21 اور 22 فروری 2026 کی درمیانی شب پاکستان ائیر فورس نے افغانستان کے تین سرحدی صوبوں ننگرہار ، خوست اور پکتیکا میں ائیر سٹرایکس کیے جس کے دوران نصف درجن مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں انٹلیجنس رپورٹس یہ تھیں کہ وہاں کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانے یا جنگجو تھے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان کا موقف رہا کہ مارنے والوں کی اکثریت ان دہشت گردوں کی تھی جو کہ پاکستان پر حملوں میں ملوث رہے ہیں تاہم افغان عبوری ذمہ داران اور طالبان حسب معمول یہ کہتے پائے گئے کہ حملوں کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت عام لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ پاکستانی میڈیا پر بعض ان جانے پہچانے طالبان کمانڈروں کی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن کو ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا ۔
یہ حملے جس رات کیے گئے اس سے ایک روز قبل خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں ایک فوجی قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل گلفراز سمیت تین فوجی اہلکار شہید ہوگئے تھے ۔ اس واقعے کا ردعمل اتنا شدید سامنے آیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اسی روز پشاور پہنچ گئے جہاں انہوں نے اس واقعے سمیت سیکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ حکام سے بریفنگ لی اور اہم احکامات جاری کیے جن میں یقیناً مذکورہ فضائی کارروائیوں کا فیصلہ بھی شامل تھا ۔ اس سے قبل اسی مہینے جہاں ایک طرف اسلام آباد کے ایک مضافاتی علاقے میں واقع ایک امام بارگاہ کو داعش نے خودکش حملے کا نشانہ بناتے ہوئے 70 سے زائد نمازیوں کو شہید کیا گیا وہاں باجوڑ میں ایف سی کو خودکش حملے کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بچی سمیت تقریباً ایک درجن اہلکاروں کو شہید کیا گیا ۔ اسی روز ضلع شانگلہ اور بنوں ہی میں تقریباً نصف درجن پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا تھا ۔
معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان نے اسلام آباد خود کش حملے کے بعد افغانستان میں موجود طالبان ٹھکانوں کو 2025 کی طرح نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بعض دوست ممالک کی درخواست پر ایسا کرنے سے گریز کیا گیا تاہم اب کے بار حتمی فیصلہ کیا گیا کہ جب بھی پاکستان پر کوئی ایسا حملہ کیا جائے گا جس کی پلاننگ یا ریکروٹمنٹ افغانستان میں کی گئی ہو پاکستان افغانستان میں موجود ان مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا جہاں اس کی انٹلیجنس رپورٹس کے مطابق طالبان وغیرہ کے ٹھکانے موجود ہیں ۔
بنوں حملے کی ذمے داری حافظ گل بہادر گروپ نے قبول کی تھی اس لیے وزیرستان سے متصل افغان صوبے پکتیکا کو 2025 کی طرح پھر سے نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ دو تین اہم کمانڈرز سمیت درجنوں حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔
ان حملوں کے لیے ایف 16 جیٹ طیارے استعمال کیے گئے ۔ افغان عبوری حکومت کے مختلف عہدے داروں نہ نہ صرف ان کارروائیوں کی مذمّت کی بلکہ یہ بھی کہا کہ مناسب وقت پر پاکستان کو جواب دیا جائے گا ۔
ان حملوں سے دو تین دن قبل پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کھل کر کہا تھا کہ اگر افغانستان نے حملہ آور گروپوں کی سرپرستی نہیں چھوڑی تو پاکستان افغانستان کے اندر کارروائیوں میں ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا ۔ بنوں خودکش حملہ نے ان ائیر سٹرایکس کا راستہ ہموار کیا جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف 70 سے 90 افراد کی جانیں گئیں وہاں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید تلخی واقع ہوئی ۔
حملوں سے اگلے دن جہاں وزیراعظم شہباز شریف ، وفاقی وزراء اور اعلیٰ فوجی حکام نے مانسہرہ میں بنوں حملے میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل گلفراز کی نماز جنازہ میں شرکت کی وہاں پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک تفصیلی بیان میں جاری دہشتگردی اور افغانستان کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس کالعدم ٹی ٹی پی ، داعش خراسان ، القاعدہ اور سنٹرل ایشین دہشت گرد گروپوں کا مرکز بنا ہوا ہے اور ان گروپوں کو افغان عبوری حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف ہونے والے دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہوتی آرہی ہے اس لیے پاکستان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مزید تحمل سے کام لینے کی بجائے کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھائے ۔ صدر زرداری کے بقول اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس بھی بار بار اس بات کی نشاندھی کرتی رہی ہیں کہ افغانستان دہشتگردی کے مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے مگر اس کے باوجود نہ صرف یہ کہ پاکستان پر وہاں سے مسلسل حملے جاری رہے بلکہ افغانستان کی عبوری حکومت دہشت گردوں کی سہولت کاری اور سرپرستی سے بھی باز نہیں آئی ۔
افغان اور بھارتی میڈیا نے ان پاکستانی حملوں کو سویلین پر حملوں کی مہم چلاتے ہوئے انہیں جارحیت قرار دیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی حسب سابق ریاست کے دفاع کی بجائے وہی بیانیہ دہرایا جو کہ افغان اور بھارتی میڈیا چلاتا رہا ۔ یوں ایک بار پھر ان قوتوں کے درمیان ایک مضبوط نیکسس دیکھنے کو ملا ۔
پاکستان کے سیکورٹی حکام یہ موقف پیش کرتے رہے کہ جب تک افغانستان کی سرزمین پر حملہ آور گروپوں کی سرپرستی حاصل رہتی ہے تب تک پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا کیونکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور القاعدہ وغیرہ کے علاوہ بلوچستان پر ہونے والے حملوں میں ملوث بی ایل اے کو بھی افغانستان سے مدد ملتی آرہی ہے ۔ 2025 کے دوران خیبرپختونخوا میں مختلف فوجی کارروائیوں کے دوران تقریباً 190 ایسے دہشت گرد ہلاک کئے گئے جو کہ افغانی تھے اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دو تین بار ان کی تعداد سے متعلق تفصیلات بھی دیں ۔ دو حملوں کے دوران تو افغانستان کے ایک صوبے کے گورنر اور ایک اور اہم افغان عہدے دار کے بیٹوں کو بھی ہلاک کردیا گیا ۔ اسی طرح بلوچستان کے علاقے ژوب کی پاک افغان سرحد پر جب 50 سے زائد دہشت گردوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا تو ان میں سے دو درجن سے زائد افغان باشندے نکل آئے جن کی لاشیں افغانستان کی حدود میں پھینک دی گئیں ۔
دوسری جانب نومبر 2025 میں انکشاف ہوا کہ القاعدہ کے سربراہ سیف العدل تقریباً 400 القاعدہ جنگجووں اور اہلکاروں کے ہمراہ مختلف راستے استعمال کرتے ہوئے افغانستان پہنچ گئے ہیں ۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ انہوں نے صوبہ ننگرہار کو اپنا مرکز بنادیا ہے اور انہوں نے ضلع خیبر سے کچھ فاصلے پر واقع مشہور زمانہ تورا بورا کی غاروں اور ٹھکانوں کو پھر سے آباد کرنا شروع کردیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ سیف العدل نے افغانستان پہنچنے کے بعد قندھار میں رہائش پزیر افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ سے بھی ملاقاتیں کیں اور وہ ننگرہار آنے سے قبل دو تین دنوں تک ہیبت اللّٰہ کے ساتھ قیام پذیر رہے ۔
جنوری 2026 کو اقوام متحدہ کی ایک جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ افغانستان میں القاعدہ سمیت 25 کے لگ بھگ گروپ موجود ہیں جن میں سے 15 پاکستان پر حملوں میں ملوث ہیں ۔ ایک امریکی رپورٹ میں اسی عرصے کے دوران کہا گیا کہ القاعدہ پھر سے افغانستان میں منظم اور متحرک ہونے لگی ہے ۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا افغانستان میں کہ القاعدہ کے جنگجووں کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی ہے ۔ انہیں چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ضلع خیبر کے شورش زدہ علاقے ” تیراہ” میں ایک مجوزہ آپریشن کو لازمی قرار دیا تاہم صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی مخالفت اور مزاحمت اور موسمیاتی مسائل کے باعث اسے مؤخر کیا گیا کیونکہ ضلع خیبر کی سرحدیں نہ صرف یہ کہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ساتھ ملی ہوئی ہیں بلکہ خیبر کے حالات سے صوبائی دارالحکومت پشاور کی سیکیورٹی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔
بنوں خودکش حملہ آور پاکستان کی فضائی کارروائیوں سے دو دن قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں غزہ پیس بورڈ کے اجلاس کے دوران امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی اہم ملاقات کی جس میں دیگر معاملات کے علاؤہ پاکستان کی سیکورٹی صورتحال بھی زیر بحث آئی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکو روبیو نے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہر درکار امریکی تعاون کی یقین دھانی کرائی ۔ دوسری جانب چین ، ترکی اور سعودی عرب بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے کوشش کرتے رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے تاہم ان ممالک کو بوجوہ کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ کشیدگی کے بنیادی مسئلہ یعنی کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر اگر ایک طرف پاکستان زیرو ٹاولرنس کی پالیسی پر عمل پیرا رہا تو دوسری جانب افغان طالبان سرے سے یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہی نظر نہیں آئے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے ۔ ان کا موقف رہا کہ دہشت گردی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور یہ کہ افغانستان میں صرف وہ لوگ پناہ گزین ہیں جو کہ ان کے بقول فوجی کارروائیوں سے سرحدی افغان علاقوں میں منتقل ہوگئے تھے ۔ افغان حکام ان لوگوں کو ” مہمان” قرار دیتے رہے تاہم وہ اس حقیقت کو جھٹلاتے رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان سے جانے والے وفود کابل میں باقاعدہ نور ولی محسود اور دیگر کمانڈروں کے ساتھ مذاکرات اور ملاقاتیں کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ 2025 کے آخر میں پاکستان نے انٹلیجنس رپورٹس کے تناظر میں نور ولی محسود کو کابل میں نشانہ بنانے کی باقاعدہ کوشش بھی کی جو کہ حملے سے کچھ ہی دیر قبل گاڑی بدلنے کے باعث کامیاب نہ ہوسکی ۔ اسی طرح جماعت الاحرار کے بانی عمر خالد خراسانی کو دو دیگر کمانڈروں کے ہمراہ افغانستان ہی میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کا الزام جماعت الاحرار کی جانب سے نور ولی محسود گروپ پر ڈالا جاتا رہا جس پر لمبے عرصے تک دونوں گروپوں میں سخت کشیدگی بھی رہی ۔
فروری کے تیسرے ہفتے کے دوران اس قسم کی اطلاعات بھی موصول ہوتی رہیں کہ خیبرپختونخوا کے دو تین قبائلی علاقوں اورکزی ، خیبر اور وزیرستان میں نور ولی محسود گروپ اور جماعت الاحرار کے درمیان بعض معاملات پر باقاعدہ جھڑپیں ہوئیں ۔ اگر چہ کالعدم ٹی ٹی پی رسمی طور پر جھڑپوں کی ان اطلاعات کو پاکستان کے ریاستی پروپیگنڈے کا نام دیتی رہی تاہم متعلقہ حلقوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ نور ولی محسود گروپ اور جماعت الاحرار کے درمیان کافی عرصے سے بعض فیصلوں اور پالیسیوں پر اختلافات چلے آرہے ہیں ۔ افغانستان پر ہونے والے حملوں نے جہاں پاک افغان کشیدگی میں مزید اضافے کا راستہ ہموار کیا وہاں ان کارروائیوں نے کسی مجوزہ مذاکراتی عمل یا کوشش کے امکانات بھی لمبے عرصے تک ختم کردیے ۔ اس تمام تر تناظر میں بجا طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی اور افغان مخالف اقدامات میں آیندہ چند مہینوں کے دوران مزید شدت پیدا ہوگی ۔
( 23 فروری 2025 )

