نیشنل ورکشاپ خیبرپختونخواکے شرکاء نے منگل کے روزگورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا۔ نیشنل ورکشاپ خیبرپختونخواکے شرکاء پر مشتمل وفد کی قیادت بریگیڈیئر مبشر احمد عباسی کر رہے تھے۔ورکشاپ کے شرکاء میں خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر سے سیاسی، مذہبی، میڈیا، کھیل،کاروباری شخصیات، اکیڈیمیا سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین شامل تھے۔12 دن پر مشتمل نیشنل ورکشاپ خیبرپختونخوا کا مقصد خیبرپختونخوا امن و استحکام کا قیام شامل ہے۔نیشنل ورکشاپ کے شرکاء نے اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی۔گورنر نے ورکشاپ کے شرکاء کو گورنر ہاؤس پشاور آمد پر خوش آمدید کہا۔شرکاء ورکشاپ نے گورنر خیبرپختونخوا سے صوبہ میں پائیدار امن و استحکام،دہشتگردی کے خاتمہ، صوبائی حقوق سے متعلق سوالات کئے ۔
ورکشاپ کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرفیصل کریم کنڈی نے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف ون پوائینٹ ایجنڈا پر آنا ضروری ہے،ہماری بدقسمتی ہے کہ افغانستان میں حالات کی تبدیلی سے ہمارا صوبہ شدید متاثر ہو رہا ہے، عالمی طاقتوں کے افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار ہمارے صوبہ میں دہشتگرد استعمال کر رہے ہیں۔گورنرنے کہاکہ تمام مسائل کی جڑ امن و امان نہ ہونا ہے،امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں،تمام شعبوں سے وابستہ افراد کوپائیدار امن کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کو جب ماضی میں اقتدار ملا تھا اس وقت بھی امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب تھی،پیپلزپارٹی کی اس وقت کی حکومت نے امن کا سفر شروع کیا اور قیام امن کیلئے تمام سیاسی جماعتوں، اداروں کو ساتھ بٹھا کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی تھی، سوات میں کامیاب آپریشن کر کے لوگوں کو عزت و وقار سے واپس اپنے گھروں میں بسایا گیا تھا۔گورنرنے کہاکہ آج پھر خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے سنگین چیلینجز کا سامنا ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حقوق کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر آگے بڑھنا ہو گا۔


