وصال محمدخان
سہیل آفریدی کی جانب سے 27ستمبرکواسلام آبادمارچ کااعلان،پارٹی میں اختلافات
خیبرپختونخواکی حکمران جماعت نے گزشتہ 5اگست کوپشاورمیں جوجلسہ منعقدکیااسکے حوالے سے دعوے کئے گئے کہ یہ سیمی فائنل ہے اور اس میں تحریک کاحتمی اعلان کیاجائیگا۔جس طریقے سے جلسہ گاہ میں لوگ لائے گئے اوراس کیلئے ارکان اسمبلی کوجوٹاسک سونپے گئے اوراس پرسرکاری خزانے سے جورقم استعمال ہوئی وہ اپنی جگہ مگراسکے باوجودجلسے میں آٹھ دس ہزارسے زائدافرادشریک نہ ہوسکے مگروزیر اطلاعات شفیع جان کادعویٰ ہے کہ جلسے میں پندرہ لاکھ افرادشریک ہوئے۔حالانکہ یہ ایک چھوٹی سی جگہ تھی اوراس میں پانچ ہزارکے قریب کرسیاں لگائی گئی تھیں۔بہرحال جلسے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے 27ستمبرکواسلام آبادکی جانب مارچ کااعلان کیاگیا۔اس اعلان پر پارٹی کے اندرونی حلقے خوش نہیں۔اکثرراہنماؤں کی جانب سے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ انہیں اعتمادمیں نہیں لیاگیایعنی پارٹی کے جس تحریک کااعلان کیاجاچکاہے یہ تحریک وزیراعلیٰ نے ازخودشروع کی ہے اوراس میں پارٹی کواعتمادمیں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ پارٹی کے اہم راہنماؤں اور بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان وغیرہ نے اس اعلان پرتحفظات کااظہارکیاہے اگرپارٹی راہنمااوربانی کی فیملی اسلام آبادمارچ کیساتھ متفق نہیں تووزیراعلیٰ نے کس حیثیت سے یہ اعلان کیا؟وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صوبے کے چیف ایگزیکٹیوہیں مگرانکے پاس پارٹی کاکوئی عہدہ موجودنہیں جس کے بل بوتے پروہ پارٹی کی جانب سے کسی تحریک کااعلان کرسکیں۔ وزیراطلاعات شفیع جان اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی 27ستمبرکے حوالے سے تشہیری مہم میں مصروف ہیں مگرپارٹی کے دیگرحلقے اس سے یاتولاتعلق ہیں یااسکی مخالفت کرتے نظرآرہے ہیں
وزیراعلیٰ پرقومی لیڈربننے کاخبط سوار،قومی میڈیاپرانٹرویوزکاسلسلہ شروع،مقامی صحافی ناراض
۔پشاورجلسے سے پرجوش خطاب اورسٹیبلشمنٹ پرتنقیدکے بعدشفیع جان نے سہیل آفریدی کوقومی سطح کا لیڈرقراردیا۔ قومی لیڈر بننے کے خبط میں وزیراعلیٰ نے قومی میڈیاپرانٹرویوزکاسلسلہ شروع کردیاہے جس میں وہ اپنی حکومت کے وہ کارنامے بیان کررہے ہیں جوبرسرزمین موجودنہیں۔معروف اینکرکیساتھ ایک انٹرویومیں انہوں نے دعویٰ کیاکہ صوبے کی اپنی آمدن جو گزشتہ کئی برسوں سے 63 ارب روپے تھی میری حکومت اسے 150ارب روپے تک پہنچاچکی ہے جبکہ آئندہ اسے 200ارب روپے تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے مگریہ بتانے کی زحمت گوارانہیں کی گئی کہ یہ آمدن کہاں سے بڑھائی گئی؟کیااس کیلئے آمدن کاکوئی نیا ذریعہ تلاش کیا گیا، برآمدا ت بڑھائی گئیں یابیرون ملک سے ترسیلات لائی گئیں؟اگرصوبے کی ریونیومیں اضافہ ہواہے تویقیناًعوام پرمزیدٹیکس لگاکر یہ اضافہ ممکن بنایاگیاہوگایاپہلے سے موجودٹیکسزمیں اضافہ کیاگیاہوگاجوکارنامہ نہیں بلکہ تباہ حال صوبے کے باشندگان پرظلم کے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ نے صوبے میں عوام کوٹیلی میڈیسن کادعویٰ بھی کیاجوصریحاًغلط ہے صوبے میں ایسی کسی سہولت کانام ونشان تک موجود نہیں یہ سہولت پورے ملک میں پنجاب حکومت فراہم کررہی ہے۔ گزشتہ ہفتے عرض کیاگیاتھاکہ اب صوبے میں 27ستمبرتک ماحول گرمانے کی کوشش کی جائیگی، جلسے جلوس ہونگے اور کارکنوں کوچارج کیاجائیگااسی سلسلے میں وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع خیبرسے تیاریوں اورسٹریٹ موومنٹ کاآغازکیا گیا ہے سہیل آفریدی نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبرکے غیورعوام نے تاریخی باب خیبرسے لانگ مارچ کاآغازکردیاہے، جس کااختتام اسلام آباد میں ہوگا،ہم نے تحریک کانام”لانگ مارچ بال قسط یعنی انصاف کیساتھ لانگ مارچ“رکھاہے جس کامقصدانصاف کیساتھ اپنے بانی کورہا کروانا،انصاف کیساتھ طاقتوراورکمزورکیلئے یکساں قانون کانفاذ،امیر،غریب کویکساں درجہ دلوانااورانصاف کیساتھ ظالم وجابرکو قانو ن کے کٹہرے میں لاناہے۔سہیل آفریدی جوانقلابی اعلانات اوربیانات جاری کررہے ہیں انہیں عملی شکل دینے میں وہ کامیاب ہوتے ہیں یانہیں یہ توآنیوالاوقت بتائیگامگر ان جذباتی بیانات سے کچے ذہن کے نوجوان شدیدمتاثرہورہے ہیں۔
راولپنڈی میں حملہ کرنیوالے پی ٹی اائی کارکن سے پارٹی کی لاتعلقی،ذہنی مریض قرار
راولپنڈی مال روڈپرپی ٹی آئی کارکن کی جانب سے فوجی جوانوں پرحملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جب پارٹی کے راہنماجوش خطابت میں کارکنوں کے جذبات اس قدر ابھار ینگے تو یہی نتیجہ نکلے گاجو9مئی کونکلاتھایاجواب ایک کارکن نے مسلح ہوکرفوجی جوانوں پرحملہ کردیاہے جسے اب صوبائی حکومت ذہنی مریض قراردے رہی ہے۔اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے مرنے والے کے سہولتکاروں کوکٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔
کابینہ کے56ویں اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ اگلے اجلاس تک مؤخر،الیکشن کمیشن منتظر
کابینہ کے56ویں اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کوتاریخ دینے کامعاملہ اگلے اجلاس تک مؤخرکردیاگیا۔محکمہ قانون اور بلدیات کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء اورنئی حلقہ بندیوں پرکابینہ کوبریفنگ دی گئی۔ جس پربلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آئینی وقانونی پیچیدگیوں کے سبب یہ معاملہ اگلے اجلاس تک مؤخرکردیاگیا۔کابینہ نے ملاکنڈ ڈویژن اورقبائلی علاقوں میں سیلزٹیکس اور کیپراٹیکس کے خاتمے کی منظوری دے دی، عشرہ رحمت اللعالمین کے انعقادکاشیڈول اورطریقہ کاربھی منظورکرلیاجویکم سے12ربیع الاول تک منایاجائیگا،نویں سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ کوسوفیصدمفت کتب فراہمی کی بھی منظوری دے دی گئی۔کابینہ نے احساس نوجوان پروگرام کیلئے مختص رقم 3ارب سے بڑھاکر5ارب روپے کردی۔
سندھ حکومت کی جانب سے چترال سیلاب متاثرین کیلئے 10ٹرکوں پرمشتمل امدادی سامان
سندھ حکومت کی جانب سے چترال سیلاب متاثرین کیلئے 10ٹرکوں پرمشتمل امدادی سامان گورنرفیصل کریم کنڈی کے حوالے کیا گیا۔جس میں خوراک، ادویات اوردیگراشیائے ضروریہ کاسامان شامل ہے۔امدادی سامان ہلال احمرخیبرپختونخواکے ذریعے چترال پہنچاکرمتاثرین میں تقسیم کیاجائیگا۔امدادی سامان وصولی کے موقع پرگفتگوکرتے ہوئے گورنرفیصل کریم کنڈی کاکہناتھاکہ سندھ حکومت نے ہرمشکل گھڑی میں خیبرپختونخواکاساتھ دیاہے۔ہم صدرآصف زرداری،بلاول بھٹواوروزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کاشکریہ اداکرتے ہیں جوہرمشکل وقت میں صوبے کے عوام کوسپورٹ کرتے ہیں۔
گڈزٹرانسپورٹرزکی ملک گیرہڑتال،صوبے میں آٹے اوردیگر اشیائے خوردونوش کی ترسیل متاثر
گڈزٹرانسپورٹرزکی ملک گیرہڑتال سے صوبے میں اشیائے خوردونوش کابحران پیداہونے کاخطرہ ظاہرکیاجارہاہے۔ہڑتال کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدیدمتاثرہورہی ہیں سبزیوں اورپھلوں کی سپلائی متاثرہونے سے قیمتوں میں اضافہ ہورہاہے۔مال بردارگاڑیوں کی آمدورفت محدودہونے سے مختلف شہروں کے درمیان اشیائے خوردونوش سمیت دیگرسامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیداہورہی ہے۔وفاقی حکومت اورٹرانسپورٹ راہنماؤں کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے سے ٹرانسپورٹرزنے مطالبات کی منظوری تک پہیہ جام ہڑتال جاری رکھنے کااعلان کردیاہے۔ہڑتال طویل ہونے سے ملک بھرمیں کاروباری اورصنعتی سرگرمیوں کاپہیہ جام ہونے کاخطرہ پیداہوگیاہے۔گڈز ٹرانسپورٹرزروزانہ کی بنیادپرتیل کے نرخ مقررکرنے اوردیگرمطالبات کیلئے کم وبیش ایک ہفتے سے ہڑتال پرہیں۔
حکومتی ارکان کی عدم دلچسپی،بانی کی صحت پربحث کے دوران اسمبلی کاکورم ٹوٹ گیا،اجلاس ملتوی
صوبائی اسمبلی میں بانی پی ٹی آئی کی صحت پربحث کے دوران حکومتی ارکان کورم برقرارنہ رکھ سکے جس پراجلاس ملتوی کرناپڑا۔جبکہ بانی چیئرمین کے علاج معالجے کیلئے قراردادبھی پیش نہ ہوسکی۔حکومتی ارکان کی درخواست پرسپیکرنے معمول کاایجنڈامعطل کرکے بانی کی صحت پربحث کروائی۔حکومتی ارکان تقریرکرکے ایوان سے جانے لگے تون لیگی خاتون رکن ثوبیہ شاہدنے کورم کی نشاندہی کردی۔گھنٹیاں بجانے پربھی کورم پورانہ ہوسکا جس پرسپیکرنے اجلاس پیر17اگست تک ملتوی کردیا۔حکومتی ارکان نے کورم کی نشاندہی پربرامنایاتواپوزیشن ارکان نے کہاکہ بانی کی صحت پربحث کیلئے کورم پورارکھناحکومتی ارکان کی ذمہ داری ہے۔یہاں حکومتی ارکان تقریرکرکے کھسک جاتے ہیں۔

