Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Sunday, June 16, 2024

بجلی کے ترسیلی نظام میں خامیاں

وصال محمد خان
وطن عزیزماضی کی طرح ایک بارپھربجلی کی شدیدترین بحران کاشکارہے جس کے سبب خیبرپختونخوامیں بالخصوص اورپنجاب ودیگرصوبوں میں بالعموم ناروالوڈشیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے. خیبرپختونخواکے چھوٹے بڑے شہروں، دیہات اورقصبات میں پندرہ سے بیس گھنٹے کی بجلی بندش کاسلسلہ دوام پذیرہے چھوٹے کاروبارتباہی سے دوچارہوچکے ہیں درزی اورویلڈرزوغیرہ کاکام ٹھپ ہوچکاہے بازاروں اورمارکیٹوں کودن میں بمشکل دوچارگھنٹے بجلی فراہم ہوتی ہے ۔مساجد میں پانی ناپیدہونے کے باعث لاؤڈسپیکرزسے اعلانات ہوتے ہیں کہ مسجدمیں پانی دستیاب نہیں اسلئے وضوگھرسے کرکے آئیں رہائشی علاقوں کی صورتحال اس سے بھی بدترہے گرمی کے آغازسے ہی مچھروں کی بھرمارہے جس سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں ہسپتالوں اورنجی کلینکس میں مریضوں کارش بڑھ چکاہے بچے پیٹ ،گیسٹرواورمختلف امراض کاشکارہو رہے ہیں بازاروں میں رزق حلال کمانے والوں کے روزگارٹھپ ہوچکے ہیں جس کالازمی اثرملکی معیشت پربھی پڑرہاہے بجلی دستیاب ہوگی توملکی معیشت کاپہیہ بھی چلے گالوگوں کوروزگارمیسرہوگاتومعیشت بھی ترقی کرے گی اورمہنگائی کارونابھی کم ہوگاایک جانب مہنگائی کاجن بے قابو ہے تودوسری جانب روزگارٹھپ پڑے ہیں اس صورتحال سے امن وامان کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں جب روزگاربندہوگااور لوگ بھوکے مریں گے تووہ ڈاکہ زنی اوردیگرجرائم کی جانب راغب ہونگے یہی وجہ ہے کہ چھوٹے بڑے شہروں میں موبائل سنیچنگ،موٹر سائیکل ،کارچوری ،ڈاکے اوررہزنی کے کیسزمیں بے تحاشااضافہ دیکھنے کومل رہاہے کوئی بھی اخباراٹھاکردیکھ لیجئے اسی قسم کی وارداتوں سے صفحات بھرے پڑے ہیں شدیدترین گرمی میں پنکھے تک کی سہولت میسرنہیں جس سے عوام میں بے چینی اورحکومت کے خلاف نفرت جنم لے رہی ہے ۔یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہورہاکہ گرمی کے موسم میں بجلی کی بندش اچانک دوسوفیصدسے زائدبڑھ گئی ہے بلکہ یہ ہرموسم گرمامیں ہوتاآیا ہے اورہرتبہ لوگ تنگ آمدبجنگ آمدکے مصداق سڑکوں پرنکل کراحتجاج کرتے ہیں، گریڈسٹیشنزکے سامنے دھرنے دیتے ہیں اورجب اس سے شنوائی نہیں ہوتی توگریڈسٹیشنزپرحملہ آور ہوتے ہیں جو اگرچہ ملک کانقصان ہوتاہے مگرواپڈاافسران کیلئے یہ بھی منافع بخش ہے عوام کی جانب سے گریڈسٹیشنزپرکئے جانے والے حملوں میں دوکروڑکانقصان ہونے پرواپڈاافسران اسے بڑھاچڑھاکرآٹھ دس کروڑکردیتے ہیں اضافی رقم انکی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ اس ملک میں بجلی ایسی بھی ناپیدنہیں ہوئی کہ بیس بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کرنی پڑے یہاں اکثر دیکھنے میں آیاہے کہ شیڈول لوڈشیڈنگ کے علاوہ فورس لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جس سے دس بارہ گھنٹے غیراعلانیہ بجلی بندش معمول بن چکا ہے اس ملک کومعرض وجودمیں آئے ہوئے چھہتربرس کاعرصہ گزرچکاہے مگریہاں کے باسیوں کوبجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات نہ مل سکی واہڈاافسران سے استفسارکرنے پرمعلوم ہوتاہے کہ لوڈزیادہ ہے گریڈکواپ گریڈکیاجارہاہے بہت جلد صورتحال میں بہتری نظرآئے گی یہی دلاسے اورعندئے ہرمرتبہ گرمی کے موسم میں دئے جاتے ہیں مگران دلاسوں پرکبھی عمل درآمدنہ ہوسکا۔کسی حکومت کوخدانے یہ توفیق نہیں دی کہ وہ بجلی کے مسئلے کاکوئی مستقل دیرپا اورپائیدارحل نکالے بجلی کاجوترسیلی نظام گزشتہ پون صدی میں بچھایا گیا ہے وہ انتہائی ناقص ہے اور ذراسی تیزہواچلنے پریہ زمیں بوس ہوجاتاہے اس نظام کوکھڑاکرنے پرہزارہاارب روپے خرچ ہوچکے ہیں مگرنظام ہواکاایک جھونکابرداشت کرنے کی سکت سے عاری ہے اکثرلوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ اس ملک پرقرضے کیسے بڑھے جس کاجواب یہی ہے کہ جس ملک نے76 برس میں بجلی کایہ نظام بنایاہواس پرقرضے ہی چڑھیں گے ہزاروں ارب روپے خرچ کرنے کے باوجودیہ نظام اتناناقص ہے کہ اس میں بجلی چوری روکنا ناممکن ہے، اس سے متواتربجلی کی فراہمی ممکن نہیں اوراس سے معیشت کاپہیہ چلناکسی صحرامیں ٹھنڈے پانی کاچشمہ تلاش کرنے کے مترادف ہے ۔بدقسمتی سے کسی حکومت نے اس بجلی کی کمی پوری کرنے یاسستی بجلی بنانے پرتوجہ نہیں دی اورنہ ہی کسی نے ترسیلی نظام کی خامیاں دورکرنے کی کوشش کی جورقم موجودہ نظام پرخرچ ہواہے اس رقم سے زیرزمین نظام بچھانا بھی ممکن تھا مگراس سے چوری رک جاتی اورواپڈاافسران کی اوپروالی آمدنی بندہوجاتی۔گزشتہ بیس برسوں سے ہماری قوم جنریٹرز،سولرسسٹم اوربیٹریوں وغیرہ پرجتنی رقم اڑاچکی ہے اتنی رقم سے پاکستان جیسے کئی ممالک بجلی کی مدمیں خودکفالت کی منزل حاصل کرسکتے تھے جنریٹرز،سولرسسٹمزاوربیٹریوں کاکام پائیدارنہیں ہوتاپہلے ہماری قوم نے دھڑادھڑجنریٹرزخریدے چائنااوریورپی ممالک سے تھوک کے حساب سے جنریٹرزدرآمدکئے گئے اب سولرسسٹم کی روایت پڑچکی ہے ہردوسرے گھر،دوکان اورمارکیٹ میں سولرسسٹم لگایاجارہاہے یہ تمام انتظامات چونکہ مستقل اورپائیدارنہیں ہوتے اسلئے کچھ ہی عرصہ بعدادراک ہوگاکہ خرچ کی گئی رقم ضائع ہوچکی ہے ہم نے دنیاسے تھوک کے حساب سے جنریٹرز،بیٹریاں یااس کامیٹریل اورسولرسسٹم درآمدکئے جس پرملک کاقیمتی ذرمبادلہ خرچ ہوا اورذرمبادلہ کے ذخائرکم ہوگئے ۔بلاسوچے سمجھے بیرونی دنیاسے امپورٹ کے سبب ہمارے ہاں ڈالرکی قیمت بھی ازحدبڑھ گئی اورملک معاشی بحران سے بھی دوچارہوا۔حکومت کوچاہئے کہ بجلی کاترسیلی نظام اپ ڈیٹ کرے،اسے مرحلہ وارزمین دوزسسٹم پرمنتقل کیاجائے جتنی رقم موجودہ نظام کی مینٹی ننس پرخرچ ہوتی ہے یہی رقم اسے زمین دوزکرنے پرخرچ کی جائے افسران کے اللے تللوں پرکڑی نظررکھی جائے بجلی چوری میں معاون افسران واہلکاران کونوکری سے فارغ کیاجائے تھرمل اورونڈپاورپرسرمایہ کاری کی جائے اوربجلی کی قیمت کم کی جائے جس سے ملکی معیشت کاپہیہ بھی رواں ہوجائیگااورعوام کوبھی سکون کاسانس نصیب ہوگا۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket