Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, April 6, 2026

پاکستان کی افغان پالیسی

وصال محمدخان
پاکستان اورافغانستان د وپڑوسی مسلم ممالک کے درمیان تعلقات ابتداسے ہی اتارچڑھاؤکاشکارچلے آرہے ہیں۔ قیام پاکستان کی مخالفت سے لیکرتادم تحریرافغانستان کی تقریباً تمام حکومتوں کی پالیسیاں پاکستان مخالف رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ8عشروں میں دونوں ممالک کے درمیان درجنو ں بارسرحدی جھڑپیں ہوچکی ہیں مگرگزشتہ ماہ سے پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں،افغانستان کے اسلحہ ڈپوؤں اوردیگرفوجی ودفاعی تنصیبات کوفضائی کارروائی کانشانہ بنایا۔اس سے قبل پاکستان کی دہشتگردوں کیخلاف ایک کارروائی کے جواب میں طالبان رجیم نے افغان جنگجوؤں اوردہشتگردوں کی معیت میں پاکستان کے کئی سرحدی علاقوں پرباقاعدہ حملہ کردیا۔اس بھرپور حملے کے جواب میں پاکستان نے نہ صرف فضائیہ کاستعمال کرکے حملہ آوروں کوبھاگنے پرمجبورکیایاپھرٹھکانے لگادیااورانکے سازوسامان کو قبضے میں لیاگیایاپھرتباہ کردیا گیا جن میں امریکی بکتربنداوردیگرجنگی گاڑیوں سمیت سویت دورکے ٹینک بھی شامل ہیں،اسکے علاوہ مشہور زمانہ باگرام ائربیس کوبھی بمباری کانشانہ بنایاگیاجس سے یہ مشہورِزمانہ ائربیس ناقابل استعمال ہوچکاہے۔

اس تمام کارروائی میں پاکستان نے امریکہ اوراسرائیل کی طرح رجیم چینج یاطالبان رجیم کے ارکان کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں برسراقتدارٹولے سے کوئی سروکارنہیں ان سے قبل حامدکرزئی اور اشرف غنی حکومتوں کیساتھ بھی پاکستان مخلصانہ تعاون کی پالیسی پرعمل پیرارہا مگر افغانستان کاحکمران طبقہ نہ صرف پاکستان کیخلاف معاندانہ پالیسی اپناتارہا بلکہ سازشوں اور چیرہ دستیوں میں بھی مصروف رہا۔

حامدکرزئی اوراشرف غنی بلاسبب نہارمنہ پاکستان پرتبراء بھیجنااپنااولین فرض سمجھتے تھے اورانہوں نے بھارت کوپاکستان کے خلا ف پراکسی جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی۔2021ء میں موجودہ رجیم کی برسراقتدارآنے پرپاکستان نے سکھ کاسانس لیاکہ اب گزشتہ ادوارکی طرح افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔اس سے قبل پاکستان نے امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان معاہدہ کروانے میں اہم کرداراداکیا۔

قطرمیں ہونیوالے افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان ہونیوالے معاہدے میں یہ شق بھی شامل تھی کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔اسی لئے پاکستان کوطالبان رجیم سے توقع تھی کہ وہ پاکستان کے مفروراوردہشتگردگروہوں کوپاکستان میں بزدلانہ کارروائیوں سے روکے گا۔مگراے بساآرزوکہ خاک شدکے مصداق طالبان رجیم کے برسراقتدارآنے پرپاکستان میں دہشتگری کے واقعات میں اضافہ ہوا۔پاکستان نے سفارتی سطح پریہ معاملہ افغان رجیم کیساتھ بارہااٹھایا اور اسکی توجہ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اوراسکے نتیجے میں عام شہریوں سمیت سیکورٹی فورسز کے جانی نقصان کی جانب دلائی جس کے جواب میں طالبان رجیم چارسال تک ٹی ٹی پی وغیرہ سے لاتعلقی ظاہرکرتارہامگردرِپردہ ساجھے داری جاری رہی۔

پاکستان اس ساجھے داری سے لاعلم نہیں تھااسلئے وہ باربار طالبان رجیم کودہشتگردی کی پشت پناہی سے منع کرتارہا۔مگرطالبان رجیم بعدازاں کھل کر دہشتگردوں کی حمایت میں سامنے آیاتوپاکستان نے افہام وتفہیم کی پالیسی ایک طرف رکھ کرافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بمبار ی کی جس سے سیخ پاہوکرطالبان رجیم نے پاکستان کیخلاف باقاعدہ اعلان جنگ کرکے سرحدی علاقوں پرحملہ کیا پاکستان نے اسکے جواب میں مسلسل ایک ماہ تک افغانستان میں فوجی تنصیات اوردہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا۔پاکستان نے پانچ سال تک انتظارکیاکہ طالبان رجیم معقول بات سننے پرآمادہ ہواوراپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروادے مگرافغان طالبان کوئی معقول بات سننے،ماننے پرآمادہ نہ ہوئے بلکہ انہوں نے یہ ”پاکستان کااندرونی معاملہ ہے“کی گردان شروع کردی جس سے تنگ آمدبجنگ آمد پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے مفاہمت پرمبنی اپنی پالیسی تبدیل کی اورافغانستان کے اندردہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنانا شروع کردیا۔

پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے یہ پالیسی شفٹ اگرچہ دنیا میں حیرت بھری نظروں سے دیکھاجارہاہے مگر پاکستان کی موجودہ سول اورفوجی قیادت ”ہارڈسٹیٹ“کے فارمولے پرگامزن ہے یعنی اب پاکستان اپنے شہریوں کے اوپرہونیوالے ہرحملے کاجواب اسی طریقے سے دینے کی پالیسی پرعمل پیراہے۔یہ پالیسی پاکستان نے ایران کیخلاف بھی اپنائی جب ایران نے بلااشتعال پاکستان میں کارروائی کی تواسکے جواب میں ایران کے اندرحملہ کیاگیا۔ مئی2025ء میں بھارت نے ایک فالس فلیگ آپریشن کے بعدپاکستان کوحملے کانشانہ بنایاجس کے جواب میں اسکے دانت کھٹے کئے گئے اوراب افغانستان کواسی کے لہجے میں جواب دیاگیاجوخاصی حدتک کارگرثابت ہوا۔

افغانستان پرپے درپے حملوں سے امریکہ اورسوویت یونین کاچھوڑاہوادفاعی سٹرکچراوراسلحہ تقریباًتباہ ہوچکاہے اسکے علاوہ افغانستان میں دہشتگردی کے سٹرکچرکوبھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے جس سے اب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات 60فیصدتک کم ہو چکے ہیں۔اب افغانستان پاکستان کیساتھ مذاکرات کیلئے بھی تیارہے اوردہشتگردوں کولگام ڈالنے پربھی آمادگی ظاہرکررہاہے جس سے ظاہرہو رہا ہے کہ پاکستان کی مفاہمت اورنرمی پرمبنی پالیسی کے برعکس ہارڈسٹیٹ والی پالیسی زیادہ کارگرثابت ہورہی ہے جس سے دنیامیں پاکستا ن کے وقارمیں بھی اضافہ ہواہے اوراسے دہشتگردحملوں، بھارت کی چیرہ دستیوں اورافغانستان کے ذریعے پراکسی وار سے بھی خاصی حد تک نجات مل چکی ہے۔

پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی اسکے نقطہ نظرسے درست ثابت ہورہی ہے اورتوقع ہے کہ یہ پالیسی دہشتگردی سے نجات میں معاون ثابت ہوگی۔چین کی ثالثی میں ایک بارپھردونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔خداکرے کہ یہ کوشش کامیاب ہوتاکہ خطے کونصف صدی سے جاری خونریزی سے نجات ملے۔پاکستان نے اگرچہ حال ہی میں افغانستان کے حوالے سے اپنی دیرینہ پالیسی تبدیل کی ہے مگراسکے باوجودافغان رجیم کی جانب سے ماضی کے برعکس دانش وتدبرکامظاہرہ ہوتواسے مفاہمانہ پالیسی اپنانے میں دیرنہیں لگے گی کیونکہ پاکستان پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اُصول کاقائل ہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

پاکستان کی افغان پالیسی

Shopping Basket