وصال محمدخان
افغانستان میں تخت کابل پرقابض طالبان رجیم کودوبارہ برسراقتدارآئے ہوئے 5سال کاعرصہ ہوچکاہے اس دوران پاکستان میں دہشتگرد حملے کئی گنابڑھ چکے ہیں۔ان حملوں میں معصوم شہریوں،پولیس اوردیگرسیکیورٹی فورسزکاجانی ومالی نقصان بھی کئی گنابڑھ چکاہے۔ شدت پسندافغان سرزمین بطورمورچہ استعمال کررہے ہیں۔پاکستان کے مفروراورقانون نافذکرنیوالے اداروں کوانتہائی مطلوب افرادافغانستان میں بیٹھ کرپاکستان اورخیبرپختونخوامیں حملے کروارہے ہیں اکثرحملوں میں افغان شہریوں کی موجودگی یا وہاں سے تربیت پا کریہ مکروہ فعل انجام دینے کاانکشاف ہوتاہے۔طالبان رجیم کی جانب سے اس معاملے کوپاکستان کااندرونی معاملہ قراردیکراہمیت کم کرنیکی کوشش کی جاتی ہے۔یقیناًیہ پاکستان کااندرونی معاملہ ہے مگرطالبان رجیم ان مفروروں کی میزبان ہے جوپاکستا ن میں قتل وغارتگری مچاتے ہیں،معصوم اوربیگناہ شہریوں کونشانہ بناتے ہیں،ریاستی تنصیبات اورسیکیورٹی فورسزپرحملے کرتے ہیں۔پاکستان نے اس ناروا سلسلے کی روک تھام کیلئے طالبان رجیم کے ساتھ ان گنت بار مذاکرات کئے،ڈپٹی وزیراعظنم اسحاق ڈار سمیت کئی اعلیٰ حکام نے کابل کے دورے کئے اورطالبان رجیم کوسمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشتگردوں کی حمایت سے دستبردارہوں۔ابتدامیں پاکستان نے اپنے مفروروں کی حوالگی کامطالبہ کیا بعد میں سفارتی کوششوں پران مطلوب دہشتگردوں کوپاکستان کی سرحدسے دوربسانے پربھی اتفاق ہوا مگر طالبان رجیم کوئی معقول بات سننے اور ماننے پرآمادہ نہیں۔ وعدے کئے گئے مگرانکی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔دوست مسلم ممالک قطر،سعودی عرب،ترکی اوربعدمیں چین نے اس سلسلے میں مذاکرات اورسفارتی کوششیں کیں اورہرقسم تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی تاکہ دومسلم پڑوسی ممالک کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوں،دونوں جانب بیگناہ افرادکاقتل اورخونریزی بندہواورخطے میں بم وبارودکی بجائے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ہر سفارتی کوشش سے یہی محسوس ہواکہ شائداس باریہ معاملہ حل ہوجائے مگرہربارکی مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں وجہ اسکی یہی ہے کہ طالبان رجیم کوئی معقول بات ماننے پرآمادہ نہیں۔اب توطالبان رجیم ٹی ٹی پی اوردیگردہشتگردتنظیموں کی حمایت میں کھل کرسامنے آچکا ہے۔پہلے دوست ممالک اورپاکستان کیساتھ وعدے کئے جاتے تھے مگردرپردہ مکروہ کھیل جاری رکھاگیاتھااب توکھل کردونوں یک جان دوقالب بن چکے ہیں،دونوں کے کاروباری مفادات بھی مشترک ہیں،دونوں خونریزی چاہتے ہیں،جنگ وجدل دونوں کاشوق اور مشغلہ ہے،اوراسی سے دونوں کی روزی روٹی چلتی ہے کوئی مثبت کام نہ دہشتگردجانتے ہیں اورنہ طالبان رجیم کے ہاتھ میں کوئی ہنرہے دونو ں نے انسانیت کاخون بہانے کواپناذریعہ معاش بنارکھاہے خون بہتاہے توان کاکاروبارچلتاہے اسلئے یہ خونریزی بندکرنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں۔طالبان رجیم نے افغانستان کودنیاجہاں کے دہشتگردوں اورشدت پسندوں کیلئے جنت میں تبدیل کردیاہے پوری دنیاکی دہشتگرد تنظیمیں اورافراد وہاں مقیم ہیں اورجسے بھی انکی ضرورت ہویہ کرائے پردستیاب ہیں۔ اگرکوئی ملک طالبان رجیم کوشکایت لگاتاہے تووہ کھل کرانکی دفاع میں سامنے آتاہے۔طالبان رجیم اورانکے دہشتگردشراکت داروں کے خلاف اقوام متحدہ کی کئی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن کے مطابق افغانستان میں موجوددہشتگردگروہوں سے خطے کے ممالک خصوصاًپاکستان کے امن کوسنگین خطرات لاحق ہیں مگرطالبان رجیم پاکستان کوداعش کی سہولت کاری کاذمہ دارٹھہراکراپنے کالے کرتوتوں پرپردہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہے حالانکہ پاکستان نہ صرف ہرقسم کی دہشتگرد ی کے خلاف ہے بلکہ یہ خوددہشتگردی کاشکارہے اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان ٹی ٹی پی اوراسکے ہمنواؤں کے نشانے پرہے جن کی پشت پر افغان طالبان ہیں۔جبکہ یہ بھارتی پراکسی کے طورپربھی کام کررہے ہیں اوربھارت کی پشت پراسرائیل ہے۔دنیاکے یہ دو ممالک پاکستان کوسامنے آکرللکارنے سے قاصرہیں۔ بھارت نے گزشتہ برس مئی میں ایک ایڈونچرکرکے دیکھ لیاجس میں اسے منہ کی کھانی پڑی اور وہ آج تک اس بھونڈی حرکت کی ذلت سمیٹ رہاہے دوسری جانب اسرائیل ہے جس کی نظریں مشرق وسطیٰ پرہیں جو خلیجی ممالک کوایک ایک کرکے تاخت وتاراج کررہاہے اوران ہستے بستے ممالک کوقبرستان میں تبدیل کرنے کے منصوبے پرعمل پیراہے۔مگرپاکستان نے سعودی عرب کیساتھ دفاعی معاہدہ کرکے اسکے راستے مسدودکردئے ہیں اوراب وہ کھل کرمشرق وسطیٰ میں آگ وخون کابازارگرم کرنے سے قاصرہوچکاہے۔بھارت اوراسرائیل کی شدیدخواہش ہے کہ وہ پاکستان کوکسی طرح گھٹنے ٹیکنے پرمجبورکردے مگرپاکستان کی دفاعی قوت کے آگے دونوں بے بس ہیں۔ اسلئے انہیں طالبان رجیم کی صورت میں کرائے کے وہ گوریلے میسرآئے ہیں جونہ کسی دین کومانتے ہیں، ہمسائیگی کے اصول جانتے ہیں،احسان کابدلہ نیکی سے دینے کی روایت سے نابلدہیں اورآگ وخون کابازارگرم رکھناان کاپسندیدہ مشغلہ ہے۔اسلئے ان دونوں ممالک نے طالبان رجیم کواپنی پراکسی کے طورپراستعمال کرناشروع کردیاہے۔ طالبان رجیم آگے ٹی ٹی پی وغیرہ کو استعمال کرکے پاکستان کوعدم استحکام سے دوچارکرنے کے منصوبے میں شراکت داربن چکاہے مگرطالبان رجیم ہویاانکے سرپرست بھارت اورناجائزریاست اسرائیل ہوان سب کومنہ کی کھانی پڑے گی۔پاکستان کسی ہمسائے کیلئے براسوچنے کاروادارنہیں مگراسکی سا؛لمیت پرحملہ کرنیوالوں کومعاف کرنے کاقائل بھی نہیں۔اب بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑاطالبان رجیم پاکستان کی عداوت اوردشمنی پرمبنی پالیسیاں ترک کر دے،اپنے پروردہ دہشتگردوں کولگام دے،خودبھی امن سے رہے اورہمسایوں کوبھی امن سے زندگی گزارنے کاحق دے، تاکہ خطے میں تجارتی سرگرمیو ں کو فروغ ملے، غربت کاخاتمہ ہواورعوام کوسکون کاسانس نصیب ہو۔طالبان رجیم کی پاکستان دشمنی اورعداوت پرمبنی پالیسیا ں نہ صرف افغانستان،پاکستان،خطے بلکہ پوری دنیاکیلئے خطرہ ہیں اوراس سے دنیاکاامن داؤپرلگ چکاہے۔اگریہی نارواسلسلہ جاری رہاتوکوئی بعیدنہیں کہ ایک بارپھرپوری دنیاطالبان رجیم کیخلاف اکھٹی ہو۔جس کانقصان افغان عوام کوہوگا اوراسکی تمامتر ذمہ داری طالبان رجیم پرعائدہوگی۔


