وصال محمدخان
نئے مالی سال 2026-27کیلئے صوبائی بجٹ کی منظوری کامرحلہ مکمل ہوچکاہے۔121ارب روپے کاضمنی بجٹ بھی صوبائی اسمبلی میں پیش کیاگیا جسے حکومتی اوراپوزیشن ارکان نے شدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ضمنی بجٹ حکومتی نااہلی ہے،محکمہ خزانہ نے تکے لگاکربجٹ بنایااوراب گزشتہ مالی سال کے اضافی اخراجات سامنے آگئے حالانکہ گزشتہ سال 157ارب روپے کاسرپلس بجٹ پیش کرنے کے دعوے کئے گئے تھے۔پیپلزپارٹی کے احمدکنڈی نے کہاکہ آئین کے مطابق حکومت اخراجات کی منظوری لینے کی پابندہے مگریہاں حکومت پیسے خرچ کرکے ہم سے ٹھپے لگواتی ہے یہ نارواسلسلہ بندکرناہوگا۔حکومتی رکن عبیدخان نے کہاکہ ملاکنڈمیں ٹیکس لگانے کی کوشش ہورہی ہے، ملاکنڈ موٹروے کیلئے9کروڑروپے کالالی پاپ دیاجارہاہے،رمضان پیکیج کیلئے23ارب روپے مختص کرنے کی بجائے یہ رقم روزگارسکیم کیلئے استعمال کیاجائے۔سجادبارکوال نے 121ارب ضمنی بجٹ پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ضمنی بجٹ کے اعدادوشمارسے معلوم ہوتا ہے کہ محکمہ خزانہ نے تکے لگائے ہیں،ضمنی بجٹ پرارکان کومطمئن کرنیکی بجائے ہم سے انگوٹھے لگواکرپاس کرواناچاہتے ہیں،ایک ارب روپے سڑکوں کی مرمت کیلئے جبکہ 13ارب الگ سے مختص کئے گئے ہیں،پشاورڈویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے بغیراخراجات16ارب روپے رکھے گئے ہیں،ضمنی بجٹ میں 17ارب مانگے گئے صرف ایک ارب خرچ ہوئے،جن منصوبوں کاآغازبھی نہیں ہواان کیلئے ضمنی بجٹ مذاق ہے،پی ڈی اے کوپشاورکے34پارکس کی تزئین وآرائش کاٹھیکہ دیاگیاہے کیایہ اسکے دائرۂ اختیارمیں آتے ہیں؟ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے پارکس کی تزئین وآرائش پی ڈی اے کودی جارہی ہے،121ارب کاضمنی بجٹ خزانے پرڈاکہ کے مترادف ہے اوریہ سب عمران خان کے نام پرکیاجارہاہے ہمارامطالبہ ہے کہ ضمنی بجٹ کاآڈٹ کروایاجائے۔ریحانہ اسماعیل نے کہاکہ 121ارب 74کروڑ روپے کاضمنی بجٹ معمولی نہیں،اخراجات کرنے کے بعداسکی منظوری لی جارہی ہے،ضمنی بجٹ حکومت کی نااہلی کاعین ثبوت ہے،ہماری آواز بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے حکومت پرکسی بات کاثرہی نہیں ہورہا۔ثوبیہ شاہدنے کہاکہ ضمنی بجٹ کامطلب ہی حکومتی نااہلی ہے،13 سال قبل جومنصوبے شروع کئے گئے وہ تاحال نامکمل ہیں،بلین ٹری منصوبے پراربوں روپے خرچ کئے گئے مگرنہ کوئی درخت نظرآرہاہے اور نہ ہی کوئی پودا،صحت اورتعلیم کے شعبوں میں سہولیات کافقدان ہے،بی آرٹی کو6ماہ میں مکمل کرنے کادعویٰ کیاگیاتھاجوتاحال نامکمل ہے، لنگر خانوں کامنصوبہ کہاں گیااوراس پرخرچ ہونے والی رقم کیلئے کون جوابدہ ہے؟حکومت نے صوبے کی حالت قابل رحم بنادی ہے۔نئے مالی سال کیلئے بجٹ کی منظوری کے بعدضمنی بجٹ بھی منظورکروالیاگیاہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی نے200ارب روپے کی خطیررقم سے جاری پشاوربحالی پلان کے تحت دومنصوبوں رینگ روڈفیز2فلائی اووراور پلوسئی فلائی اوورکاباضابطہ افتتاح کردیا۔800میٹرطویل ورسک روڈفلائی اوور کی لاگت 3.2ارب روپے ہے اوراسے 180 دن میں مکمل کیاجائیگاجبکہ پلوسئی فلائی اوور2.6ارب روپے کامنصوبہ ہے۔افتتاحی تقریب کے موقع پروزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ مخالفین کایہ سوال ”کہ تحریک انصاف نے صوبے کیلئے کیاکیا“؟کاجواب عوام نے تیسری باربھاری مینڈیٹ دیکردیا۔پختونوں نے ملک کیلئے بے پناہ جانی ومالی قربانیاں دی ہیں،ہزاروں قربانیوں کے بعدامن قائم ہوامگرجعلی حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کے سبب دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، بندکمروں میں ہونیوالے فیصلوں کے نتائج آج خیبرپختونخوابھگت رہاہے،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اجازت کے بغیر سلام کا جواب نہیں دیتے،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس فون پر بات کرتے ہیں نہ ہی ملاقات کاوقت دیتے ہیں جبکہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ میں پوچھ کربتاؤں گا،سیکیورٹی فورسزکوپیغام ہے کہ ہم نے احتجاج کرناہے جس پرگولی چلانے والااورحکم دینے والابے غیرت ہوگا،ہم نے ہر دروازے پردستک دی مگراب احتجاج ہوگااگرگولی چلی توپہلی گولی میں اپنے سینے پرکھاؤں گا۔وزیراعلیٰ اکثروبیشتر جوش خطابت میں حقائق مسخ کرتے ہیں۔صوبے میں دہشتگردی کادوبارہ سراٹھاناریاست کی نہیں بلکہ تحریک انصاف کی ناکام پالیسیوں کانتیجہ ہے آج بھی اے این پی اوردیگرجماعتیں سوال پوچھ رہی ہیں کہ صوبے میں دہشتگردوں کو دوبارہ کس نے لاکرآبادکیا اورکس نے کہا کہ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں؟ مگر اس کاجواب دینے کی بجائے الٹے سیدھے بیانات جاری کئے جاتے ہیں وزیراعلیٰ کواپنی سیاسی بیان بازی میں اعلیٰ عدلیہ کونہیں گھسیٹنا چاہئے اگرردعمل میں توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تواس کانقصان بھی انہیں ہی ہوگا۔
صوبے کے طول عرض میں گرمی کی شدیدلہرجاری ہے۔اوپرسے بجلی کی طویل اورغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کاجینامحال کررکھاہے۔ پشاور،چارسدہ اورمردان سمیت دیگرکئی شہروں میں گرمی اورناروالوڈشیڈنگ کے ستائے شہری سڑکوں پرنکل آئے جبکہ متعددمقامات پرگرڈ سٹیشنز اور پیسکودفاترکاگھیراؤبھی کیاگیا۔مشتعل مظاہرین نے بجلی کی فوری بحالی اورغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کامطالبہ کیاگرڈ سٹیشنز پرموجودعملے نے مظاہرین سے مذاکرات کرتے ہوئے انہیں صورتحال سے آگاہ کیااور پرامن رہنے کی اپیل کردی۔شہریوں کاکہنا تھا کہ شدیدگرمی میں کئی کئی گھنٹے بجلی بندش نے معمولات زندگی مفلوج کردئے ہیں،گھروں اورمساجدمیں پانی ناپیدہے،کاروبارٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ بیمارافراد،خواتین،بزرگ اوربچے شدیدمشکلات کاسامناکررہے ہیں۔اگرغیراعلانیہ اورظالمانہ لوڈشیڈنگ بندنہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیاجائیگا۔دوسری جانب بنوں اورسرائے نورنگ سے آمدہ رپورٹس کے مطابق وہاں پرگزشتہ کئی برسوں سے مقامی لوگ اورسیاسی راہنما گرڈسٹیشنزپردھاوابول کر ہائی لاسزفیڈرزچالوکردیتے ہیں جس سے ہائی وولٹیج ٹرانسفارمرزاورہیوی مشینری کونقصان پہنچتا ہے۔گزشتہ ہفتے کے دوران ایم پی اے ملک پختون یارکے دوبھائیوں نے بنوں اورسرائے نورنگ میں گرڈسٹیشنزپردھاوابولااورکئی فیڈرز چالوکرکے ساری رات اسکی نگرانی کیلئے موجودرہے۔پیسکوعملے نے ایف آئی آرکیلئے درخواست دی مگرپولیس بااثرملزمان کیخلاف ایف آئی آردرج کرنے سے گریزاں ہے۔صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں نے وفاقی حکومت اوروزیراعظم شہبازشریف سے اپیل کی ہے کہ خدارااس شدیدگرمی کے عالم میں عوام پررحم کیاجائے۔لوڈشیڈنگ لائن لاسزسے منسلک کرکے پیسکوافسران کوشریف صارفین کااستحصال کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ وزیراعظم اوروفاقی حکومت کواس جانب سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ بدھ کوصوبے کے مختلف علاقوں میں تیزآندھی،شمالی اضلاع میں طوفانی بارش،سیلابی ریلوں،آسمانی بجلی گرنے اورکشتی ڈوبنے سے 9افرادجاں بحق جبکہ34زخمی ہوئے۔سوات کے سیاحتی مرکزکالام سیف اللہ جھیل میں کشتی الٹنے سے 7افرادڈوب گئے جن میں سے پانچ کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ دوافرادتاحال لاپتہ ہیں۔خیبرلنڈی کوتل میں مکان پرآسمانی بجلی گرنے سے دوبچے جاں بحق ہوگئے جبکہ دیر بالاکے علاقے اسوڑی میں مدرسہ پرآسمانی بجلی گرنے سے 28طالبات زخمی ہوئیں، زخمی طالبات کوواڑی ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔صوبے میں آٹے کی قیمتیں بھی تاحال بے قابو ہیں۔گورنرکی جانب سے آٹے کامسئلہ حل ہونے کی خوشخبری کے باوجود 20کلوگرام تھیلے کی قیمت 28 سو روپے چل رہی ہے۔ وفاقی حکومت پاسکوکو50ہزارٹن گندم ریلیزکرنے کی ہدایت دے چکی ہے مگر آٹے کی قیمتیں کم نہیں ہورہیں۔


