وصال محمدخان
2170ارب کاصوبائی بجٹ پیش،آمدن کاتخمینہ2122ارب، 48ارب روپے کاخسارہ
2170ارب روپے مالیت کا بجٹ خیبرپختونخواسمبلی میں پیش کیاجاچکاہے۔یہ دوسراموقع ہے کہ وزیراعلیٰ نے بجٹ صوبائی اسمبلی میں خود پیش کیا۔اس سے قبل سردارمہتاب عباسی نے بطوروزیراعلیٰ1997ء سے 1999ء تک تین بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کئے تھے۔اگلے مالی سال2026-27میں صوبائی آمدن کاتخمینہ2122ارب روپے لگایاگیاہے اس طرح 48ارب روپے کاخسارہ ہوگاوفاقی حکو مت کی خواہش تھی کہ صوبہ سرپلس بجٹ پیش کرے مگر خسارے کابجٹ پیش کرکے آئی ایم ایف شرط پوری کرنے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی گئی ہے۔بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کیلئے524.292ارب جبکہ اخراجات جاریہ کیلئے1645.708ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپنشن میں 7فیصداضافہ کیاگیاہے جبکہ محنت کش کی ماہانہ اجرت40ہزار سے بڑھا کر45ہزارروپے کردی گئی ہے۔بجٹ دستاویزکے مطابق صوبائی تنخواہوں پر334ارب،تحصیل تنخواہوں پر305ارب، پنشن پر 201ارب جبکہ دیگر اخراجات کی مدمیں 457ارب روپے خرچ کئے جائینگے۔صوبے کووفاق سے1584.939ارب جبکہ صوبائی محصولات سے 182.410ارب روپے حاصل ہونگے۔ضم شدہ اضلاع کی مدمیں 199.084 ارب، بیرونی امدادسے چلنے والے منصوبوں کے محصولات 150.020 ارب ہونگے۔ وفاقی حکومت کی امدادسے چلنے والے ترقیاتی وغیرترقیاتی منصوبوں سے 5.188ارب روپے موصول ہونگے۔اگلے مالی سال کیلئے پولیس کابجٹ191.393ارب روپے کیاگیاہے،جدیداسلحہ وگولہ بارودکی خریداری کیلئے 7.77ارب،بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کیلئے 1.817ارب،پولیس ماہانہ آپریشنل سپورٹ کیلئے 7. 9ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔مفت کتب کی فراہمی کیلئے 8 ارب،ابتدائی وثانوی تعلیم کیلئے 10.34ارب،پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی فراہمی کیلئے ایک ارب 70کروڑ،خراب کارکردگی والے سکولوں کے انتظام وانصرام میں بہتری کیلئے 3ارب29کروڑ،تعلیم کارڈپروگرام کیلئے29کروڑ،پیرنٹس ٹیچرزکونسلزکی استعدادکار بڑھا نے کیلئے6ارب، ضم اضلاع میں 72وزیراعلیٰ ماڈل سکولزکے قیام کیلئے ایک ارب،وزیراعلیٰ اقدامات برائے آؤٹ آف سکولز چلڈرنزکے لئے 5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔صحت کارڈپلس کابجٹ41ارب سے بڑھاکر50ارب روپے کردیاگیاہے،سرکاری ہسپتالوں میں ادویات فراہمی کیلئے14.263ارب،ایم ٹی آئیزکابجٹ65ارب سے بڑھاکر80ارب روپے کردیاگیاہے۔کیٹگری ڈی ہسپتال جمرودکوتدریسی ہسپتال کے طورپراپ گریڈیشن کیلئے9.9ارب،پشاورمیں نئے جنرل ہسپتال کی تعمیرکیلئے4ارب،کینسرمریضوں کے علاج کیلئے20کروڑ،فعال بی ایچ یوز اورآرایچ سیزکی بہتری کیلئے825ملین جبکہ صحت کے شعبہ میں گڈگورننس روڈمیپ کے تحت ایک ارب 35کروڑروپے خرچ کئے جائینگے۔اگلے مالی سال 57ارب روپے قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہونگے جبکہ گڈگورننس اقدامات کیلئے 19.3ارب روپے رکھے گئے ہیں۔معذورافراداوربیواؤں کوبلاسودکاروباری قرضوں کی فراہمی کیلئے 23کروڑروپے،زمونگ کورکمپ لیکس کیلئے 1.1ارب،ریسکیوسروسزکی تمام تحصیلوں تک توسیع کیلئے 2ارب 20کروڑ،لوکل کونسلزکیلئے22ارب،پشاورمیں واٹراینڈ سینٹیشن سروسزکیلئے6ارب 60کروڑ،ضم اضلا ع اورروخانہ قبائل ڈیویلپمنٹ پیکیج کیلئے 31.5ارب،آرٹیفشل انٹیلی جنس اتھارٹی کے قیام کیلئے 1ارب،ضم اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 29اوراے آئی پی کیلئے52ارب روپے،سڑکوں کے شعبے کیلئے 52ارب، ہزارہ ڈویژن میں سڑکوں کی تعمیرکیلئے92کروڑ،ضم اضلاع میں سیاحت کی فروغ کیلئے80کروڑ،مہمندماربل سٹی کیلئے14کروڑ،سیاحتی ترقی کیلئے 3ارب،زرعی اصلاحات اورخواتین کی معاشی ترقی کیلئے10کروڑ،ضم اضلاع میں شمسی توانائی کیلئے13ارب 23 کروڑ، قدرتی آفات اورہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے12ارب،آبپاشی نظام،ڈیموں اورنہروں کیلئے 22ارب77کروڑ،اورکزئی اورہنگو میں ڈیموں کیلئے 14ارب80کروڑجبکہ خوشحال ہزارہ پروگرام کیلئے200ارب روپے رکھے گئے ہیں۔حکومتی ناراض ارکان نے بجٹ سیشن میں شرکت کی جبکہ چیئرمین گوہرخان نے انہیں تحریک کاعندیہ دیکربجٹ میں حکومت کاساتھ دینے پرراضی کرلیاہے۔
بجٹ ناقابل عمل،بعض منصوبے دوسوسال میں بھی مکمل نہیں ہونگے،اپوزیشن لیڈرڈاکٹرعباداللہ
بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے جہاں حکومتی ارکان نے اسے تاریخ کابہترین بجٹ قراردیاتووہاں سابق وزیراعلیٰ گنڈاپور،اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباداللہ،اے این پی کے نثاربازاورارباب عثمان،جے یوآئی کے عدنان خان،ثوبیہ شاہداوردیگرارکان نے بجٹ کوالفاظ کاہیرپھیر اور ناقابل عمل قراردیا۔ڈاکٹرعبادکاکہناتھاکہ ”یہ ایک فراڈبجٹ ہے،گزشتہ سال سرپلس بجٹ کادعویٰ کیاگیاہم نے ثابت کیاکہ یہ خسارے کا بجٹ تھا،صوبہ854ارب روپے کامقروض ہے اگریہی رفتاررہی توبہت جلد قرضہ 1ہزارارب روپے ہوجائیگا، 90فیصدسے زائدانحصار وفاق پرہے،13سالوں میں صوبے کی آمدن بڑھانے کیلئے کچھ نہیں کیاگیا،2765ترقیاتی منصوبوں میں سے1624پرانے جبکہ 1201نئے منصوبے ہیں 177سکیموں کیلئے فی سکیم10ہزار جبکہ800سکیموں کیلئے فی سکیم1لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں بعض منصوبو ں کیلئے مختص شدہ رقم سے ظاہرہوتاہے کہ یہ 2سوبرسوں میں بھی مکمل نہیں ہونگے،نوشیروان برکی نے ہسپتالوں کاحلیہ بگاڑدیاہے، تعلیم کا شعبہ تباہی سے دوچارہے،50لاکھ بچے سکولوں سے باہرہیں“۔اے این پی کے نثاربازنے کہاکہ ”بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں اسی طرح کابجٹ گزشتہ سال اوراس سے پہلے بھی پیش کیاجاچکاہے جس اندازسے منصوبوں کیلئے فنڈزمختص کئے گئے ہیں ان میں بعض سکیمیں 50 سال جبکہ کچھ 100سال میں مکمل ہونگیں۔علی امین گنڈاپونے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ تھروفارورڈاتنابڑھ چکاہے کہ خوشحال ہزارہ جیسے منصوبے سوسال میں بھی مکمل نہیں ہونگے،کروڑوں کے منصوبوں کیلئے ہزاروں روپے مختص کئے گئے ہیں،یہ منصوبے ارکان اسمبلی کے گلے کاپھندابنیں گے،وفاق کیساتھ مسائل کاحل نہ ہوناہماری نااہلی ہے،تنخواہوں اورپنشن میں اضافہ 10فیصدہوناچاہئے تھا“۔
آل راؤنڈروزیراعلیٰ،64میں سے32محکموں کے قلمدان سہیل آفریدی کے پاس،اہم محکمے شامل
بجٹ میں مطالبات زرپیش کرتے وقت انکشاف ہواکہ وزیراعلیٰ کے پاس 64میں سے 32محکموں کے قلمدان ہیں۔پیش کئے گئے66 مطالبات زرمیں سے32مطالبات زروزیراعلیٰ کے محکموں کے حوالے سے تھے۔ان محکموں کے مطالبات زروزیرقانون آفتاب عالم کی جانب سے پیش کئے گئے۔وزیراعلیٰ کے پاس موجودمحکموں میں انتظامیہ،خزانہ،لوکل فنڈز،منصوبہ بندی،انفارمیشن ٹیکنالوجی،داخلہ،جیل خانہ جات،پولیس،زراعت،تحفظ حیوانات،امدادباہمی،موسمیات وماحولیات،جنگلی حیات،ماہی پروری،صنعت وتجارت،چھاپہ خانہ، بہبودآبادی،فنی تعلیم،سماجی بہبود،خصوصی تعلیم،زکو ٰۃ وعشر،فوڈسیکیورٹی،پنشن،سرمایہ کاری،کھیل وثقافت،بین الصوبائی رابطہ،ٹرانسپورٹ، اسٹیٹ ٹریڈنگ ان فوڈگرین،ترقیات اورسیاحت شامل ہیں۔
صوبائی حکومت نے این ایف سی میں اپناحصہ بڑھانے کیلئے آئینی عدالت سے رجوع کرنے کافیصلہ کیاہے۔مشیرخزانہ مزمل اسلم نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہاکہ ”قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعداین ایف سی میں ان علاقوں کاحصہ بھی شامل ہوناچاہئے،ہم نے وفاق کوگرانٹ کی حامی نہیں بھری بلکہ یہ گرانٹ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے مشروط ہے،خسارے کابجٹ وفاق کے خلاف مزاحمت میں پیش نہیں کیا،ہم اگرصرف بندوبستی اضلاع کابجٹ بناتے تویہ سرپلس بنتا،121ارب روپے قبائلی اضلاع کا خسارہ ہے اگروفاق این ایف سی میں قبائلی اضلاع کاحق دے تو بجٹ باآسانی سرپلس میں تبدیل ہوسکتاہے“۔

