وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ صحت کا اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے صحت احتشام علی، سیکرٹری صحت اور محکمہ صحت کے دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے ذیلی ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ( آئی ایم یو) کی گذشتہ 6 ماہ کی کارکردگی کا جائزہ۔ اجلاس کو آئی ایم یو کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کے بارے تفصیلی بریفنگ۔ آئی ایم یو اسٹاف نے گذشتہ 6 ماہ کے دوران مراکز صحت کے کل 17743 دورے کیے۔ پرائمری مراکز صحت کے 14939 دورے جبکہ سیکنڈری مراکز صحت کے 2831 دورے کئے گئے۔ پرائمری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی دستیابی کی شرح 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی طرح پرائمری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی غیر حاضری کی شرح 12 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گئی ہے۔ گزشتہ چھ مہینوں کے دوراں پرائمری مراکز صحت کے غیر حاضر میڈیکل افسران کی تنخواہوں سے 10.5 ملین روپے کی کٹوتی کی گئی۔ صوبہ بھر میں 1766 غیر حاضر ڈاکٹرز میں سے 1096 سے وضاحت طلب کی گئی ، 12 کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی۔ اسی طرح 36 ڈاکٹرز کے خلاف انکوائری شروع کی گئی جبکہ 244 کو وارننگز جاری کی گئیں۔ سیکنڈری مراکز صحت میں میڈیکل آفیسرز کی دستیابی کی شرح 83 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد ہو گئی ہے۔ سیکنڈری مراکز صحت کے غیر حاضر میڈیکل آفیسرز سے گذشتہ 6 ماہ کے دوران 6.8 ملین روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔ صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں 1487 غیر حاضر ڈاکٹرز میں سے 719 سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اسی طرح 12 کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ، 18 کے خلاف انکوائری شروع کی گئی۔ 264 ڈاکٹرز کو وارننگز جاری کی گئی ہیں جبکہ 522 کے خلاف دیگر محکمانہ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ صوبے میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے نو میڈیکل سپرینٹنڈنٹس اور 7 ڈی ایچ اوز کو عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ پرائمری مراکز صحت میں ضروری ادویات کی دستیابی کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد ہو گئی ہے۔ سیکنڈری مراکز صحت میں ادویات کی دستیابی کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 48 فیصد ہو گئی ہے۔ پرائمری مراکز صحت میں ضروری طبی آلات کی دستیابی کی شرح 93 سے بڑھ کر 95 فیصد ہو گئی ہے۔ گذشتہ 6 ماہ کے دوران سیکنڈری مراکز صحت میں 60 ضروری طبی آلات کی دستیابی کی شرح 78 فیصد سے بڑھ کر 80 فیصد ہو گئی ہے۔ مراکز صحت میں ہمہ وقت سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کو مزید بہتر اور موثر بنایا جائے۔ پرائمری اور سیکنڈری دونوں مراکز صحت میں ضروری ادویات کی ہمہ وقت دستیابی یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ صوبائی حکومت اس مقصد کے لیے درکار تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ ہم سکول میں تعلیم اور اسپتال میں علاج کی فراہمی کے وژن کے تحت کام کر رہے ہیں۔ جن مراکز صحت میں طبی آلات کی کمی ہے اسے فوری طور پر پورا کیا جائے۔ مراکز صحت میں بالخصوص واشرومز کی صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ صوبائی حکومت صحت کے شعبے میں خطیر سرمایہ کاری کر رہی ہے اسکے نتائج بلا تاخیر عوام تک پہنچنے چاہئیں۔
