Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, August 11, 2026

وزیر اعلیٰ سے فضول سوال کی گستاخی۔۔۔؟

عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے منصب کا چارج سنبھالے 10 مہینے پورے ہونے کو ہیں ۔ اس تمام عرصے کے دوران خیبرپختونخوا کے 24 سے زائد اضلاع میں سینکڑوں دہشت گرد حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں 2000 کے لگ بھگ سیکورٹی اہلکار ، اور عام شہری شہید ہوئے تاہم ان کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ کیسے اپنی کرسی کو بچا کر رکھیں اور یہ کہ اپنے بانی کی رہائی اور رسائی سے متعلق اپنے کارکنوں کو کیسے مطمئن کیا جائے ۔
دوسری جانب ان پر ، ان کے رشتے داروں اور وزراء پر روزانہ کی بنیاد پر کرپشن وغیرہ کے نہ صرف الزامات لگائے جاتے رہے بلکہ ان کی اپنی پارٹی کے لیڈر اور ممبران اسمبلی بھی آن دی ریکارڈ یہ سب کچھ کہتے رہے مگر وزیر اعلیٰ ان تمام معاملات سے لاتعلق اور لاپرواہ رہے کیونکہ ان کو صوبے کے چیف ایگزیکٹو کا جو عہدہ کسی تجربے اور سیاسی پس منظر کے بغیر مفت میں ملا ہوا ہے اس عہدے کی ذمہ داریوں کا ان کو کوئی احساس اور ادراک ہی نہیں ہے ۔
انہوں نے کارکنوں کے دباؤ پر 5 اگست کی شام کو پشاور کے ایک جلسے میں پارٹی قیادت کی اکثریت سے مشاورت کیے بغیر اعلان کیا کہ وہ 27 ستمبر کو اپنے بانی کے لیے اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے جس میں ان کے وزیر اطلاعات کے مطابق 20 لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوں گے ۔ مارچ کی نوبت آتی ہے یا نہیں یا اس میں کتنے لوگ شریک ہوں گے اس بحث سے قطع نظر وہ اگلے روز اسلام آباد پہنچ گئے جہاں انہوں نے ڈیرہ ڈال دیا اور میڈیا کے ذریعے خود کو نمایاں کرنے کی پلاننگ کرنے لگے جس کے لیے تمام وسائل اور تعلقات کو بروئے کار لایا گیا تاہم دوسری جانب ان پر اپنی پارٹی کے مختلف لیڈروں ، کارکنوں اور بانی کی بہنوں کی جانب سے کھلے عام عدم اعتماد کا اظہار کیا جانے لگا اور یہاں تک کہا گیا کہ وہ ” کمپرومائزڈ ” ہوگئے ہیں ۔
گزشتہ روز انہوں نے اسلام آباد ہی میں ایک پرجوش پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں وہی باتیں دہرائی گئی جو وہ مسلسل ایک رٹہ مار سٹودنٹ کی طرح دہراتے آرہے ہیں ۔
اسی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے جب ان سے خیبرپختونخوا میں جاری دہشتگردی اور بدامنی کے بارے میں سوال کیا تو موصوف نے سینئر لیڈر شپ اور دیگر میڈیا پرسنز کی موجودگی میں اتنے اہم اور بروقت سوال کو فضول قرار دیتے ہوئے صحافی کی ٹھیک ٹھاک سرزنش کی۔
اس مائنڈ سیٹ اور ری ایکشن سے یہ بات پھر سے واضح ہوگئی ہے کہ وزیر اعلیٰ ، ان کی حکومت اور پارٹی کی ترجیحات اور پالیسیاں کیا ہیں اور جو لوگ ان کے ادوار اقتدار کے دوران امن کے لیے خون کی قربانیاں دیتے رہے ہیں ان کی نظر میں ان قربانیوں کی وقعت اور اہمیت کیا ہے؟
سچی بات تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا نامی انتہائی حساس اور جغرافیائی اہمیّت کے حامل وفاقی یونٹ ( صوبے ) کو پی ٹی آئی اور نظام میں موجود بعض طاقتور مافیاز نے تجربہ گاہ اور مقتل گاہ میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے تاہم اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر یہی رویہ مزید جاری رہا تو نہ صرف یہ کہ خیبرپختونخوا ریاست کے ہاتھ اور کنٹرول سے نکل جائے گا بلکہ جاری دہشتگردی اور جنگ کی یہ لہر خیبرپختونخوا اور بلوچستان تک محدود نہیں رہے گی اور نتیجتاً حکمرانوں سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا اس لیے لازمی ہے کہ ریاست کے تحفظ کے ذمہ داران اس قسم کی پالیسیوں اور پالیسی میکرز کا فوری اور سخت نوٹس لے لیں ۔

وزیر اعلیٰ سے فضول سوال کی گستاخی۔۔۔؟

Shopping Basket