Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, July 18, 2026

خیبرپختونخواکی صورتحال

وصال محمدخان

ایم پی ایزمراعات پیکیج کوریورس گیئرلگنے والاہے،معاملہ صوبائی اسمبلی کی خصوص کمیٹی کے سپرد
صوبائی اسمبلی سے منظورشدہ ایم پی ایزمراعات پیکیج جس کاگزشتہ ہفتے خاصاچرچارہااس معاملے پرحکومت ڈٹی رہی اوراسے اراکین اسمبلی کااستحقاق بتایاگیامگرمیڈیامیں شدید تنقیدکے بعداس ایکٹ کوریورس گیئرمیں ڈالنے کافیصلہ کیاگیاہے۔ خبرکے مطابق ”خیبرپختونخواسمبلی اراکین کے مراعات اوراستحقاق ایکٹ میں کی گئی ترامیم پرشدیداعتراضات کے بعد صوبائی حکومت اوراپوزیشن ترامیم واپس لینے پرمجبور ہوگئی وزیراعلیٰ سہیل آفر یدی کی ہدایت پر اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے ترامیم واپس لینے پراتفاق کرتے ہوئے مسودہ تیاری کیلئے استحقاق کمیٹی کے سپردکردیاہے“۔

استحقاقات ومراعات ایکٹ پرمیڈیا،ووٹرزاورپارٹی کارکنوں نے اعتراضات اٹھائے،شفیع جان

وزیراطلاعات شفیع جان نے معاملے کوایک اوررنگ دیتے ہوئے کہا کہ”ایکٹ میں کی گئی ترامیم پرایسے وقت میں اعترا ضات اٹھائے گئے جب اسحاق ڈارکے نواسے کاکیس سامنے آیالیکن تحریک انصاف اسحاق ڈارکاپیچھاکریگی“۔وزیراعلیٰ سہیل آفرید ی کی ہدایت پرارکان اسمبلی کی مراعات اوراستحقاق قانون میں کی گئی ترامیم واپس لینے کیلئے کمیٹی کااجلاس سپیکربابرسلیم سواتی کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈرڈاکٹرعباداللہ،جے یوآئی کے مولانالطف الرحمان،پیپلزپارٹی کے احمدکنڈی،اے این پی کے ارباب عثمان،پی ٹی آئی پی کے ارباب وسیم،صوبائی وزرااکبرایوب،شفیع جان اورآفتاب عالم نے شرکت کی۔اجلاس کے بعدبریفنگ دیتے ہو ئے وزیراطلاعات شفیع جان نے کہا کہ”مراعات اوراستحقاقات ایکٹ پرمیڈیا، ووٹرز اور پی ٹی آئی کارکنوں نے اعتراضات اٹھائے، کابینہ ارکان نے بھی متنازعہ شقیں واپس لینے کافیصلہ کیاجبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ترامیم واپس لینے کی ہدایت کی،متنازعہ شقوں کا معاملہ استحقاق کمیٹی کے حوالے کیاگیاہے، کمیٹی10روزتک ایکٹ کاجائزہ لے گی اورکابینہ سے منظوری کے بعدمسودہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیاجائیگا،یہ فارم45کی اسمبلی ہے جوعوامی رائے کااحترام کرتی ہے،اپوزیشن لیڈر اور پارلیمانی لیڈرزکوسناگیابلیوپاسپورٹس،ممنوعہ بورلائسنس،فیملی ممبرزکے آئی ڈی کارڈزکے حوالے سے شقوں پراعتراضات کئے گئے اسلئے اسے واپس لیکر1988ء کاقانون بحال کیا جائیگا،کابینہ کے سامنے آنیوالااوراسمبلی میں پیش کئے جانیوالے ڈرافٹ میں فرق تھاہم نے قانون کوخفیہ نہیں رکھاہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایشو اسحاق ڈارکے نواسے والے معاملے سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال کیاگیا،صوبے میں میڈیا آزاد ہے ہم نے کسی پرکیس نہیں کیا دوسری اسمبلیو ں نے بھی اسی قسم کے قوانین منظورکئے ہیں بلکہ سابق ارکان اسمبلی کوبھی بلیوپاسپورٹس کی سہولت حاصل ہے اس پرکسی وی لاگر یا اینکرنے بات نہیں کی“۔

صوبائی اسمبلی پاسپورٹ کی قانون سازی کااختیارنہیں رکھتی،زاہددرانی کی ہائیکورٹ میں رِٹ

دوسری جانب اسمبلی کی جانب سے اراکین کوغیرمعمولی مراعات استثنیٰ اور اختیارات دینے کیلئے منظورکئے گئے پاور ایمونٹیزاینڈپروویلجزایکٹ 2026ء کوپشاورہائیکورٹ میں چیلنج کیاگیاہے۔ سابق رکن صوبائی اسمبلی زاہددرانی کی جانب سے دائرکی گئی رٹ پٹیشن میں مؤقف اختیارکیاگیاہے کہ مذکورہ قانون آئین سے متصادم اختیارات سے تجاوز اورعوامی مفادکیخلاف ہے اسلئے اسے کالعدم قراردیاجائے،رٹ میں خیبرپختونخواحکومت،صوبائی اسمبلی اوردیگرمتعلقہ حکام کوفریق بنایاگیا ہے، رٹ میں مؤقف اپنایاگیاہے کہ نئے قانون کے تحت اراکین اسمبلی اورانکے اہلخانہ کو آفیشل پاسپورٹ کی سہولت دی گئی ہے حالانکہ پاسپورٹ جاری کرنے کااختیارصوبائی اسمبلی نہیں وفاق کے پاس ہے،قانون کے ذریعے اراکین اسمبلی کوگرفتاری اورٹول ٹیکسز سے استثنیٰ، کیٹگری اے اوربی کی سیکیورٹی اوردیگر غیر معمولی مراعات دی گئی ہیں ایکٹ میں اراکین اسمبلی کوسرکاری افسران طلب کرنے اور ان سے جواب طلبی جیسے اختیارات بھی دئے گئے ہیں حالانکہ یہ اختیارات آئینی طورپرانتظامیہ (ایگزیکٹیو)کے دائرہ اختیارمیں آتے ہیں۔ صوبائی اسمبلی نے قانون سازی کے دوران اپنے آئینی اختیارات سے تجاوزکیاہے۔لہٰذا ایکٹ کوآئین سے متصادم مان کر کالعدم قراردیا جائے۔اس قانون کوعدالت بھی کالعدم قراردے سکتی ہے جبکہ اسمبلی بھی واپس لے سکتی ہے دونوں صورتوں میں قانون کاوجودخطرے میں پڑچکاہے۔

فاٹااورپاٹامیں ٹیکسزکانفاذ،حکومتی اوراپوزیشن ارکان کاایکا،سپیکرکی جانب سے بحث کرانے کافیصلہ
فاٹااورپاٹامیں ٹیکسز نفاذکیخلاف حکومت اوراپوزیشن جماعتوں نے ایکاکرلیاہے۔ارکان اسمبلی نے مطالبہ کیاہے کہ ٹیکسزچاہے صوبائی ہوں یاوفاقی،فاٹااورپاٹا کے عوام کواس سے استثنیٰ دیاجائے جبکہ سپیکرصوبائی اسمبلی نے ٹیکسزکے معاملے پرایوان میں بحث کرانے اورآئندہ لائحہء عمل کیلئے حکومت اوراپوزیشن مشترکہ اجلاس بلانے کاعندیہ دیاہے۔فاٹااورپاٹامیں ٹیکسزکی چھوٹ ختم کرنے پرحکومتی اوراپوزیشن ارکان نے شدیدردعمل کااظہارکیاہے۔

ملاکنڈمیں اے این پی کے زیراہتمام لویہ جرگہ،فاٹااورپاٹاٹیکسزواپس لئے جائیں،مشترکہ اعلامیہ

اے این پی کے زیراہتمام ملاکنڈ میں اسی معاملے پرلویہ جرگہ (آل پارٹیزکانفرنس) کاانعقاد کیا گیاجس میں چھوٹی بڑی تقریباً تمام جماعتوں کے صوبائی قائدین،اراکین اسمبلی،وکلاء،تاجربرادری،ہوٹل ایسوسی ایشنز، ٹرانسپور ٹرز، چیمبر آف کامرس اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔ متفقہ طورپرجاری اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ”لویہ جرگہ ملاکنڈ ڈویژ ن اور فاٹاوپاٹامیں ٹیکسز نفاذکے فیصلے کویکسرمستردکرتاہے اورواضح کرتاہے کہ یہ فیصلہ عوام کیساتھ کئے گئے تاریخی،آئینی اورقانونی وعدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے،لویہ جرگہ مطالبہ کرتاہے کہ وفاق اس فیصلے پرنظرثانی کرے اورصوبائی حکومت بھی ملاکنڈڈویژن میں 2024ء سے نافذالعمل سیلزٹیکس کاخاتمہ کرے،خیبرپختونخواآن سروسز ریگولیشن 2024ء میں کی جانیوالی ترامیم کوفی الفورواپس لیاجائے، ملاکنڈ ڈویژن اوردیگرعلاقے دہشتگردی،سیلاب اوردیگرقدرتی آفات سے متاثرہ ہیں،ان علاقوں میں آپریشنزاوردیگرعوامل نے یہاں کی معیشت اورمعاشرت کوبری طرح نقصان پہنچایاہے اسلئے تمام ٹیکسزواپس لئے جائیں“۔یادرہے آئین کے آرٹیکل 246کے تحت ان علاقوں کوٹیکسزسے استثنیٰ حاصل ہے جسے اب وفاقی حکومت ختم کررہی ہے۔اسکے خلاف ملاکنڈ ڈویژن میں ایک بھرپورہڑتال بھی کی گئی جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی 17جولائی کو ایک مشاورتی اجلاس طلب کیاہے جس میں گورنر،تمام جماعتوں کے صدور،جنرل سیکرٹریز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی،سینیٹرز،تاجر،وکلاء تنظیموں اورقبائلی مشران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔گورنرکااس حوالے سے کہناتھاکہ وفاق نے ضم اضلاع پر100ارب روپے خرچ کرنے کاوعدہ کیاتھاجو پورا نہ ہوسکا ضم اضلاع کے حوالے سے بننے والی کمیٹی نے ان علاقوں پر2 سوسے اڑھائی سو ارب روپے خرچ کرنے کی سفارش کی تھی مگر 100 ارب روپے سالانہ بھی نہیں دئے گئے۔ پہلے ان علاقوں کوٹیکس کے قابل بنانے کی ضرورت ہے اسکے بعدٹیکس لینے کے بارے میں سوچاجاسکتا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے یکمشت 80ارب روپے جاری،
صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27کے تحت جاری منصوبوں کیلئے80.7ارب روپے جاری کردئے ہیں جوجاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص فنڈزکا40 فیصدبنتاہے۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاہے کہ نئے منصوبوں کیلئے فنڈزانکی منظور ی پرجاری کئے جائینگے تاکہ بروقت اجراسے ترقیاتی منصوبوں پرعملدرآمدمیں تیزی آجائے،بندوبستی اضلاع کے منصوبوں کیلئے 61 ارب،ضم اضلاع کے تیزرفتارترقیاتی منصوبوں کیلئے11ارب اورضم اضلاع کے اے ڈی پی کے تحت7.9ارب روپے جاری کئے گئے ہیں بندوبستی اضلاع میں سڑکوں کیلئے12ارب،آبپاشی کیلئے 5.8ارب،شہری ترقی کیلئے8.8ارب لوکل گورنمنٹ کیلئے2ارب، آبنوشی کیلئے3ارب،ابتدائی وثانوی تعلیم کیلئے1.9ارب، صحت کیلئے4.5ارب،اعلیٰ تعلیم کیلئے 1.7ارب،امن وامان کیلئے1.7ارب،ضم اضلاع میں سڑکوں کیلئے2.3ارب،صحت کیلئے1.2ارب جبکہ ابتدائی وثانوی تعلیم کیلئے1ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق یکمشت فنڈزجاری کرنے کامقصدجاری ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لاناہے۔

پشاور۔حسن خیل میں بم ڈسپوزل سکواڈکااہلکارخائستہ رحمان آئی ای ڈی ناکارہ بناتے ہوئے شہید
پشاورکے علاقے حسن خیل کی حدودفقیری بانڈہ میں نامعلوم تخریب کاروں کی جانب سے بارودی موادنصب کیاگیاتھاجسے ناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکارخائستہ رحمان جام شہادت نوش کرگئے۔تفصیلات کے مطابق حسن خیل میں نصب آئی ای ڈی کوناکارہ بناتے ہوئے بارودی موادزورداردھماکے سے بلاسٹ ہواجس سے خائستہ رحمان شدیدزخمی ہوگئے جوبعدازاں جان کی بازی ہارگئے۔

حکومت تیارہے،صوبے میں بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں،رواں ماہ کے آخرمیں تاریخ کااعلان متوقع
صوبائی حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کوآگاہ کیاگیاہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کیلئے تیارہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے تاریخ کا اعلان رواں مہینے کے آخرمیں متوقع ہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواکی صورتحال

Shopping Basket