہیں اوراس پرتنقیدکاسلسلہ جاری ہے۔ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے بعض سنیئرصحافی چیلنج کررہے ہیں کہ وہ کرپشن کے ثبوت دینے کوتیارہیں بشرطیکہ وزیراعلیٰ کارروائی کاوعدہ کریں۔

پاکستانی سیاست کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں برسراقتدارطبقے کوہمیشہ میڈیاسے شکایات رہتی ہیں اگرمیڈیاانکے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے اورصحافی انکی تعریفوں کے پل باندھے توبرسراقتدارطبقہ خوش اورمطمئن رہتاہے مگرجہاں صحافی حکومتی کرپشن، اقرباپروری اوربدعنوانی کیخلاف آوازاٹھائیں توحکمران طبقہ ناراض ہوجاتاہے اورمیڈیاسمیت صحافیوں پرلغووبے بنیادالزمات لگانے اوردھمکیاں دینے سے بھی گریزنہیں کیاجاتا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوعنان حکومت سنبھالے سات ماہ کاعرصہ گزرچکاہے اس دوران انہیں کوئی قابل ذکر کام کرنے کی توفیق نہیں ہوئی جس کی تعریف کی جائے یا سراہاجائے۔اس دوران انہوں نے ان گنت بے مقصدجرگے بلائے جن میں فوج اوروفاقی حکومت کیخلاف بیان بازی ہوئی اورصوبے میں بدامنی کاساراملبہ پاک فوج اوروفاقی حکومت پرڈالاگیا مگران میں سے کسی جرگے کے اعلامئے پرکبھی عملدرآمدنہیں ہوابعض جرگوں میں کئی سرکردہ افرادپرمشتمل کمیٹیاں بنائی گئیں جن کابعد میں کوئی اجلاس بلانے کا ترددبھی گوارانہیں کیاگیا۔وزیراعلیٰ بضدہیں کہ ان جرگوں یاپھر جلسوں کوتاریخ کے بڑے جلسے قراردیا جائے اور میڈیارپورٹ دے کہ وزیر ماعلیٰ نے جرگے کے نام پرجوجلسہ منعقدکیاوہ تاریخی اہمیت کاحامل اورصوبے سمیت ملکی تاریخ کابڑاجلسہ تھاجس نے ملکی سیات کارخ بدلا ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی چاہتے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کی رہائی کیلئے مردان،چارسدہ،پشاور،کوہاٹ،کرک اورصوابی میں جو جلسے منعقدکئے انہیں تاریخ کے بڑے جلسوں میں شمارکیاجائے اورجس طرح وہ خودناکام جلسوں کی کامیابی کاڈھول پیٹتے ہیں اسی طرح پورے ملک کی میڈیااورصحافی بھی اس میں شامل ہوجائیں اوران جلسو ں کوعمران خان کی رہائی کیلئے تاریخی قدم قرار دیا جائے۔یاپھروہ جواڈیالہ جیل کے باہرمنہ کاذائقہ بدلنے کیلئے سرکس لگاتے ہیں،چکری کاراستہ کھلاہونے کے باوجود چونگی نمبر26میں میلہ لگاتے ہیں، سڑکوں کی بندش سے مسافروں کوتکلیف پہنچاتے ہیں،مریض بروقت ہسپتال پہنچنے سے قاصررہتے ہیں اورخواتین وبچے شدید گرمی میں ذلیل وخوارہوتے ہیں یہ سب اقدامات عمران خان کی رہائی کیلئے تاریخی قراردئے جائیں اوران تاریخی اقدامات کیلئے خیبرپختو نخوا کی صوبائی حکومت اوروزیراعلیٰ کو نوبل پرائز کیلئے نامزدکیاجائے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی شدیدخواہش ہے کہ وہ سیاست کیلئے سرکاری وسائل کاجوبے دریغ استعمال کرتے ہیں،سرکاری مشینری کووفاق پرچڑھائی کیلئے برائے کارلاتے ہیں،فوج اوروفاق کوجوناقابل اشاعت گالیوں سے نوازتے ہیں،صوبے میں امن وامان کے قیام کی اپنی منصبی ذمہ داریوں سے غفلت کامظاہرہ کرتے ہیں،دہشتگردی کیخلاف اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنیوالی فوج اورپولیس کے جوانوں کے حق میں کلمہء خیرتک ادانہیں کرتے،فوج پربے جاالزام تراشی کرتے ہیں،انکی قربانیوں کامذاق اڑاتے ہیں،وطن کی خاطرجانیں وارنے والی فورسزکوبے بنیاد تنقیدکانشانہ بناتے ہیں،اڈیالہ جیل کے باہر سرکس لگاتے ہیں،اپنے رشتہ داروں کوقومی خزانے سے نوازتے ہیں اورزیادہ وقت پشاورکی بجائے اسلام آبادمیں گزارتے ہیں ان سب کومیڈیامیں سراہاجائے اورصحافی ان تمام الٹے سیدھے اقدامات،حرکات وسکنات کی تعریفوں میں زمین وآسمان ایک کردیں اگر میڈیا انکی خواہش کے مطابق کردارادانہیں کرتاتواسے نوٹس دئے جائیں اورعدالتوں وسرکاری اداروں میں پیشیاں بھگتواکر ذلیل وخوارکیاجائے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کامانناہے کہ انہیں حکومت عوام کی خدمت یاساڑھے کروڑآبادی کاصوبہ چلانے کیلئے نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کیلئے ملی ہے اسلئے اگر وہ ہفتے کے چھ دن کے پی ہاؤس اسلام آبادمیں گزارتے ہیں،اس دوران صوبے میں دہشتگرد سڑکوں اورشاہراہوں پرناکے لگاتے ہیں، گاڑیوں اورمسا فرو ں کی چیکنگ کرتے ہیں،خوف وہراس پھیلاتے ہیں اورسرکاری ملازمین کواغواکرکے لے جاتے ہیں تومیڈیا ان سب پرآنکھیں بندکرلیاکرے اوراسے بھی سہیل آفریدی کی خوبیوں میں شمارکیاجائے کہ حکومت کے ہوتے ہوئے بھی عوام سڑکوں اور شاہراہوں پرمحفوظ نہیں یہ خامی نہیں بلکہ خوبی تصورکی جائے اورصحافی،میڈیاگروپس اورتمام سیاسی جماعتیں،اسکے سربراہ اور کارکن سہیل آفریدی کی تعریفیں کریں کیونکہ انکے علاوہ کسی وزیراعلیٰ نے پنجاب میں سڑکیں بندکرنیکی جرات نہیں کی،جوہفتے میں چھ دن صوبے سے باہر گزارتے ہوں،جوجلسوں میں عدالتوں کے سزایافتہ مفروروں کواپنے بغل میں کھڑاکرتے ہوں،روزنصف درجن کرپشن سکینڈلزسامنے آنا توقابل تعریف ہے نہ کہ اس پرتنقیدکی جائے۔

یہاں کاہرحکمران چاہتاہے کہ لوگ اسکی راہوں میں پلکیں بچھائیں اورانکے کرداربارے سوال تک نہ کیاجائے۔خصوصی طورپروہ حکمران جن کے اقتدارکی ناؤ ہچکولے کھارہی ہوایسے وقت ہرحکمران کو میڈیامیں ہزار برائیاں نظرآتی ہیں اوراس کابس چلے توپوری میڈیاکو ہٹلرکی طرح کسی ہال میں بندکرکے آگ لگادے تاکہ نہ رہے بانس اورنہ بجے بانسری۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی میڈیااورفتنۃ لخوارج کے دباؤمیں نہ آنیوالے صحافیوں کو دھمکانے کی بجائے گڈگورننس اورحکومتی کارکردگی پرتوجہ دیں انکی کارکردگی اچھی ہوگی صوبے میں حکومت نظرآئیگی،کرپشن کاقلع قمع ہوگا،اقرباپروری کانام ونشان نہ ہوگاتوکونسامیڈیاگروپ ہے جووزیراعلیٰ یاحکومت پرتنقیدکریگا۔ تنقیدکرناکسی میڈیاگروپ یاصحافی کا شوق نہیں لیکن جب صوبے میں حکومت نامی کوئی چیزنہ ہو،شدت پسند ناکے لگاتے ہوں، آئے روزپولیس اورفوجی جوانوں کی میتیں اٹھائی جاتی ہوں،کرپشن کابازارگرم ہو،اقرباپروری عروج پرہواور حکمرا ن جماعت میں ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی ان گنت مساجدہوں تو میڈیا اور صحافی ان سے کیونکرصرفِ نظرکرسکتے ہیں؟وزیراعلیٰ خود بھی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں اورانکی خواہش ہے کہ میڈیااورصحافی بھی اپنی ذمہ داریاں چھوڑکرحکومتی مدح سرائی میں مصروف ہوں۔

صحافیوں اورمیڈیاکودھمکانے کی بجائے وزیراعلیٰ کارکردگی پرتوجہ دیں۔کام اورکارکردگی چھپائے نہیں چھپتے حکومتی کارکردگی ہوگی تومیڈیااسے سراہنے پرمجبورہوگا۔اوروزیراعلیٰ بھی شاکی نہیں ہونگے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

سہیل آفریدی میڈیااورصحافیوں سے شاکی

Shopping Basket