خیبر پختونخوا میں زرعی اراضی پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زراعت نے تفصیلی رپورٹ حکومت کو ارسال کر دی ہے، جس میں تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی کے مختلف اجلاسوں میں پشاور اور مردان کے ڈپٹی کمشنرز، ڈائریکٹر جنرل بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سیکرٹری زراعت نے تفصیلی بریفنگ دی، جس کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پشاور میں مجموعی طور پر 156 ہاؤسنگ سوسائٹیز موجود ہیں، جن میں سے 116 غیر قانونی ہیں، جبکہ زرعی اراضی پر قائم 81 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف مختلف علاقوں میں آپریشن بھی کیے گئے۔ اسی طرح ضلع مردان میں 135 ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم ہیں، جن میں سے 41 غیر قانونی ہیں، جبکہ 27 سوسائٹیز زرعی زمین پر قائم کی گئی ہیں۔ مردان میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز پر 11 کروڑ 20 لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ضلع چارسدہ میں غیر قانونی سوسائٹیز کی تعداد 71 جبکہ کوہاٹ میں 14 ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2017 میں خیبر پختونخوا میں زیرِ کاشت زرعی اراضی کا رقبہ 21 لاکھ ہیکٹر تھا، جو اب کم ہو کر 17 لاکھ ہیکٹر رہ گیا ہے، یعنی چار لاکھ ہیکٹر زرعی زمین کم ہو چکی ہے، جو ایک سنگین تشویشناک صورتحال ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے زراعت نے سفارش کی ہے کہ زرعی زمین پر قبضہ کر کے اسے ہاؤسنگ اسکیموں میں تبدیل کرنے کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے، جبکہ اس عمل کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر ٹاسک فورس بھی تشکیل دی جائے تاکہ زرعی اراضی کو محفوظ بنایا جا سکے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ زرعی زمین میں مسلسل کمی سے غذائی تحفظ، کسانوں کی معاشی حالت اور صوبے کی زرعی خود کفالت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے فوری اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔


