صوبائی دارالحکومت پشاور کو منشیات کے عادی افراد سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے نشے سے پاک پشاور مہم کے پانچویں مرحلے کا آغاز یکم مارچ سے کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں شہر کی سڑکوں اور عوامی مقامات پر موجود بارہ سو (1200) کے قریب نشے کے عادی افراد کو تحویل میں لے کر منتخب بحالی مراکز منتقل کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں شہر کو نشے کے عادی افراد سے مکمل پاک کرنے کے لیے تفصیلی لائحہ عمل طے کیا گیا۔
بحالی مراکز کے انتخاب کے لیے اشتہارات جاری کرنے کی ہدایت:
کمشنر پشاور ڈویژن نے ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر کو ہدایت کی کہ بحالی مراکز کے انتخاب کے لیے فوری طور پر اشتہارات جاری کیے جائیں تاکہ شفاف طریقے سے معیاری بحالی مراکز کا انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ معاہدے کے تحت پہلے مرحلوں میں علاج مکمل کرنے کے باوجود دوبارہ نشہ شروع کرنے والے افراد کو چار ماہ تک مفت علاج فراہم کیا جائے گا، جس کے لیے بحالی مراکز سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہے۔
مشترکہ آپریشن کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نشے کے عادی افراد کے خلاف کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ، پشاور پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ ایکسائز اور محکمہ اینٹی نارکوٹکس کنٹرول پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ یہ ٹیمیں مشترکہ آپریشن کے ذریعے شہر کے طول و عرض سے نشے کے عادی افراد کو تحویل میں لے کر بحالی مراکز منتقل کریں گی۔
تمام وسائل بروئے کار لانے اور رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت:
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے واضح کیا کہ نشے سے پاک پشاور مہم کے پانچویں مرحلے کو ہر صورت نتیجہ خیز بنایا جائے گا۔ انہوں نے شہر کو نشے کے عادی افراد سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ محکموں سے باقاعدہ کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر لی۔ کمشنر پشاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو محفوظ، پُرسکون اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔


