وصال محمدخان
خیبرپختونخواکی حکمران جماعت گزشتہ چارسال سے احتجاجی سیاست میں مصروف ہے۔ماضی میں پرویزخٹک حکومت نے 2014میں اسلام آبادپرچڑھائی کی،اسکے بعدمحمودخان نے یہی روش اپنائی جبکہ علی امین گنداپورنے بھی اپنے پیشروؤں کے نقش قدم پرچل کرکئی بار خیبر پختونخواسے لانگ مارچزکئے جن میں تشددکاعنصربھی شامل رہا۔احتجاج کے حوالے سے تحریک انصاف کا سابقہ ریکارڈ خاصاخراب ہے۔ اس جماعت نے پرامن احتجاج کے نام پراسلام آبادکاریڈزون میدان جنگ میں تبدیل کیا، وہاں سرسبزپودوں اوردرختوں کوآگ لگائی گئی، پولیس پرتشددکیا، اہلکارو ں کوماراپیٹاگیا،انکی ٹانگیں اوربازوتوڑے گئے،سرپھوڑے گئے اوررینجرزاہلکاروں پرگاڑی چڑھاکرانہیں ماردیا گیا۔اسکے علاوہ 9مئی 2023ء کواحتجاج جمہوری حق ہے کے نام پرجوغنڈہ گردی کی گئی، سرکاری نجی اوردفاعی تنصیبات کونقصان پہنچایاگیا اورچھاؤنیوں میں توڑپھوڑکی گئی،اسلحہ کی دوکانیں لوٹی گئیں،ریڈیوپاکستان کی تاریخی عمارت کونذرآتش کرکے سوسالہ ثقافتی ریکارڈراکھ کا ڈھیربنادیاگیا،لاہورمیں کورکمانڈرہاؤس (جناح ہاؤس) کوآگ لگاکروہاں موجودریکارڈاورتاریخی اشیاکوجلادیاگیا۔اسی طرح میانوالی، مردان اورسرگودھاوغیرہ میں جوپرتشدداحتجاج کیاگیاوہ اب تاریخ کاحصہ ہے مگرحیرت انگیزطورپراب تحریک انصاف قائدین خصوصاً خیبر پختونخواکے وزیراطلاعات شفیع جان ڈھٹائی سے یہ بیانیہ اپنائے ہوئے ہیں کہ 9مئی ہم نے نہیں کیابلکہ جس نے کیاہے اسے سامنے لایا جائے۔ابھی توان واقعات کوبمشکل دوسال گزرے ہیں مزیددوچاربرس بیت جانے پرپراپیگنڈے کے ذریعے یہ واقعات کسی کے کھاتے میں بھی ڈالے جاسکتے ہیں۔حالانکہ کورکمانڈرہاؤس حملے میں جولوگ ملوث تھے انکی تصاویراورویڈیوزموجودہیں،مردان میں جن کارکنوں نے کرنل شیرخان کامجسمہ توڑاوہ بھی ڈھکے چھپے نہیں جبکہ پشاورمیں جن پی ٹی آئی کارکنوں نے اسلحے کی دوکانیں لوٹیں ان سے اسلحہ برآمدکیا گیااورجنہوں نے ریڈیوپاکستان پشاورکی عمارت کونذرآتش کیااوران کاسامان کباڑئے کوفروخت کیاوہ بھی پکڑے گئے ہیں مگرپارٹی کے بیانئے کے مطابق یہ تمام پرتشدداحتجاج یاتوفوج نے کیاہے یاپھریہ سب کرنیوالوں نے سلیمانی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اوروہ کسی کونظرہی نہیں آسکتے تھے۔حالانکہ یہ بات اب عدالتوں میں ثابت ہوچکی ہے،ملزمان گرفتارکئے جاچکے ہیں،جرم میں ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت پیش کئے جاچکے ہیں اوردرجنوں ملزمان کوسزائیں سنائی جاچکی ہیں جن میں سے بیشترجیلوں میں سزاکاٹ رہے ہیں جبکہ کچھ اب بھی مفرور ہیں جن میں خیبرپختونخواسے مرادسعید اورعمرایوب قابل ذکرہیں۔جبکہ حماداظہرنے گزشتہ ہفتے ہی گرفتاری دے دی ہے۔یہ تمام روداد بیان کرنے کامقصدیہ ہے کہ اگر تحریک انصاف ایک بارپھر27ستمبرکواسی طرح کے احتجاج کیلئے پرتول رہی ہے توریاست کی جانب سے کسی صورت اسکی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پرتشدداحتجاج پی ٹی آئی کی روایت رہی ہے حالانکہ ملک میں انصاف کے ادارے فعال ہیں اور انہی اداروں نے بانی پی ٹی آئی کوسزائیں دی ہیں جوایک دوسماعتوں کی مرہون منت نہیں بلکہ ہرمقدمے کیلئے سینکڑوں سماعتیں ہوئی ہیں، درجنوں گواہان کے بیانات ریکارڈہوئے ہیں اورثبوت وشواہدملنے کے بعدفیصلے سنائے گئے ہیں مگرپی ٹی آئی نے یہی بیانیہ بنارکھاہے کہ بانی کوناحق قیدکیاگیاہے اور انکی سزاقانون کے مطابق نہیں۔حالانکہ یہ بیانیہ بالکل غلط اورلغوسیاسی بیانیہ ہے بانی سمیت جن ملزمان کوسزا ئیں سنائی گئی ہیں ان کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں۔پی ٹی آئی کے پاس عدالتوں میں مقدمات کوغلط ثابت کرنے کیلئے کوئی موادموجودنہیں اسلئے سادہ لوح کارکنوں کوٹرک کی اس بتی کے پیچھے لگادیاگیاہے کہ یہ سزائیں سیاسی انتقام میں دی گئی ہیں اورانکے خاتمے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسلام آبادمیں احتجاج کیاجائے اوریہ احتجاج خیبرپختونخواکے کارکن کریں حالانکہ گزشتہ احتجاجوں میں خیبرپختونخوا سے جن کارکنوں نے حصہ لیا اوروہ وہاں گرفتارہوئے،انہیں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں،انکے خاندانوں کومشکلات کاسامنارہا، انہیں جانی اورمالی نقصان ہواپارٹی کے کسی راہنمانے انکی دادرسی کیلئے کوئی قدم نہیں لیااورنہ ہی ان کانقصان پوراکرنے کی کوئی کوشش ہوئی۔اب ایک بارپھروزیراعلیٰ سہیل آفریدی،وزیراطلاعات شفیع جان اورمیناخان آفریدی پراحتجاج کابھوت سوارہوچکاہے کہاجارہاہے کہ اس احتجاج کاحکم بانی نے جیل سے دیاہے اورراہنماؤں کے بیانات سے بھی واضح ہے کہ انکے ہی حکم پراحتجاج ملتوی یامنسوخ ہوسکتاہے۔ا یک جانب یہ عدالتوں میں فریادکناں ہیں کہ انکی ملاقاتیں نہیں ہورہیں مگرجب ملاقاتیں ہوجاتی ہیں توجیل سے یہی پیغام آتاہے کہ ملک میں آگ لگادو،اسلام آبادپرچڑھائی کردواورپرتشدداحتجاج کاراستہ اپناکرجیل سے قیدیوں کورہاکرواؤ۔جب بانی کی ہمشیرہ نے عدالتی حکم پرملاقات کی تواس ملاقات کے نتیجے میں 27ستمبرکے مارچ کاحکم دیاگیاجس کااظہاربھی محترمہ نے برملاپریس کانفرنس میں کردیا۔اب اسی عدالت کافرض بنتا ہے کہ وہ اس درخواست کنندہ سے استفسارکرے کہ جب عدالت نے ملاقاتوں کو عدم استحکام پیداکرنیوالے اقدامات کیلئے استعمال کرنے سے منع کیاتوجان بوجھ کران احکامات کی خلاف ورزی کیوں کی گئی؟ پی ٹی آئی کے پاس بطورپارٹی اور سہیل آفریدی کے پاس بطوروزیراعلیٰ اب بھی وقت ہے انہیں یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہئے کہ بانی کی رہائی عدالتوں کے ذریعے ممکن ہے وہاں مؤثرانداز میں مقدمات لڑے جائیں اوراگربے گناہ ہیں توثبوت وشواہدپیش کئے جائیں ٹھوس شواہدموجودہوں توآزادمیڈیاکے اس جدیددورمیں عدالتیں انصاف سے روگردانی نہیں کرسکیں گی۔مگرافسوس کہ وکلاعدالتوں میں ثبوت پیش کرنے کی بجائے تاخیری حربے آزماتے ہیں اور ناانصافی کابے بنیاد پرا پیگنڈا کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ کویہ ادراک کرناہوگا کہ صوبائی حکومت کاکام احتجاجی تحریکیں چلانا نہیں بلکہ صوبے کے امو ر چلانا ہوتاہے۔ وہ پاکستان جیسے ملک میں ایساانقلاب برپانہیں کرسکتے جس سے سب کچھ تہنس نہس ہواورریاست جیل کے دروازے کھولنے پرمجبورہو۔ یہ بات جتنی جلدانکی سمجھ میں آئیگی اتنانقصان کم ہوگا۔ورنہ انقلابی بننے کے اس مشغلے سے ان کااپنا،صوبے اورملک و قوم کا ناقابل تلافی نقصان ہونے کاقوی امکان ہے اوریقیناًاس نقصان کی تمامترذمہ داری پی ٹی آئی،اسکے بانی اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔


