پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے “خیبرپختونخوا لوکل کونسلز ڈیلیمیٹیشن (ریپیل اینڈ ری آرگنائزیشن) ایکٹ 2026” متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت صوبے میں دوبارہ تین سطحی بلدیاتی نظام یعنی ڈسٹرکٹ کونسل، تحصیل کونسل اور ویلج یا نیبرہڈ کونسل کو بحال کیا جا رہا ہے۔
نئے قانون کے مطابق بلدیاتی اداروں کی نئی حدبندیاں مکمل طور پر ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ اس نظام میں ویلج کونسل کی آبادی 25 ہزار سے 30 ہزار جبکہ نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 35 ہزار مقرر کی گئی ہے، تاہم انتظامی سہولت کے پیش نظر 10 فیصد تک کمی بیشی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے تاکہ موضع یا مردم شماری بلاکس تقسیم نہ ہوں۔
قانون کے تحت ڈسٹرکٹ کونسل کو ایک اعلیٰ سطحی نگرانی اور کوآرڈینیشن کا ادارہ بنایا گیا ہے جو تقریباً 13 سرکاری محکموں کی کارکردگی کی نگرانی کرے گا، جبکہ تحصیل کونسل کو عملی اختیارات اور مکمل آپریشنل کنٹرول دیا گیا ہے جہاں 9 بڑے شعبوں میں براہ راست کام کیا جائے گا۔ ویلج کونسل کو نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبہ بندی اور کمیونٹی کی شمولیت سے منصوبوں کی تکمیل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
نئے ایکٹ میں مالیاتی نظام میں بھی نمایاں اصلاحات کی گئی ہیں۔ اس کے تحت ڈسٹرکٹ کونسل کے لیے علیحدہ فنڈ قائم کیا جائے گا جس میں صوبائی ترقیاتی پروگرام کا کم از کم 20 فیصد حصہ شامل ہوگا، جبکہ تحصیل کونسل کو بھی مالی خودمختاری دی جائے گی۔ اسی طرح ویلج کونسل کو تحصیل کے فنڈز میں سے کم از کم 10 فیصد حصہ فراہم کیا جائے گا۔ قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی کونسل کے فنڈز اس کی منظوری کے بغیر نہ تو روکے جا سکیں گے اور نہ ہی منتقل کیے جا سکیں گے۔
انتخابی نظام میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ویلج کونسل کے چیئرمین اور ممبران براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے، جبکہ ایک ویلج کونسل میں چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل ممبران کے علاوہ خواتین، کسان/مزدور، اقلیت اور ایک نوجوان کے لیے مخصوص نشستیں بھی رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح تحصیل چیئرمین کا انتخاب بھی براہ راست عوام کریں گے اور تحصیل کونسل میں نمائندگی ویلج کونسلز اور مخصوص نشستوں کے ذریعے مکمل کی جائے گی۔
قانون کے تحت نوجوانوں کی نمائندگی بڑھانے کے لیے ایک نیا طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے مطابق ویلج کونسل انتخابات میں حصہ لینے والے ٹاپ 5 فیصد نوجوان امیدواروں کو ڈسٹرکٹ سطح پر جبکہ اگلے 5 فیصد کو تحصیل سطح پر نمائندگی دی جائے گی۔
مزید برآں ہر ویلج کونسل کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبہ تیار کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں عوامی مشاورت کے ذریعے سکیمیں ترتیب دی جائیں گی۔ ان منصوبوں میں 80/20 ماڈل کے تحت 20 فیصد حصہ مقامی کمیونٹی فراہم کرے گی تاکہ منصوبوں میں عوامی شمولیت اور ذمہ داری کو فروغ دیا جا سکے۔
نئے قانون کے تحت 2020 کے سابقہ قواعد کو ختم کر دیا گیا ہے اور نئی حدبندیوں کی تکمیل کے بعد بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جائیں گے، جن کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بلدیاتی نظام کو مکمل اختیارات اور فنڈز نہ ملنے کے باعث اس کی کارکردگی متاثر رہی۔ اب نئے قانون کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بلدیاتی اداروں کو عملی طور پر بااختیار بنایا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور مقامی ترقیاتی عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔


