Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, February 3, 2026

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ملاقات سے وابستہ توقعات

عقیل یوسفزئی
یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر اپنے مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پی ٹی آئی کے بعض عناصر کی خواہش کے برعکس اہم ملاقات کرتے ہوئے ان کو نہ صرف یہ کہ صوبے کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا بلکہ ان کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں گے ۔ وفاقی وزیر امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللّٰہ بھی ملاقات میں موجود تھے ۔ وزیر اعلیٰ نے پریس بریفنگ میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی سے متعلق بات کرنے کی بجائے صوبے کے ایشوز پر گفتگو کی ۔ ان کے اس نکتے کو پی ٹی آئی کے شدت پسند حلقوں نے تنقید کا نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا پر ان کی باقاعدہ ٹرولنگ کی گئی تاہم سنجیدہ حلقوں نے اس ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس ایونٹ سے نہ صرف یہ کہ جاری کشیدگی میں کمی واقع ہوگی بلکہ دہشت گردی اور بیڈ گورننس سے دوچار خیبرپختونخوا کے مسایل کم کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔
سہیل آفریدی نے جب حلف لیا تو اسی روز جہاں ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف نے ان کو کال کرکے مبارکباد دی وہاں اگلے روز اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں شرکت کی دعوت بھی دی تاہم وزیر اعلیٰ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی جس سے کافی بدگمانی پیدا ہوئی اور اس کی قیمت صوبے کو اٹھانی پڑی ۔ ” دیر آید درست آید” کے مصداق اگر صوبائی حکومت اپنے چیلنجز کے تناظر میں وفاقی حکومت کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کرنے کی پالیسی پر گامزن رہی تو اس نہ نہ صرف صوبے کو فایدہ ہوگا بلکہ ریاست اور پی ٹی آئی کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے ۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ کو اپنی پارٹی کے ان عناصر اور سوشل میڈیا واریئرز کی مخالفت یا پروپیگنڈے کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایسے عناصر کو صوبے کے مفادات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا اور یہ کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے مسائل حل کرنے میں بہت سنجیدہ ہے ۔ رانا ثنا اللّٰہ کے بقول سیاسی مسایل ڈیڈ لاک کی بجائے ڈائیلاگ سے حل ہوتے ہیں اور اس ملاقات کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے ۔
سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر عامر عبداللہ نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ” سنو پختونخوا ” کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ صوبے کے امن کے قیام کے لیے لازمی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس سنگین صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے پروفیشنل ورکنگ ریلیشن شپ کا راستہ اختیار کریں کیونکہ صوبے کو بدامنی سمیت متعدد دیگر مسایل کا سامنا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اور امن سے جڑے معاملات پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا پڑے گا پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے دیگر ایشوز پر بے شک سیاست کی جائے مگر دہشتگردی کے مسئلے پر کسی قسم کی پوائنٹ اسکورنگ اور سیاسی مخالفت نہیں ہونی چاہیے ۔ ان کے بقول صوبوں اور وفاق کے درمیان ہر دور میں بعض معاملات پر پوائنٹ اف ویو کے تناظر میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں تاہم پاکستان کی سلامتی سے جڑے معاملات سے زیادہ اہم بات کوئی نہیں ہے اس لیے تمام فریقین اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ۔
ایک اور سابق وزیر اجمل خان وزیر نے اپنی گفتگو میں اس ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ صوبے کے مفادات کے تناظر میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں کشیدگی اور تلخی کی بجائے اپنی ذمہ داری پوری کریں گی اور اس ضمن میں پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو روایتی رویوں سے ہٹ کر حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنی پڑے گی کیونکہ صوبے کو گزشتہ کئی برسوں سے دہشتگردی سمیت بے شمار دیگر چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے ۔
ان کے بقول یہ بات تشویش ناک ہے کہ پی ٹی آئی کے قائدین گورننس سے متعلق تنقید برداشت نہیں کرتے اور وہ حکمران رہتے ہوئے بھی خود کو عوام اور میڈیا کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات اس حوالے سے بھی اہم تھی کہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ملک گیر سطح پر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور تیراہ آپریشن کے معاملے پر بھی تلخی پائی جاتی ہے ۔ اس رابطے کاری کے نتیجے میں وقتی ہی سہی جاری کشیدگی اور تلخی میں کمی واقع ہوگی ۔
اگر چہ تاحال پی ٹی آئی نے 8 فروری کے احتجاج کا کوئی باظابطہ شیڈول جاری نہیں کیا ہے اور کسی بڑے احتجاج کے آثار نظر نہیں آتے تاہم مزاحمت کے عادی پارٹی ورکرز کی تمام توقعات وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے وابستہ ہیں جس کے باعث ان پر شدید نوعیت کا دباؤ بھی ہے ۔ ایسے میں ایک بہتر آپشن یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو گورننس پر توجہ مرکوز کرنے دیا جائے اور پارٹی کے قائدین احتجاج وغیرہ کو لیڈ کریں کیونکہ صوبے کے حقوق اور مفادات کا تحفظ خور پی ٹی آئی کے اپنے فائدے میں ہے ۔

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ملاقات سے وابستہ توقعات

Shopping Basket