ایبٹ آباد معلومات تک رسائی (RTI)، صحافتی اخلاقیات اور غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے چیلنجز پر تبادلہ خیال کے لیے ٹرسٹ فار ڈیموکریٹک ایجوکیشن اینڈ اکاؤنٹیبلیٹی (TDEA) کے “سیف، فری اینڈ ایفیکٹو میڈیا” پراجیکٹ کے تحت ویلفیئر ایسوسی ایشن جرید کے تعاون سے دی ملینیم یونیورسل کالج ایبٹ آباد میں طلبہ و طالبات کے لیے ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں 50 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔
پینل میں مختار جاوید (ایگزیکٹو ڈائریکٹر واج)، شہزادہ محمد اسامہ غزالی (پراجیکٹ مینیجر سیف میڈیا)، محمد ہارون تنولی (نمائندہ نیو نیوز)، خرم غیاث خان ایڈووکیٹ (صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پشاور بینچ ایبٹ آباد) اور اسماء فیاض (طالبہ کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد) شامل تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختار جاوید نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نشست کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی ای اے کا یہ پراجیکٹ ضلع ایبٹ آباد میں سرکاری معلومات تک عوامی رسائی کو مؤثر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق معلومات کی پیشگی فراہمی سے غلط معلومات اور ڈس انفارمیشن کے پھیلاؤ میں کمی آتی ہے اور باخبر شہریوں کا فروغ ممکن ہوتا ہے۔
اسماء فیاض نے آر ٹی آئی کے موضوع پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جبکہ محمد ہارون تنولی نے صحافیوں کی جانب سے دائر کردہ آر ٹی آئی درخواستوں اور درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کے باوجود بروقت اور مستند معلومات کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پراجیکٹ مینیجر شہزادہ محمد اسامہ غزالی نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19-A اور خیبر پختونخوا آر ٹی آئی ایکٹ 2013 کے تحت ہر شہری کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ان قوانین سے آگاہی حاصل کر کے درست معلومات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔
نشست کے دوران طلبہ نے مختلف سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حقائق پر مبنی معلومات کے حصول اور جعلی خبروں کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں گے۔ تقریب کے اختتام پر ادارے کی سربراہ مس ثمن شمیم نے ویلفیئر ایسوسی ایشن جرید اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آر ٹی آئی قوانین کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کریں۔


