وصال محمدخان
خیبرپختونخواکی حکمران جماعت ایک بارپھراندرونی اختلافات اورفارورڈبلاک کے حوالے سے خبروں کی زدمیں ہے پارٹی قائدین اگرچہ ان خبروں کومخالفین اور ڈھکے چھپے الفاظ میں سٹیبلشمنٹ سے جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگردرحقیقت کچھ ارکان اسمبلی کووزارتوں اور دیگرحوالوں سے شکایات ہیں جن کااظہاروزیراعلیٰ ہاؤس میں بلائے گئے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے ہواجس میں آزادذرائع کے مطابق پچاس سے ساٹھ ارکان اسمبلی نے شرکت کی جبکہ تیس تک ارکان غائب رہے۔صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف ارکان کی تعداد 92 بتائی جارہی ہے مگروزیراعلیٰ ہاؤس میں سہیل آفریدی کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں بمشکل 60ارکان نے شرکت کی جس سے یہ خبریں گرم ہوئیں کہ حکومت اسمبلی میں اکثریت کھوچکی ہے۔یادرہے145رکنی ایوان میں سادہ اکثریت کیلئے 73ارکان کی حمایت درکار ہے موجودہ وزیراعلیٰ نے اپنے انتخاب کے وقت92ووٹ حاصل کئے تھے مگرکچھ ارکان وزارتیں نہ ملنے جبکہ کچھ وزیراعلیٰ کے روئیے کی شکایات کررہے ہیں بعض مبصرین کے مطابق یہ کوئی سنجیدہ اختلاف نہیں بلکہ کچھ ارکان پارٹی قیادت سے وزارت نہ ملنے پرنالاں ہیں تو کچھ حکومت کی جانب سے نظراندازکرنے پرناراضگی کااظہارکررہے ہیں۔اس اندرونی ناراضگی اوراختلاف سے فارورڈبلاک اوراکثریت کھونے جیسی خبروں نے جنم لیاجس پروزیراعلیٰ کوپارلیمانی پارٹی کااجلاس بلاناپڑا۔مگراس اجلاس سے قابل ذکرتعدادمیں ارکان کی غیر حاضری نے ایک نیاپنڈورابکس کھول دیاہے۔اسکے بعدناراض ارکان نے اپنااجلاس منعقدکیاجس میں 15سے20ارکان نے شرکت کی۔کہاجارہاہے کہ جن ارکان نے وزیراعلی ہاؤس والے اجلاس میں شرکت نہیں کی ان میں وہ ارکان شامل ہیں جوکابینہ کی حالیہ توسیع سے امید لگائے بیٹھے تھے مگرکابینہ میں اکثریت نئے چہروں کی شامل کی گئی اوران میں علی امین گنڈاپوردورکے وزرااورانکے حامی اراکین کو نظر اندازکیاگیا۔فارورڈبلاک کی خبریں گنڈاپوردورمیں بھی سامنے آتی رہی ہیں مگراس وقت کہاجاتاتھاکہ تیس تک ارکان نے حلف نامے جمع کروارکھے ہیں اورپارٹی کے یہ ارکان ”کسی اورکے بندے“ہیں مگریہ بیانیہ اسلئے قابل اعتبارنظرنہیں آرہا کہ گزشتہ دوبرسوں میں صوبائی حکومت نے بیشتراوقات سٹیبلشمنٹ اوروفاق کیخلاف محاذآرائی کابازارگرم رکھااگرواقعی تیس تک ارکان بیان حلفی دیکرمنتخب ہوئے ہیں تو اب تک انہیں سامنے آجاناچاہئے تھابلکہ حلف نامے لینے والے انہیں سامنے لے آتے۔اس سے قبل گنڈاپوروفاق اورفوج کیخلاف بیان بازی بھی جاری رکھے ہوئے تھے اورپرتشدداحتجاج پربھی کمربستہ تھے بلکہ انہوں نے توسٹیبلشمنٹ کیخلاف اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگ دیں انکے بعدسہیل آفریدی بھی نامعقول حرکتیں کررہے ہیں وہ آئے روزجرگوں کے نام پرعوامی اجتماعات منعقد کر کے ان میں فوج کے خلاف بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہیں اگرتحریک انصاف پارلیمانی پارٹی میں واقعی حلف نامے والے ارکان موجود ہوتے تویقیناً انہیں اب تک استعمال کرکے تحریک انصاف کی حکومت کاخاتمہ کیاجاچکاہوتا۔سہیل آفریدی والے اجلاس میں جتنے ارکان شریک ہوئے اتنے ہی ارکان کی اپوزیشن کوبھی حمایت حاصل ہے یعنی اپوزیشن ارکان کی کل تعدادملاکر53تک بنتی ہے اس لحاظ سے دونوں فریقین کو مزیدبیس بیس ارکان کی حمایت درکارہے۔مگراپوزیشن نے بہت کچھ ہونے کے باوجودحکومت گرانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ جس سے ظاہرہورہاہے کہ فارورڈبلاک اورناراض ارکان کے حوالے سے خبریں زیادہ سنجیدہ نوعیت کی نہیں اورحلف نامے والابیانیہ بھی جھوٹ پرمبنی نظرآرہاہے۔ گنڈاپوراورسہیل آفریدی کی حکومتوں نے ان گنت ایسی حرکات کیں جن کے ردعمل میں گورنر راج کانفاذیاحکومت کی رخصتی ممکن تھی مگروفاق یاسٹیبلشمنٹ ایسی کسی کارروائی میں دلچسپی کااظہارنہیں کررہے بعض ذرائع کادعویٰ ہے کہ حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے اوران سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسی خبروں کوہوادے رہی ہے تاکہ وفاق اورسٹیبلشمنٹ کودباؤمیں لایاجاسکے۔ناراض ارکان یافارورڈبلاک ممبران کاکہناہے کہ حکومت عمران خان کی رہائی کیلئے کوئی تحریک نہیں چلارہی اسلئے وہ ناراض ہیں اوربجٹ میں بھی ساتھ نہیں دینگے۔ جوناراض ارکان سرگرم ہیں اورمیڈیاپربیان بازی کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں انہوں نے کبھی کسی تحریک میں کوئی حصہ نہیں لیاہاں خانہ پری کیلئے ویڈیوزبناکر سوشل میڈیاپرضروراپلوڈاوروائرل کی گئیں اسکے سواکسی احتجاجی تحریک میں ان کاکوئی کردارنظرنہیں آرہا۔درحقیقت ان ارکان کی ناراضگی کابینہ میں عدم شمولیت کے سبب ہے اب انہوں نے عوام کویہ تونہیں بتانااسلئے وہ حکومتی کارکردگی اورتحریک کوہوابناکراچھال رہے ہیں۔ شیرافضل مروت کی جانب سے آئینی عدالت میں جورٹ دائرکی گئی ہے جس میں علی امین گنڈاپورکی رخصتی کواس بناپرچیلنج کیاگیاہے کہ انہیں عمران خان نے مستعفی ہونے کاحکم دیاتھاجونااہل ہیں اورجیل میں سزاکاٹ رہے ہیں۔ عدالت چونکہ نوازشریف کونااہل ہونے پرسینیٹ کیلئے پارٹی ٹکٹس جاری کرنے سے روک چکی ہے اس لئے کسی وزیراعلیٰ کی رخصتی ایک نااہل شخص کے حکم پرغیرآئینی ہے۔مبصرین اس کیس کوبھی سہیل آفریدی کی حکومت کیلئے خطرہ قراردے رہے ہیں اگرآئینی عدالت نے کسی اور شق یاقانون کومدنظررکھ کر گنڈاپورکی رخصتی درست قرارنہ دی توسہیل آفریدی کی حکومت کیلئے شیرافضل مروت کاکیس زہرقاتل ثابت ہوسکتاہے۔فارورڈبلاک یاناراض ارکان کا گروپ فی الحال توحکومت کیلئے کوئی سنجیدہ خطرہ کھڑاکرنے میں ناکام نظرآرہاہے ہاں اگربجٹ کی منظوری میں یہ گروپ حصہ نہیں لیتاتو یقیناًاس سے حکومت کمزورہوگی بلکہ اسکی رخصتی بھی ممکن ہے۔بجٹ2026-27ء جو15جون کوپیش ہوناتھااب 19جون کوپیش ہونے کی توقع کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے کوئی واضح لائحہء عمل یااعلان سامنے نہیں آیایاتووزیراعلیٰ فارورڈبلاک سے خائف ہیں یاپھر بجٹ پرسیاست چمکانے کاسلسلہ جاری ہے۔فارورڈبلاک یاناراض ارکان کی حقیقت سامنے آنے کایہی بہترین وقت ہے اگربجٹ پاس ہونے میں یہ ارکان ساتھ دیتے ہیں توفارورڈبلاک کے غبارے سے ہوانکل جائیگی اوراگریہ ارکان بجٹ سیشن کابائیکاٹ کرتے ہیں اور منظوری میں حکومت کاساتھ نہیں دیتے توحکومتی ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹ جائے گی۔


