Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, July 11, 2026

جنگ زدہ صوبے کے عیاش سیاست دان اور عوامی نمائندے

عقیل یوسفزئی
سال 2026 کے ابتدائی 5 مہینوں کے دوران خیبرپختونخوا کی اپنی پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق درجنوں دہشت گرد حملوں میں تقریباً 400 سیکیورٹی اہلکار اور سویلین شہید ہوئے جبکہ اس سے زیادہ زخمی ہوگئے تاہم صوبائی حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کی کارکردگی صرف رسمی بیانات تک محدود رہی ۔ دوسری جانب سال 2025 کے آخر میں انکشاف ہوا کہ خیبرپختونخوا پر مختلف عالمی اداروں کا قرضہ 1000 ارب سے تجاوز کرگیا ہے ۔ اسی عرصے میں یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ خیبر پختونخوا میں 45 سے 50 لاکھ کے درمیان بچے سکولوں سے باہر ہیں یعنی ابتدائی تعلیم سے بھی محروم ہیں ۔ دوسری جانب نہ صرف یہ کہ صحت کی سہولیات ناپید ہوتی گئیں بلکہ پشاور یونیورسٹی سمیت ایک درجن سے زائد یونیورسٹیاں بدترین مالی اور انتظامی بحرانوں سے دوچار ہوئیں ۔
اس عرصے کے دوران پی ٹی آئی کی اندرونی کشمکش کے باعث علی امین گنڈا پور کو راتوں رات ہٹاکر پہلی بار اسمبلی پہنچنے والے ناتجربہ کار سہیل آفریدی کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا اور کابینہ بھی توڑ پھوڑ سے دوچار ہوگئی ۔
کارکردگی کا مسئلہ صرف پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ اپوزیشن بھی صوبے کے سنگین مسائل کی نشاندھی اور حل میں ناکام رہی یا لاتعلق رہی ۔
اسی دوران جولائی کے ابتدائی دنوں میں میڈیا نے انکشاف کیا کہ کابینہ سمیت خیبرپختونخوا اسمبلی کے ” معزز ممبران” اپنی شاندار ” خدمات” اور کارکردگی کے بدلے اپنے لیے لامحدود مراعات اور اختیارات چاہتے ہیں ۔ نہ صرف اپنے لیے بلکہ یہ اپنے اہل وعیال کے لیے بھی ” باجمات” مراعات کے خواہشمند ہیں جن میں تاحیات ” بلیو پاسپورٹ” کی سہولت بھی شامل ہے ۔ جن شاندار ” مراعات اور خواہشات” کو ڈیمانڈ لسٹ میں شامل کیا گیا جن میں سے بعض کو پڑھ کر عام شہریوں کو بھی شرم آنی شروع ہوجاتی ہے ۔
کمال کی بات یہ ہے کہ اس مجوزہ ” عیاشانہ پیکج” کی تیاری میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے بعض اہم اراکین اسمبلی نے بنیادی کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ان پارٹیوں کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ۔ اے این پی کے دو میں سے ایک مغرب زدہ مگر خود کو بہت اصولی شخص قرار دینے والے ایک ایم پی اے نے بھی نہ صرف اس پراسیس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا بلکہ وہ میڈیا، سیاسی ورکرز اور عوام کی شدید تنقید کے باوجود میڈیا سمیت دوسروں کو بھی ” جاہل ” قرار دینے کی مہم جوئی پر اتر آئے اور اس مہم جوئی نے پی ٹی آئی والا طرزِ عمل اختیار کرکے مین سٹریم میڈیا کو بھی جاہل، لاعلم اور گنوار قرار دے دیا ۔
خلاصہ کلام یہ کہ اس معاملے پر جہاں ایک طرف حکمران جماعت پی ٹی آئی نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا وہاں نام نہاد اپوزیشن بھی بری طرح بے نقاب اور بے توقیر ہوکر رہ گئی ۔ اس صورتحال سے عوام پر یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ یہ نام نہاد ” ایلیٹ کلاس” نہ صرف ذاتی مفادات کے لیے ایک پیج پر ہے اور سب ایک دوسرے کے ساجے دار ہیں بلکہ ان سب کی مثال روم کے اس ” نیرو ” کی ہے جب روم جل رہا تھا اور وہ محل کی دیوار پر بیٹھ کر ” بانسری” بجا رہا تھا ۔

جنگ زدہ صوبے کے عیاش سیاست دان اور عوامی نمائندے

Shopping Basket